الیکشن 1965: محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف دھاندلی میں کون کون ملوث تھے؟

رائٹر: سرمد سلطان
تاریخ میں کئی چہروں پر ایساغلاف چڑھارکھاہے۔۔کہ اب انکی تعریف کرنی پڑتی ہے۔۔اورانکاماضی ہمیں بھولنا پڑتاہے۔۔ایسےکئی کردار۔۔صدارتی الیکشن۔۔1965 کےہیں۔۔جن پر اب کوئی بات بھی نہیں کرتا۔۔اور نہ انکےبارےمیں کچھ لکھاجاتاہے۔۔یہ پہلا الیکشن تھا۔۔جس میں بیورکریسی اور۔۔اسٹیبلشمنٹ نےملکردھاندلی کی۔۔
1965کے صدارتی الیکشن میں پہلی دھاندلی خودایوب خان نےکی۔۔پہلےالیکشن۔۔بالغ رائے دہی کی بنیادپرکرانےکااعلان کیا۔۔یہ اعلان۔۔9اکتوبر1964کوہوا۔۔ مگرفاطمہ جناح کےامیدواربننکےبعد۔۔یہ اعلان۔۔انفرادی رائے ٹھہرا۔۔اورزمہ داری حبیب اللّہ خان پرڈالی گئی۔۔یہ پہلی پرل پول دھاندلی تھی۔۔
1964میں کابینہ اجلاس کےموقع پر۔۔وزراء نے۔۔خوشامدکی انتہاکی۔۔حبیب خان نے۔۔فاطمہ جناح کوایبڈوکرنےکی تجویزدی۔۔وحیدخان نے۔۔جووزیراطلاعات۔۔اور۔۔کنویشن لیگ کےجنرل سیکرٹری تھے۔۔تجویزدی۔۔ایوب کوتاحیات صدرقراردینےکی ترمیم کی جائے۔۔بھٹونے۔۔مس جناح کو۔۔بڑھیا۔۔ضدی کہا۔۔یہ تجاویزمستردہوئیں۔۔
ایوب خان نےالیکشن تین طریقوں سےلڑنےکافیصلہ کیا۔۔پہلامذھبی سطح پر۔۔انچارج۔۔پیرآف دیول تھے۔۔جنہوں نےمس جناح کےخلاف فتوےديئے۔۔دوسری انتظامی سطح پر۔۔سرکاری ملازم ایوب کی مہم چلاتےرھے۔۔تیسری عدالتی سطح پر۔۔مس جناح کےحامیوں پر۔۔جھوٹےمقدمات درج ہوئے۔۔عدالتوں سےانکےخلاف فیصلےلئےگئے۔۔
سندھ کےتمام جاگیردار گھرانےایوب کےساتھ تھے۔۔بھٹو۔۔جتوئی۔۔محمدخان جونیجو۔۔ٹھٹھہ کےشیرازی۔۔خان گڑھ کے مہر۔۔نواب شاہ کےسادات۔۔بھرچونڈی۔۔رانی پور۔۔ہالا۔۔کےپیران کرام ایوب خان کےساتھی تھے۔۔جی-ایم-سید۔۔حیدرآباد کےتالپوربرادران۔۔بدین کے فاضل راہو۔۔مس جناح کےحامی تھے۔۔یہی لوگ غدارتھے۔۔
پنجاب کے تمام سجادہ نشین۔۔سوائے پیرمکھڈ۔۔صفی الدین کوچھوڑکر۔۔باقی سب ایوب خان کےساتھی تھے۔۔سیال شریف کےپیروں نے۔۔فاطمہ جناح کےخلاف فتوی دیا۔۔پیرآف دیول نے۔۔داتادربار پر۔۔مراقبہ کیا۔۔اور کہاکہ۔۔داتاصاحب نےحکم دیا ہے۔۔کہ ایوب کوکامیاب کیاجائے۔۔ورنہ خدا۔۔پاکستان سےخفاہوجائے گا۔۔
آلومہارشریف کے۔۔صاحبزادہ فیض الحسن نے۔۔عورت کےحاکم ہونےکےخلاف فتوی جاری کیا۔۔مولاناعبدالحامدبدایونی نے۔۔فاطمہ جناح کی نامزدگی کو۔۔شریعت سےمذاق۔۔اورناجائزقراردیا۔۔ حامدسعیدکاظمی کےوالد۔۔احمدسعیدنے۔۔ایوب کو۔۔ملت اسلامیہ کی آبروقراردیا۔۔یہ لوگ دین کےخادم ہیں۔۔
لاھورکےمیاں معراج الدین نے۔۔فاطمہ جناح کےخلاف جلسہ منعقدکیا۔۔جس سےمرکزی خطاب غفارپاشا۔۔وزیربنیادی جمہوریت نےخطاب کیا۔۔معراج الدکن نے۔۔فاطمہ جناح پر۔۔اخلاقی بددیانتی کاالزام لگایا۔۔موصوف یاسمین راشدکےسسرتھے۔۔میانوالی۔۔کی ضلع کونسل نے۔۔فاطمہ جناح کےخلاف قراردداد منظورکی۔۔
مولانا غلام غوث ہزاروی۔۔صاحب نےایوب خان کی حمایت کااعلان کیا۔۔اور دعا بھی کی۔۔پیرآف زکوڑی نے۔۔فاطمہ جناح کی نامزدگی کو۔۔اسلام سے۔۔مذاق قراردیکر۔۔عوامی لیگ سے استعفی دیا۔۔اور ایوب کی حمایت کااعلان کیا۔۔سرحدمیں ولی خان۔۔مس جناح کےساتھ تھے۔۔یہ غدارتھے۔۔کاش ایسےغدارپیداہوتے رھیں۔۔
بلوچستان میں۔۔مری سرداروں۔۔اورجعفرجمالی کوچھوڑ کر۔۔سب فاطمہ جناح کےخلاف تھے۔۔قاضی محمدعیسی۔۔مسلم لیگ کابڑانام۔۔بھی فاطمہ جناح کےمخالف۔۔اورایوب کےحامی تھے۔۔انہوں نے۔۔کوئٹہ میں ایوب کی مہم چلائی۔۔حسن محمودنے۔۔پنجاب۔۔سندھ کے۔۔روحانی خانوادوں کو۔۔ایوب کی حمایت پرراضی کیا۔۔
خطۂ پوٹھوہارکے۔۔تمام بڑے گھرانے۔۔اورسیاسی لوگ ایوب خان کےساتھ تھے۔۔برئگیڈئرسلطان۔۔والد۔۔چودھری نثار۔۔ملک اکرم۔۔دادا۔۔امین اسلم۔۔ملکان کھنڈا۔۔کوٹ فتح خان۔۔پنڈی گھیب۔۔تلہ گنگ۔۔ایوب کےساتھ تھے۔۔سوائے۔۔چودھری امیر۔۔اورملک نواب خان کے۔۔جوفدوی کےدادا تھے۔۔اورالیکشن کےدودن بعدقتل ہوئے۔۔
شیخ مسعود صادق نے۔۔ایوب خان کیلئے۔۔وکلاہ کی حمایت کاسلسلہ شروع کیا۔۔کئی لوگوں نے۔۔انکی۔۔حمایت کی۔۔پنڈی سے راجہ ظفرالحق بھی ان میں شامل تھے۔۔اسکےعلاوہ میاں اشرف گلزار۔۔بھی فاطمہ جناح کے۔۔مخالفین میں شامل تھے۔۔
صدارتی الیکشن۔۔1965کےدوران گورنرامیرمحمدخان صرف چندلوگوں سےپریشان تھے۔۔ان میں شوکت حیات۔۔خواجہ صفدر۔۔والد۔۔خواجہ آصف۔۔چودھری احسن۔۔والد اعتزاز احسن۔۔خواجہ رفیق۔۔والد سعدرفیق۔۔کرنل عابدامام۔۔والدعابدہ حسین۔۔علی احمد تالپورشامل تھے۔۔یہ لوگ آخری وقت تک۔۔فاطمہ جناح کےساتھ رھے۔۔
صدارتی الکشن کےدوران فاصمہ جناح پر۔۔پاکسان توڑنےکاالزام بھی لگا۔۔یہ الزام زیڈ-اے-سلہری نے۔۔اپنی ایک رپورٹ میں لگایا۔۔جس میں مس جناح کی بھارتی سفیرسےملاقات۔۔کاحوالہ دياگیا۔۔اوریہ بیان کہ۔۔قائدتقسیم کےخلاف تھے۔۔یہ اخبار۔۔ہرجلسےمیں لہرایاگیا۔۔ایوب اسکولہراکر۔۔مس جناح کوغدارکہتےرھے۔۔
پاکستان کامطلب کیا۔۔لاالہ الااللّہ۔۔جیسی نظم لکھنےوالے۔۔اصغرسودائی۔۔ ایوب خان کےترانےلکھتےتھے۔۔اوکاڑہ کےایک شاعر۔۔ظفراقبال نے۔۔چاپلوسی کےریکارڈ توڑڈالے۔۔یہ وہی ظفراقبال ہیں۔۔جوآجکل اپنےکالموں میں سیاسی راہنماؤں کامذاق اڑاتےہیں۔۔سرورانبالوی۔۔اور دیگرکئ شعراءاسی کام میں مصروف تھے۔۔
حبیب جالب۔۔ابراھیم جلیس۔۔میاں بشیرفاطمہ جناح کےجلسوں کے۔۔شاعرتھے۔۔جالب نےاس کام میں شہرت حاصل کی۔۔میانوالی جلسےکےدوران جب۔۔گورنرکے۔۔غنڈوں نے۔۔فائرنگ کی۔۔توفاطمہ جناح ڈٹ کرکھڑی ہوگئیں۔۔اسی حملےکی یادگار۔۔بچوں پہ چلی گولی۔۔ماں دیکھ کےیہ بولی۔۔نظم ہے۔۔فیض صاحب خاموش حمائتی تھے۔۔
چاغی،لورالائی،سبی،ژوب، مالاکنڈ،باجوڑ،دیر،سوات،سیدو،خیرپور،نوشکی،دالبندین،ڈیرہ بگٹی،ہرنائی،مستونگ،چمن،سبزباغ،سےفاطمہ جناح کو۔۔کوئی ووٹ نہیں ملا۔۔ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایوب، فاطمہ کےووٹ برابرتھے۔۔مس جناح کےایجنٹ ایم خمزہ تھے۔۔اور اے-سی جاویدقریشی۔۔جو بعدمیں۔۔چیف سیکرٹری بنے۔۔
مس جناح کو۔۔کم ووٹوں سےشکست۔۔پنڈی گھیب میں ہوئی۔۔ایوب کے82۔۔مس جناح کے67ووٹ تھے۔۔اس الیکشن میں جہلم کےچودھری الطاف فاطمہ جناح کےحمائتی تھے۔۔مگرنواب کالاباغ کےڈرانےکےبعد۔۔پیچھےہٹ گئے۔۔یہانتک کہ۔۔جہلم کےنتیجےپردستخط کیلئے۔۔مس جناح کےپولنگ ایجنٹ گجرات سےآئے۔۔اسطرح کی دھونس عام رہی۔۔

حوالےکیلئےدیکھئے۔۔
ڈکٹیٹرکون۔۔ایس-ایم-ظفر۔۔میراسیاسی سفر۔۔حسن محمود۔۔فاطمہ جناح۔۔ابراھیم جلیس۔۔مادرملت۔۔ظفرانصاری۔۔فاطمہ جناح۔۔حیات وخدمات۔۔وکیل انجم۔۔
story of a nation..allana..A nation lost it's soul..shaukat hayat..Journey to disillusion..sherbaz mazari.اورکئی پرانی اخبارات۔۔
بشکریہ : ٹوئٹر پوسٹ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *