چینی کمپنی ہواوے، روبوٹ کا بازو اور ہیروں کا شیشہ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کمپیوٹر نیٹ ورکس کو ’غیر ملکی مخالفین‘ سے بچانے کے لیے ایک قومی ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا ہے، لیکن کہا جا رہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد صرف ایک کمپنی کو نشانہ بنانا ہے۔

ہواوے کو موبائل فون بنانے کے لیے پہچانا جاتا ہے اور حال ہی میں ایپل کے بعد یہ دنیا کی دوسرے سب سے بڑے سپلائیر بن گئے ہیں۔ لیکن چین کی یہ معروف ٹیکنالوجی کمپنی پسِ پردہ استعمال ہونے والا کمیونکیشنز کا بے تحاشا ساز و سامان بھی بناتی ہے۔

اس صنعت کے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر ان کو امریکہ میں یہ ٹیکنالوجی بیچنے سے روک بھی دیا جائے، اس کے باوجود بھی دنیا بھر کے 40 سے 60 فیصد نیٹ ورکس پر ان کا ہی اختیار ہو گا۔

لیکن اس کمپنی کے اتنا متنازع ہونے کی وجہ کیا ہے؟

پیچیدہ الزامات کا ایک جال جس میں بین الاقوامی حساس ادارے، چوری کیے گیے روبوٹ، ہیروں کی مدد سے بنایا گیا نہ ٹوٹنے والا شیشہ اور ایران کے ساتھ خفیہ کاروبار کا ذکر شامل ہیں۔

فائیو جی: بہت تیز، لیکنبہت غیر محفوظ؟

موبائل فون نیٹ ورکس میں اگلا انقلاب لانے واے سسٹم ’فائیو جی‘ مہیا کرنے کے لیے ہواوے کی دنیا بھر میں ممالک سے بات چل رہی ہے۔

موبائل فون

فائیو جی نیٹ ورک کے سسٹمز مہیا کرنے کے لیے ہواوے کی دنیا بھر میں ممالک سے بات چل رہی ہے

ڈیٹا کی ترسیل کا یہ نظام اتنا تیز اور موثر ہو گا کہ عین ممکن ہے کہ اس کو ہر طرح کے نئے سسٹم اور نئی ٹیکنالوجی میں استعمال کیا جائے، جیسے کہ بغیر ڈرائیور والی گاڑیاں۔

البتہ چین کے مخالفین کہتے ہیں کہ اگر اس فائیو جی کا بنیادی ڈھانچہ ہواوے کے ہاتھ میں ہو تو یہ اس نیٹ ورک کے ذریعے جاسوسی کر سکتے ہیں یا اس کو بند کر کے شدید انتشار بھی پھیلا سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے حکم سے پہلے بھی امریکہ نے مغربی دنیا میں اپنے حلیفوں پر ہواوے سے دور رہنے کا دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا۔

یہ دباؤ زیادہ تر ’فائیو آیئز‘ گروہ پر تھا، جو کہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ پر مشتمل ہے اور جن کے جاسوسی کے ادارے ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور آپس میں اکثر خفیہ اطلاعات بانٹتے رہتے ہیں۔

امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ وہ اس نیٹ ورک کے ایسے اراکین کے ساتھ مواد بانٹنا چھوڑ دیں گے جو کہ ہواوے کا فائیو جی استعمال کریں گے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے تنبیہ کی کہ ’اگر کوئی ملک اسے اپنے اہم اطلاعاتی سسٹمز میں استعمال کرتا ہے تو ہم ان کے ساتھ اطلاعات بانٹ نہیں پائیں گے۔‘

نیشنل سکیورٹی ایجنسی

ہو سکتا ہے کہ امریکہ کے جاسوسی سے متعلق خدشات اپنے طرز عمل پر مبنی ہو

ہواوے نے مسلسل کہا ہے کہ وہ کبھی چینی حکومت کے لیے جاسوسی نہیں کریں گے لیکن نقاد چینی قوانین کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کے تحت کسی کمپنی کا خفیہ اطلاعات نہ بانٹنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

لیکن امریکہ کے مالی معاملات کا بھی اس سے تعلق ہے۔

یہ کہا گیا ہے کہ اس پابندی سے امریکہ کے پاس معیار میں کمتر اور مہنگے متبادل رہ جائیں گے جن کی وجہ سے یہ فائیو جی کی ٹیکنالوجی میں بھی پیچھے رہیں گے اور امریکی کمپنیوں اور گاہکوں کو بھی نقصان ہو گا۔

یہ بھی عین ممکن ہے کہ امریکہ کے جاسوسی سے متعلق خدشات اپنے طرز عمل پر مبنی ہوں۔

امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے سابقہ کانٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن کے مطابق امریکی جاسوسی اداروں نے سالوں سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا ڈیٹا ہیک کیا ہوا تھا، جن میں گوگل اور یاہو بھی شامل تھے۔

سنوڈن کے مطابق امریکہ کی یہ کوشش تھی کہ ان کمپنیوں کی ’اینکرپشن‘ یعنی ان کی سکیورٹی کو کمزور بنایا جائے۔

ایسے میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ کوئی حکومت کسی ایسی کمپنی پر اعتبار کیوں کرے گی جو کسی دوسرے ملک میں واقع ہو۔

’روبوٹ آرم‘ سکینڈل

اگر تیز ترین وائے فائے نیٹ ورکس کے مسائل تھوڑے غیر واضح ہیں تو ہواوے کا ایک اور سکینڈل سیدھا سادھا ہے۔

وہ یہ کہ ان کے انجنئیر پر ایک روبوٹ کا بازو چوری کرنے کا الزام ہے جس کو فون کی سکرین چیک کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس ملازم کا کہنا تھا کہ ایک جرمن کمپنی ٹی موبائل کی ڈیزائن لیب سے نکلتے ہوئے یہ آلہ غلطی سے ان کے بستے میں گر گیا تھا۔

ٹی موبائل

ٹی موبائل نے ہواوے پر روبوٹ چوری کرنے کا الزام لگایا ہے

ٹی موبائل اس وقت ہواوے کا پارٹنر تھا لیکن انھوں نے ان کی بات پر یقین کرنے سے انکار کیا اور دونوں کمپنیوں کو عدالت سے باہر معاملات طے کرنے پڑے۔

یہ سکینڈل پھر سے اس وقت اجاگر ہوا جب بعد میں کچھ ای میلز سامنے آئیں جن سے ظاہر ہوا کہ شاید انجنئیر نے یہ اقدام خود سے نہیں لیے بلکہ ان کو چین میں بیٹھے سینئیر ایگزیکٹیوز کی طرف سے ہدایات آئیں تھیں۔

یہ ایک وجہ تھی کہ ہواوے کے چیف فائنینشل آفسر مینگ وانزھو کو گذشتہ سال امریکی وارنٹ پر کینیڈا سے گرفتار کیا گیا۔

ایران کے ساتھ تعلقات

مینگ وانزھو اب بھی خود کو امریکہ کے حوالے کیے جانے کے اقدام کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ان پر ایک اور الزام ہے جس میں ہواوے اور ایران کا تعلق جوڑا جا رہا ہے۔

یہ کہا گیا ہے کہ وہ ایک منصوبے کا حصہ ہیں جس کے تحت سکائے کوم نامی کمپنی کے ذریعے ایران پر امریکہ کی پابندیوں کو ناکام بنانے کی سازش کی جا رہی ہے۔

ایران

امریکہ نے ایران پر بھی پابندیاں زیادہ کر دی ہیں

ان پر عائد کیے گئے الزام میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے بینک اور امریکی حکومت دونوں سے ایران کے ساتھ بزنس ڈیلز سے متعلق جھوٹ بولا ہے۔

ہواوے کے بانی کی بیٹی مینگ نے خود پر لگائے گئے تمام الزامات رد کیے ہیں، لیکن امریکہ بھیجے جانے کی صورت میں ان کو 30 سالہ قید ہو سکتی ہے۔

ٹوٹی ہوئی سکرینز اور وعدے

لیکن امریکہ میں ہواوے کے مسائل یہاں ختم نہیں ہوتے۔

بلومبرگ کے مطابق ایف بی آئی نے ان پر انٹرنیشنل ٹریفک اِن آرمز ریگیولیشنز کی خلاف ورزی کرنے پر تحقیق شروع کر دی ہے۔ اس کی وجہ ہے شیشے کا ایک ایسا نمونہ جو کہ ہیروں سے مزین ہے اور جس کو توڑنا تقریباً غیر ممکن ہے۔

سکرین

ایک ایسا موبائل جس کی سکرین نہ توڑی جا سکے کسی بھی ٹیکنالوجی کمپنی کے لیے نعمت ثابت ہو سکتی ہے

اگر آپ نے کبھی اپنا موبائل گرایا ہے تو آپ جانتے ہیں کہ اس کی سکرین توڑنا کتنا آسان ہے اور اس کی مرمت کرنا کتنا مہنگا۔

ایک ایسا موبائل جس کی سکرین نہ توڑی جا سکے کسی بھی ٹیکنالوجی کمپنی کے لیے نعمت ثابت ہو سکتی ہے۔

اخان سیمی کنڈکٹر نامی کمپنی ہواوے کو ایک جعلی ہیروں سے بنایا گیا، جدید اور شدید مضبوط شیشہ مہیا کرنے کا معاہدہ طے کر رہی تھی۔

بلومبرگ کے مطابق ایک نمونہ صنعت کار کو کئی مہینوں بعد بری حالت میں لوٹا دیا گیا۔

ایف بی آئے کی تحقیق سے اخان سیمی کنڈکٹر کو شک ہوا کہ ہواوے یہ نمونہ تجزیے کے لیے امریکہ سے باہر لے گئی تھی۔

ہیروں سے مزین اشیا کو لیزر کے ہتھیاروں میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جس وجہ سے ان پر ممانعت ہے۔

لیکن چینی کمپنی ان سب الزامات کو رد کر چکی ہے۔

کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی

لیکن ان سکینڈلز، الزامات اور صدر ٹرمپ کی پابندیوں کے باوجود، ہواوے عالمی سطح پر اب بھی ایک بہت بڑی کمپنی ہے۔

امریکہ اور یورپ کی کمپنیوں کی قیمتوں کے مقابلے میں ہواوے کی سستی ٹیکنالوجی خاص طور پر افریقہ اور ایشیا میں اس کی بڑھتی ہوئی مارکٹ کو برقرار رکھے گا۔

ہواوے

ہواوے نے لگاتار کہا ہے کہ وہ کبھی چینی حکومت کے لیے جاسوسی نہیں کرے گی

امریکہ کے سب سے قریبی دوست ملک برطانیہ میں بھی ابھی تک فائیو جی نیٹ ورک بنانے کے لیے ہواوے کا استعمال کرنے پر بحث ہو رہی ہے۔

حال ہی میں برطانیہ کے وزیرِ دفاع کو غیر ضروری حصوں میں چینی تیار کردہ آلات استعمال کرنے کی وجہ سے نوکری سے نکال دیا گیا۔

یہ فیصلہ بھی فی الحال ہواوے کے مستقبل کی طرح غیر یقینی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *