رمضان اور پکوڑے

" نزہت وسیم "

بچپن میں کسی بات یا کام کو بھول جانے پر جب ماں کی پیار بھری ڈانٹ پڑتی تو ایک دم وہ کام یاد آجاتا ۔ تب ہی اکثر نصیحت کے لیے ایک بے وقوف بھلکڑ کی کہانی سنائی جاتی تھی جواپنی خالہ سے ملنے دوسرے گاؤں جاتا ہے ۔ اس کی خالہ اسے پکوڑے بنا کر کھلاتی ہے ۔ پکوڑے کرارے اور خستہ ہونے کی وجہ سے اسے بہت پسند آتے ہیں وہ خالہ سے ان کا نام پوچھتا ہے ۔ خالہ جان اسے بتاتی ہیں کہ اسے پکوڑا کہتے ہیں ۔ بے چارے بھلکڑ میاں کو اپنی خامی کا پتہ ہوتا ہے گھر پہنچنے تک بھول نہ جاؤں سارا راستہ پکوڑے پکوڑے کہتا گھر کی راہ لیتا ہے اچانک سامنے ایک پانی کا کھالا آجاتا ہے جس کو پھلانگتے ہوئے عادت کے موافق ہنبلے کہتا ہے اور لفظ پکوڑا بھول جاتا ہے ۔
گھر آکر ماں سے کہتا ہے مجھے وہ بنا کر کھلاؤ جو خالہ نے کھلایا تھا ۔ اب ماں اس کا نام پوچھتی ہے تو اسے نام یاد نہیں آتا ۔ کبھی کیا اور کبھی کون سا نام لے کر پکوڑے کو یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ بالاخر ماں تنگ آ کر کہتی ہے “جا وے پکوڑے دی نک والیا تیرے بھلکڑ پن دی تے کوئی حد ای نئیں “ ( پکوڑے کے ناک والے تیرے بھلکڑپن کی کوئی حد نہیں ) اور وہ ایک دم چھلانگ مار کر کہتا ہے پکوڑا ہاں ماں پکوڑا ۔۔۔
تو جناب یہ اسی پکوڑے کا ذکر ہے جس کا  روزے سے  وہی تعلق ہے جو سردی کے ساتھ چائے  کا ۔ یوں تو پکوڑے سارا سال ہی کھائے جاتے لیکن انہیں افطاری کے ساتھ جو خاص نسبت ہے وہ کسی سے چھپی نہیں
پکوڑے کھا کر ان کے ذائقے کی تعریف ممکن ہے البتہ اس کی ذات و صفات کی متعین تعریف ممکن نہیں ۔
 پکوڑے کا لفظی معنی کیا ہے یہ کب وجود میں آیا ۔ اسے سب سے پہلے کس نے بنایا اور اس کو بنانے کا مقصد کیا تھا خاص طور پر افطاری میں اسے متعارف کروانے والا کون تھا اس پر تحقیق خاصا پیچیدہ کام ہے ۔ پکوڑے بنانے والے کے پیش نظر کوئی خاص ذائقہ تھا یا پھر وہ انتہائی پھوہڑ تھا کہ اس سے بیسن کا آٹا گوندھتے ہوئے زیادہ مقدار میں پانی ڈل گیا  یا پھر جلدی جلدی میں آٹے میں ہی ہنڈیا کے جملہ لوازمات ڈالنے لگا اور یہ کہ پکوڑا ایک مخصوص ڈش کے طور پر وجود میں آیا یا حادثاتی طور پراوراہم سوال کہ پکوڑا کن کن کن چیزوں سے مل کر بنتا ہے اور بن سکتا ہے؟
ان سب سوالوں سے ثابت یہ ہوا کہ پکوڑا بذات خود ایک دقیق اور تحقیق طلب موضوع ہے جسے ہم محققین پر چھوڑتے ہیں ۔ البتہ ہم جن پکوڑوں سے واقف ہیں ان کی بات کرتے ہیں ۔
 بیسن کے پکوڑے خاصے معروف ہیں لیکن دال کے پکوڑے بھی کم مشہور نہیں ۔ آلو کے پکوڑے ہیں  تو پالک کے بھی ہیں بینگن کے چٹ پٹے پکوڑوں کے ساتھ ہری مرچ کے پکوڑے بھی اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں بندہ ان کی صورت دیکھ کر جان لیتا ہے کہ بیسن کے غلاف میں چھپی یہ تیکھی بیگم ہی ہیں سبزیوں میں سے تو کسی کو بھی بیسن میں شامل کرکے پکوڑے بنالیے جاتے ہیں ۔ بندگوبھی ہو یا پھول گوبھی ، آلو ، پالک دھنیا ، مرچ سب راضی خوشی بیسن میں گھل کر اپنی ہستی فنا کرنے کو تیار رہتے ہیں اگرچہ اپنے مخصوص ذائقے سے دستبردار نہیں ہوتے یعنی “صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں “ والا معاملہ رہتا ہے اس سلسلہ میں گوشت بھی کسی سے پیچھے نہیں  سب ہی نے کبھی نہ کبھی چکن پکوڑے ضرور کھائے ہوں گے ۔ اب تو نوڈلز پکوڑے ، چائنیز پکوڑے ، چاولوں کے پکوڑے ، ڈبل روٹی کے پکوڑے اور ناجانے کن کن چیزوں کے پکوڑے وجود میں آچکے ہیں ۔
بنانے کو تو کسی کی ناک پر مکہ مار کر اسے بھی پکوڑا بنایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے ہمت درکار ہے جوابا اپنی ناک پکوڑا بننے کا پورا احتمال ہے
پکوڑے  بنانا بالکل بھی مشکل کام نہیں بیسن میں حسب ذائقہ نمک مرچ اور حسب پسند سبزیاں کسی بھی شکل میں کاٹ کر ڈالی جا سکتی ہیں ۔ آلوؤں کے گول قتلے ہوں یا لمبے چپس کی شکل کے یا چھوٹے بلاک کی شکل کے سب چلتے ہیں ۔ اسی طرح بینگن گول یا لمبے کاٹ کر ان پر اناردانہ اور چاٹ مصالحہ لگا کر انہیں بیسن کا لباس پہنا دیں کرارے پکوڑے تیار ۔ لمبی لمبی موٹی موٹی ہری مرچوں کا پیٹ چاک کرکے ان میں اناردانہ اور چاٹ مصالحہ تھوڑے سے لیموں کے رس کے ساتھ بھر کر ان کے پکوڑے بنائیں یا پھر من پسند ساری ہی سبزیوں کے چوکور چھوٹے چھوٹے ٹکروں کا کچومربنا کر بیسن میں ملا لیں سب کا ذائقہ ایک سے بڑھکر ایک ہوگا پیاز لچھوں کی شکل میں کاٹ کر ڈالیں یا باریک ، لمبا یا پھر چاپ کیا ہوا ہر صورت پکوڑے کو خستہ اور لذیذ بناتا ہے ۔ پالک کے پکوڑے بھی ثابت پتوں سے بنائیں یا باریک کاٹ کر بہت خستہ و کرارے بنتے ہیں ۔ پکوڑوں کے لیے جو بھی آمیزہ بنائیں نہ زیادہ پتلا ہو اور نہ ہی گاڑھا ۔ اس میں ثابت خشک دھنیا ، لیموں کا رس اور پسی ہوئی اجوائن بھی ذائقہ بڑھا دیتی ہے ۔
پکوڑے افطاری کے لیے بنائیں یا ساون کی بارشوں کے موسم میں ایک ہی تیل میں بار بار نہ بنائیں  اورجو بھی سبزی اس میں ڈالیں  اسے خوب دھو کر پاک صاف کرلیں ۔
پکوڑے چٹنی کے بغیر ادھورے ہیں ان کے ساتھ دھنیے ، پودینے ، ہری مرچ کی چٹنی ، املی آلو بخارے کی چٹنی یا پھر کم از کم ٹماٹو کیچپ ضرور ہونی چاہیے اس سے پکوڑے کھانے کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے ۔
افطاری کے علاوہ پکوڑوں کا اصل مزہ  تب آتا ہے جب آپ کسی ٹھنڈے ٹھنڈے علاقے کی سیر کے لیے نکلے ہوں ۔ سرد ہوائیں چل رہی ہوں بادل اتنے پاس سے گزر رہے ہوں کہ ہاتھ بڑھا کر چھو لیں ہر طرف خوبصورت نظارے ہوں کہیں پھول کھلے ہوں اورکہیں پانی کے جھرنے بہتے ہوں فضامیں خاموشی اور سکون ہوکبھی کبھی کسی پرندے کی سریلی آواز کانوں میں رس گھولتی ہو  کہ اچانک ہواؤں کے سنگ کہیں سے اڑتی ہوئی پکوڑوں کی خوشبو آپ کی پکوڑا جیسی ناک سے ٹکرائے اور دل انہیں کھانے کو مچل مچل جائے ۔ اونچے نیچے ٹیڑھے میڑھے راستوں سے گزر کر جب پکوڑوں کی ریڑھی پر پہنچیں تو بڑے سے نوٹ کے بدلے گن کرچند پکوڑے ملیں جن سے دل تو کیا پیٹ بھی بھر نہ پائے ۔ چکھنے چکھانے اور چھیناچھپٹی میں پکوڑے ہری جھنڈی دکھا جائیں ۔
یا پھر کسی لمبے سفر سے اکتائے ہوئے اچانک سڑک کے کسی موڑ پر پکوڑوں کی دکان یا ریڑھی پر نظر پڑجائے ۔ ہلکی ہلکی بھوک مٹانے کے لیے نظر پکوڑوں پر جمی ہو اور عقل بار بار لال بتی جلائے ۔ کڑاہی کا تیل کالا سیاہ نظر آرہا ہو پر دل بے ایمان ہوجائے گرم گرم دوچار پکوڑے کھانے میں کیا حرج ہے نیت ڈانواں ڈول ہوجائے اور نہ نہ کرتے بھی خستہ  پکوڑے بے پناہ تسکین کا سبب بن جائیں ۔
مجھے تو ان چند پکوڑوں کا ذائقہ مدتوں یاد رہتا ہے ۔ کیا آپ کو بھی ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *