پاکستان کا سب سے پرانا پولیس سٹیشن ’پرانی انارکلی‘

اس عمارت کی تھوڑی بہت تزئین آرآئش کی گئی ہے جس کا آئیڈیا اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کے سابق چیئرمین کامران لاشاری نے دیا تھا

پاکستان کی تاریخ کے سب سے پرانے پولیس سٹیشن پرانی انارکلی کے مال خانے کے ریکارڈ سے ایک شخص کا عدالتی ریکارڈ بھی ملا ہے جسے 65 سال قبل اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔ اشتہاری قرار دیے جانے والے شحص کا نام عبد الرحمن ہے جو کہ پہلے مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ کا رہائشی ہے۔ مقامی پولیس نے اشتہاری ملزم کو غیرملکی شہری قرار دے کر اس مقدمے کو داخل دفتر کردیا۔

اس اشہتاری ملزم کو انٹرپول کے ذریعے واپس لانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ اس وقت کی مقامی عدالت نے ملزم عبد الرحمن کو ایک بچے کے ساتھ ریپ کے الزام میں اشتہاری قرار دیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق ایک صدی پہلے لاہور کے اسی تھانے میں بھگت سنگھ اور غازی علم دین کے خلاف مقدمات بھی درج ہوئے تھے تاہم ان مقدمات کا ریکارڈ اس تھانے کے مال خانے سے نہیں ملا۔

159 سال قبل پولیس سٹیشن کا قیام

قدیم لاہور کا تھانہ پرانا انارکلی سنہ 1860 میں معرض وجود میں آیا جبکہ اس وقت کے انگریز حکمرانوں نے 1861 میں پولیس ایکٹ نافذ کیا تھا جس کے بہت سے حصے اب بھی پاکستان اور انڈیا کے پولیس ایکٹ کا حصہ ہیں۔

اس تھانے کے مال خانے میں ایک ایسی ایف آئی آر کا ریکارڈ بھی موجود ہے جو کہ سنہ 1860 میں درج کی گئی تھی تاہم اس مقدمے کی تحریر کے بارے میں پولیس حکام زیادہ وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ کس زبان میں تحریر کی گئی ہے۔

اس تھانے کے موجودہ ایس ایچ او طاہر محمود کے مطابق اگرچہ اس ایف آئی آر میں کچھ حصے اردو کے بھی ہیں لیکن غالب امکان یہی ہے کہ یہ مقدمہ فارسی میں درج کیا گیا ہے اور اس مقدمے کی تحریر میں یہ بھی واضح نہیں ہو رہا کہ وہ کون سا شخص تھا جس کے تحت پہلا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

تھانہ انار کلی

پولیس حکام کے مطابق ایک صدی پہلے اسی تھانے میں بھگت سنگھ اور غازی علم دین کے خلاف مقدمات بھی درج ہوئے تھے

اس تھانے میں 159 سالہ ریکارڈ موجود ہے جو کہ سنہ 1860سے لے کر سنہ2019 تک کا ہے تاہم اس بارے میں اس بات کے شواہد نہیں مل سکے کہ اس تھانے کے مال خانے میں اس عرصے کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔

عمارت کا ماضی اور تزین و آرائش

اس تھانے کی عمارت آج بھی اسی حالت میں برقرار ہے جس طرح یہ تعمیر کے بعد سنہ1860 میں پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب اس عمارت کی تھوڑی بہت تزئین آرآئش کی گئی ہے جس کا آئیڈیا اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کے سابق چیئرمین کامران لاشاری نے دیا تھا۔

تھانہ انار کلی

اس تھانے میں 159 سالہ ریکارڈ موجود ہے جو کہ سنہ 1860سے لے کر سنہ2019 تک کا ہے

تھانہ پرانا انارکلی کی اراضی کے بارے میں جو پنجاب پولیس کے سربراہ اور مقامی افراد سے جو شواہد ملے ہیں ان کے مطابق یہ جگہ مغل بادشاہ شہنشاہ جہانگیر کی بیوی ملکہ نورجہاں کے والد مرزا غیاث الدین کی ملکیت تھی جو اُنھوں نے فوج کو دیا تھا۔

ایس ایچ او طاہر محمود کے مطابق ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ مغلیہ دور کے اختتام کے بعد یہ علاقہ کافی عرصے تک فوج کے کنٹرول میں رہا اور اس جگہ انگریز فوج کے گھوڑے باندھے جاتے تھے اور پھر کچھ عرصے کے بعد اس جگہ پر پولیس سٹیشن قائم کردیا گیا۔

اس تھانے میں مجموعی طور پر دس کمرے ہیں جن میں تھانے کے ایس ایچ او کے علاوہ محرر اور تفتیشی افسران کے کمرے ہیں اور اس تھانے کی عمارت میں دو حوالات کے کمرے ہیں جو تھانے کے مرکزی دروازے کے ساتھ ہی ہیں۔

تھانہ انار کلی

سنہ 1860 میں درج کی گئی ایک ایف آئئ آر کی تحریر کے بارے میں ہولیس حکام زیادہ وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ کس زبان میں ہے

آئی جی کے دفتر کا مقام شہنشاہ جہانگیر کی سواری کا تاریخی مقام

تھانے کی اس عمارت کے چند گز کے فاصلے پر پنجاب پولیس کے سربراہ کا دفتر ہے اور یہ جگہ بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس کے دفتر کے ایک اہلکار کے مطابق جس جگہ پر آئی جی پنجاب کا دفتر ہے اس کی دیواریں کافی اونچی ہیں اور یہ جگہ شہنشاہ جہانگیر کی سواری کے لیے مختص تھی جب وہ ہاتھی پر بیٹھ کر مرزا غیاث الدین کے گھر ان کی بیٹی نورجہاں کو ملنے کے لیے آیا کرتے تھے۔

تھانہ انار کلی

شواہد کے مطابق تھانہ پرانا انارکلی کی اراضی مغل بادشاہ شہنشاہ جہانگیر کی بیوی ملکہ نورجہاں کے والد مرزا غیاث الدین کی ملکیت تھی

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے اس تھانے کی حدود کم ہو کر رہ گئی ہے اور اب اس کی حدود میں 7 نئے تھانے بن گئے ہیں جو پہلے تھانہ پرانی انارکلی کی حدود ہوا کرتی تھی۔

ان نئے تھانوں میں تھانہ نیو انارکلی، تھانہ اسلام پورہ،تھانہ مزنگ، تھانہ گوال منڈی، تھانہ لٹن روڈ، تھانہ اچھرہ اور تھانہ لوئر مال شامل ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *