جاوید حفیظ صاحب کے تازہ کالم پر تبصرہ

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

جاوید حفیظ صاحب کے تازہ کالم پر تبصرہ

خامہ بدست کے قلم سے
میاں صاحب کی جیل واپسی، اتنے دن گزر جانے کے بعد بھی تبصروں اور تجزیوں کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ سفارت کار صاحب نے اپنے ”پروفیشن“ کی مناسبت سے، اپنے کالم کا عنوان ”احوالِ عالم“ رکھا ہے، لیکن اس میں ”احوالِ عالم“ کم اور ”نوازشریف“ زیادہ ہوتے ہیں۔ اِدھریہ نام ان کے ذہن میں آیا، ادھر ان کا قلم بگٹٹ دوڑنے لگا(دولتیاں جھاڑنے کی بات ہم نے مانع ادب سمجھ کر نہیں لکھی)”میاں صاحب کی جیل واپسی“ کے عنوان سے موصوف کا تازہ کالم زیر نظر ہے۔ فرماتے ہیں: ہم نے تو آپ کو یہ رعائت (6ہفتے کی ضمانت پر رہائی) علاج کے لیے دی تھی، مگر آپ نے چند ٹیسٹ کرانے میں چھ ہفتے لگا دیے۔ کیا ٹیسٹ کرانا علاج کا حصہ نہیں اور یہ بھی کہ سات ٹیسٹ تھے جو اس دوران ہوئے اور یہ ٹیسٹ بھی پاکستان کے بہترین ڈاکٹروں نے کئے۔۔۔”جیل واپسی کا جلوس محدود تعداد میں تھا، اچھا ہوا کہ کوئی لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا نہ ہوا“۔ جلوس محدود تعداد میں ہونے کا دعوےٰ آپ کیسے کرسکتے ہیں؟ کیا آپ نے خود جاکر مشاہدہ کیا تھا؟ یا سرکاری ترجمانوں کے پراپیگنڈے پر اعتبار کرلیا۔ کروڑوں لوگوں کی نظریں ٹی وی سکرینوں پر تھیں اور صاف محسوس ہورہاتھا کہ جلوس کو بلیک آؤٹ کیا جارہاہے۔ ”جلوس محدود تعداد میں ہوتا“ تو سکرینوں سے اسے غائب کرنے کی نہیں، اس ”محدودیت“ کو نمایاں کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جاتی۔ دلچسپ بات یہ کہ موقع پر موجود الیکٹرانک میڈیا کے رپورٹر(اس میں نوازشریف مخالف چینلز کے رپورٹر بھی شامل تھے) مسلم لیگی کا رکنوں، لیڈروں اور عوام کی بہت بڑی تعداد کی بات کررہے تھے اور سٹوڈیوز میں بیٹھے، تبصرہ نگار اسے ناکام شوقرار دے رہے تھے۔ ان کے خیال میں یہ پانچ ہزار سے زائد نہ تھے اور شیخ رشید انہیں چار سو سے زائد ماننے کو تیار نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

”شریفوں کی سیاسی باتیں“

جائز تعریف کے حوالے سے، تنگدلی اور ایسی تنگدلی؟

”صحت“پر ”صحافت“۔ اور ایسی صحافت؟

بے پناہ نفر ت اور بے حساب حسرت اُبل رہی ہے

لیکن یہ نظامی صاحب کا نوائے وقت نہیں

مگر ارشاد صاحب کو یہ عارفانہ بات کس نے بتائی؟

عبدالقادر حسن اور۔۔۔’’دونوں بھائی‘‘

حیرت ہے، فارن آفس میں ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں!!

دوکالموں پر ایک نظر

ذوالفقار علی بھٹو ،عمران خان ،نوازشریف اور عثمان بزدار

”میاں صاحب چار گھنٹے ہشاش بشاش رہے، اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ ان کے امراض اتنے خطرناک نہیں، جتنے کہ بتائے جاتے ہیں“۔ ہشاش بشاش کا مطلب ہے کہ انہیں جیل جانے کا کوئی غم نہیں تھا۔ ”سج دھج“ کے الفاظ تو فردوس عاشق اعوان کے منہ سے بھی نکل رہے تھے۔ باقی رہی یہ بات کہ ان کے امراض اتنے خطرناک نہیں، تو سپریم کورٹ نے 6ہفتے کی ضمانت ملک کے اعلیٰ ترین ماہرین کی رپورٹس پر دی تھی، جن میں میاں صاحب کے صحت کے معاملات کو واقعی سنگین قرار دیا گیا تھا۔ ”اگر مسلم لیگ (ن) کے چند لوگوں کو پانامہ کیس کے جولائی2017کے فیصلے سے اختلاف ہے، تو یہ ان کا مسئلہ ہے، یہ قومی ایشو نہیں“۔۔۔میاں صاحب کی نااہلی کا جولائی2017کا فیصلہ پانامہ کیس کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اپنے صاحبزادے کی کمپنی سے تنخواہ کے مسئلے پر تھا، جو اگرچہ وصول نہیں کی گئی تھی، لیکن ”قابلِ وصول“ تو تھی اور بلیک لاڈکشنری کے تحت”قابلِ وصول“ بھی اثاثے کے ضمن میں آتی ہے، کاغذات نامزدکی میں جس کا بیان ضروری تھا۔”مسلم لیگ(ن) کے چند لوگوں“والی بات بھی دلچسپ ہے۔تمام تر مشکلات کے باوجود مسلم لیگ(ن) کے ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ ووٹ، جناب سفارت کار کے خیال میں ”چند لوگ“ تھے، ”مسلم لیگ کا نعرہ ہے، ووٹ کو عزت دو تو تحریک انصاف اور دیگر پارٹیوں کو آپ سے زیادہ ووٹ پڑے ہیں۔ انہیں بھی عزت ملنی چاہیے“۔”ووٹ کو عزت دو“ کا مطلب ہے کہ عوام کے ووٹوں سے آنے والی حکومت کو، اس کی آئینی مدت پوری کرنے دو، اسے مختلف دیدہ ونادیدہ حربوں اور ہتھکنڈوں سے ختم نہ کرو۔ (جس طرح میاں صاحب کی تینوں حکومتوں کے ساتھ ہوا) جہاں تک حالیہ الیکشن میں تحریک انصاف کو پڑنے والے ووٹوں کا تعلق ہے، اس کی حقیقت بھی سب کو (خود تحریک انصاف والوں کو بھی) معلوم ہے۔ اس کے باوجود مسلم لیگ(ن) نے مولانا فضل الرحمن سے اختلاف کرتے ہوئے، ان کی حکومت سازی کے حق کو تسلیم کیا۔ یہ الگ بات کہ اپنی نااہلی کے بوجھ تلے،خود دب کر رہ جائے۔”مسلم لیگ میں مزاحمت کی روایت ہمیں تو دور دور نظر نہیں آتی۔ ڈاکٹر خان صاحب کے دور میں یہ راتوں رات ری پبلکن بن جاتی ہے، فیلڈ مارشل ایوب خان آتے ہیں، تو یہ کنونشن لیگ کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے“ لیکن ان ادوار کی مسلم لیگ سے نوازشریف کا کیا تعلق؟ اور کیا آپ کو احساس ہے کہ یہ بات کہتے ہوئے آپ کا نشانہ کہاں تک جاتا ہے؟ ”جنرل مشرف اقتدار سنبھالتے ہیں تو یہی پارٹی بے شمار فصلی بٹیروں سے محروم ہوجاتی ہے“۔ اچھا کیا خود آپ نے انہیں فصلی بٹیرے کہہ دیا، جوہرپارٹی میں ہوتے ہیں۔ بھٹو صاحب کی انقلابی پارٹی بھی ان سے محفو ظ نہ تھی۔ یہ مزاحمت کرنے والے ہی تھے جو سات مئی کی شب اپنے جیل جاتے ہوئے لیڈر سے اظہار وفاداری کے لیے آئے تھے۔ ”میاں صاحب میں پنجابیت ضرورت سے زیادہ ہے اور پاکستانیت قدرے کم“۔ضرورت کے مطابق پنجابیت کتنی ہونی چاہیے؟ اور پاکستانیت قدرے کم ہے، تو کتنی کم ہے؟ آپ کا یہ اعتراف غنیمت ہے کہ ”میں ان کی پاکستان سے محبت کو چیلنج نہیں کررہا“۔۔۔ او ریہ بھی کہ ”میاں صاحب کے دور میں بہت سے ترقیاتی کام ہوئے، بجلی کا بحران بڑی حد تک ختم ہوا۔ موٹرویز پر بہت کام ہوا۔“

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *