ہنیا عامر: ’لوگوں کی کمزوریوں کا مذاق اڑانا غلط ہے‘

ایسی چیزیں جن کو ہم عیب سمجھ کر ان کے بارے میں عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں، ان پر پردہ ڈال کر رکھتے ہیں لیکن جب ان ’عیبوں‘ کے ساتھ جینا سیکھ جاتے ہیں تو کہیں عام زندگی میں یا سوشل میڈیا پر دوست احباب حتیٰ کہ انجان لوگ بھی ان کی نشاندہی کر کے کوئی نہ کوئی ایسی بات کہہ جاتے ہیں جو زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوتی ہے۔

لوگ ایسی دل دکھانے والی باتیں کیوں کہتے ہیں؟ انہیں کسی کا دل دکھا کر آخر کیا ملتا ہے؟ اور جن لوگوں کے بارے میں ایسی باتیں کی جاتی ہیں، انہیں یہ سب سن کر کیسا محسوس ہوتا ہے؟

یہ بحث پاکستانی سوشل میڈیا پر اس وقت چھڑی جب اداکارہ ہنیا عامر نے اپنے مداحوں کو بتایا کہ ان کی خوبصورتی بھی مکمل نہیں اور انھیں بھی ایکنی ( چہرے پر کیل مہاسے) جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

لیکن اسی بات پر ان کا مذاق اڑایا گیا اور انہیں ’دانے دار‘ کہا گیا۔

ہنیا نے اپنے انسٹاگرام پر بنا میک اپ والی تصاویر کے ساتھ ایکنی سے گزرنے کا اپنا تجربہ شئیر کیا اور اپنے مداحوں سے پوچھا کہ ’کیا صاف ستھری جلد ہی خوبصورت ہوتی ہے؟‘

اپنی پوسٹ میں ہنیا عامر کا کہنا تھا ’میں جانتی ہوں کہ پرفیکٹ نظر آنے کا خیال لوگوں کے لیے زیادہ پسندیدہ ہے لیکن خوبصورتی کے احساس کے لیے آپ کو ائیر برش والا بے داغ تصور نہیں چاہیے۔ کسی بھی شخص کو معاشرے کے طے کردہ فضول بیوٹی سٹینڈرڈز سے نمٹنے کا دباؤ محسوس نہیں کرنا چاہیے۔

’خوبصورتی اندر ہوتی ہے۔ اور ایسے افراد جو اس بنیاد پر کہ آپ کیسے دکھتے ہیں آپ کو کمتری کا احساس دلائیں، ان کی اپ کے اردگرد کوئی جگہ نہیں بنتی۔‘

اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنے مداحوں کو یہ پیغام دیا کہ اس طرح کی کسی خامی کو خود کو ڈیفائن نہ کرنے دیں اور نہ ہی اس کی وجہ سے اداس محسوس کریں۔

ہنیا

صبا قمر سے لے کر مطاہرہ، میشا شفیع، عاصم اظہر اور نومی انصاری سمیت پاکستان ٹیلی ویژن اور فلم انڈسٹری سے وابسطہ بہت سے خواتین و مرد حضرات نے اس طرح سے کھل کر بات کرنے پر ہنیا عامر کی بہادری کی تعریف کی ہے۔

لیکن جس وقت ہنیا کے مداح اور انڈسٹری والے، کھل کر اس بارے میں بات کرنے پر ان کی تعریف کر رہے تھے، اسی دوران اداکار یاسر حسین کے انسٹا گرام پر سوال جواب کے سیشن کے دوران ایک مداح نے ان سے ’ہنیا کے بارے میں ایک لفظ کہنے کو کہا۔‘ جس کے جواب میں یاسر حسین نے ہنیا کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا ’دانے دار۔‘

پہلے تو ہنیا نے ’معاف کیجیے گا میرے دوست کو۔ ان کو آج کل غیر مناسب مذاق کرنے کی عادت سی ہو گئی ہے‘ کہہ کر ٹال دیا۔

لیکن یاسر کو شاید سمجھ نہیں آئی۔ اور اس کے جواب میں انھوں نے ہنیا کی پوسٹ پر لکھا ’بس دوست کہہ دیا اسی لیے لکھا تھا۔ مذاق نہیں تھا، ایکنی کو اردو میں دانہ کہتے ہیں برگر۔‘

ہنیا یاسرجس کے جواب میں ہنیا نے ایک اور انسٹا سٹوری پوسٹ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ایسی چیزیں جن کے بارے میں ہم عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں، ہم انھیں ٹال دیتے ہیں لیکن لوگ یہ سب جانتے ہوئے بھی ان پر اس طرح انگلی اٹھاتے ہیں جیسے یہ کوئی بات ہی نہ ہو اور اس سب کے باوجود اس کا مذاق اڑانا انتہائی بری چیز اور غلط ہے۔‘

اس کے ساتھ ساتھ ہنیا عامر نے یہ بھی لکھا کہ لوگوں کو احساس ہونا چاہیے کہ ان موضوعات اور چیزوں پر بات کرنا اور ان کا مذاق اڑانا ٹھیک نہیں جن پر بات کرنے سے لوگ کتراتے ہیں۔

انھوں نے کہا ’یہ بیہودہ ہے اور بالکل بھی مزاحیہ نہیں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’مذاق اچھا ہے لیکن محتاط رہیں۔ ایسی بات جسے کوئی اپنی خامی سمجھتا ہو، اس کی نشان دہی کر کے اور انھیں دکھی کر کے کُول بننے کی ایکٹنگ مت کریں۔ یہ بے عزتی ہے۔ کسی کی تحقیر کرنا مذاق نہیں۔ میں نہیں ہنسی۔ اور کوئی دوسرا بھی نہیں۔‘

سوشل میڈیا پر ردِ عمل

بہت سے صارفین کو یاسر کے کمنٹس پسند نہیں آئے شاید اسی لیے پاکستانی سوشل میڈیا پر یاسر حسین کا نام دن بھر صفِ اول کے ٹرینڈز میں شامل رہا۔

فجر حسن کہتے ہیں کہ یاسر حسین کے لیے ایکنی مذاق ہو سکتا ہے لیکن ایسے افراد کے لیے نہیں جو اس کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہیں۔ ایسی چیز جس کے بارے میں کوئی عدم تحفظ کا شکار ہے، اس کی نشاندہی کرنا اور پھر اس کے بارے میں مذاق کرنا، مضحکہ خیز ہے۔

یاد رہے یاسر حسین اس سے بھی پہلے بھی مختلف مواقع پر اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے موضوع پر بننے والے ڈرامے ’اڈاری‘ کے ولن اداکار احسن خان کے بارے میں انھوں نے ہم ایوارڈز کے موقع پر کہا تھا ’اتنا خوبصورت چائلڈ مولیسٹر؟ کاش میں بھی بچہ ہوتا۔‘

اس ریمارک پر وہ خاصی تنقید کی زد میں آئے تھے۔ اور سوشل میڈیا صارفین بھلا ایسی باتیں کہاں بھولتے ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *