نگرانی کا خوف بن لادن کو ڈراتا رہتا تھا

osama compound واشنگٹن: پاکستانی پہاڑوں پر نیچے اترے ہوئے بادل شاید تمہیں امریکہ کے شکاری ڈرون سے بچا لیں لیکن تب کیا ہو گا اگر کسی جاسوس نے تمہاری بیوی کے کپڑوں میں کوئی مائیکرواسکوپک بگ داخل کر دیا؟
اسامہ بن لادن کے اپنی آخری کمین گاہ میں آخری سال، اس کے ان درست اندازوں کے سبب خوفزدہ گزرے کہ اس کی تلاش ایک بے رحم اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ دشمن کر رہا تھا۔
جیسے ہی بن لادن نے اپنے ایبٹ آباد والے مکان میں اپنے خاندان کو اپنے گرد جمع کرنے کی کوشش کی تو اس نے ہمیشہ سے زیادہ تفصیلی ہدایات جاری کیں کہ کس طرح وہ سب(اہل خاندان)امریکی ایجنٹوں کو راستہ فراہم کرنے سے بچ سکتے تھے۔
بدھ کو منظر عام پر لائے جانے والے اور سی آئی اے کی جانب سے اے ایف پی کو فراہم کئے جانے والے ایک خط کے مطابق۔۔ جو جداگانہ حیثیت میں اپنی سند کو ثابت نہیں کر سکتا۔۔ بن لادن نے ایران سے سفر کرکے اپنے پاس آنے والی اپنی ایک اہلیہ کو خبردار کیاکہ بالخصوص احتیاط کرے۔
26ستمبر 2010ء کو لکھے گئے ایک خط میں بن لادن نے کہا، ’’یہاں پہنچنے سے قبل، اُمِ حمزہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہر چیز کو پیچھے چھوڑ آئے، بشمول کپڑوں اور کتابوں کے، ہر اس چیز کو جو ایران مین اس کے پاس تھی۔۔۔ ہر وہ چیز جس میں کوئی سوئی بھی ممکنہ طور پر داخل ہو سکتی ہے۔‘‘
سی آئی اے کی اپنے ترجمے کے مطابق، اس نے کہا، ’’خفیہ طور پر دوسروں کی باتیں سننے کیلئے حال ہی میں کچھ چپس تیار کی گئی ہیں، وہ اتنی چھوٹی بھی ہو سکتی ہیں کہ آسانی سے ایک سرنج کے اندر چھپائی جا سکتی ہیں۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *