کیا وفاداری جرم ہے؟

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

کیا وفاداری جرم ہے؟

خامہ بدست کے قلم سے

”اچھے ماتحت“۔ جناب اظہار الحق کی تازہ ”تلخ نوائی“ کا عنوان ہے اور حسبِ معمول یہ ”تلخ نوائی“ بھی ”طاقتوروں“ کے خلاف نہیں، زیر عتاب سیاسی رہنما اور اس کے ساتھ عہدِ وفا نبھانے والوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے نام نہیں لیا، لیکن اخبارت پڑھنے اور ٹی وی دیکھنے والوں کو معلوم ہے کہ غصہ سینیٹر پرویز رشید پرہے اور اس کا سبب پرویز کا یہ بیان ہے کہ ”مریم نواز ایک سیاسی کارکن ہیں، وہ سیاسی میدان میں بھرپور کردار ادا کرتی ہیں لیکن قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتیں“۔دانشور صاحب کو دکھ ہے کہ ”ہماری جمہوریت میں خاندان اہم ہے پارٹی اہم نہیں، ترقی یافتہ ممالک میں پارٹی اہم ہے، خاندان اہم نہیں“۔ لیکن معاف کیجئے، ترقی یافتہ ممالک نے یہ سفر راتوں رات نہیں کیا، اس میں انہیں کئی عشرے بلکہ صدیاں لگی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی، قیام پاکستان کے بعد شروع ہونے والا سیاسی وجمہوری عمل کسی مداخلت کے بغیر جاری رہتا تو ہم بھی اس مثالی جمہوریت کی منزل کو پاچکے ہوتے۔ یہاں تو قومی زندگی کا تقریباً نصف حصہ، غیر سیاسی ادوار پر مشتمل ہے، سیاستدانوں کو بدنام کرنا اور سیاسی جماعتوں کو کمزور تر کرنا جن کا بنیادی ہدف تھا۔ لیکن کسی خاندان کی خدمات کی وجہ سے، لوگ اسے اپنی محبت کا مرکز بنا لیتے ہیں تو یہ غیر جمہوری یا غیر سیاسی کیسے ہوگیا؟ جمہوریت عام آدمی کی رائے، اس کی پسند ناپسند کے بروئے کار آنے کا نام ہی تو ہے۔ ہم سری لنکا یا بنگلہ دیش کی مثال نہیں دیتے، ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کا دعویدار ہے کیا وہاں کا نگریس پر، اب بھی نہرو خاندان کی چھاپ نہیں؟ ملائشیا کے مہاتیر محمد بائیس سال سیاہ سفید کے مالک رہے اور سیاست سے ریٹائرمنٹ کے بعد،92سال کی عمر میں ملائشیا کے عوام نے انہیں ایک بار پھر منتخب کرلیا ہے تو کیا یہ غیرجمہوری اور غیرسیاسی ہوگیا؟ ترکی میں اردوان، دو بار وزیر اعظم رہے اور اب ایک طاقتور صدر ہیں۔آپ نے جن ترقی یافتہ ممالک کی بات کی ہے، امریکہ ان میں سرفہرست ہے اور وہاں آپ نے پہلے جان ایف کینیڈی، پھر ان کے چھوٹے بھائی رابرٹ کینیڈی اور پھر ان سے چھوٹے ایڈورڈ کینیڈی کا نام تو سنا ہوگا۔ امریکہ ہی میں 1988سے1992تک بش سینئر اور پھر2000سے 2008تک بش جونیئر تو ابھی کل کی بات ہے، صدر کلنٹن کی ہیلری، اباما کی وزیر خارجہ رہیں پھر ٹرمپ کے مقابلے میں صدارتی الیکشن لڑا اور جیتتے جیتتے رہ گئیں۔ پاکستان میں نوازشریف خلقِ خدا کی امیدوں کا مرکز بنے۔ ان کے خاندان کے لوگ اگر سیاست میں آئے تو انہوں نے اس کی بھاری قیمت بھی ادا کی۔ آپ نے بُرے وقت میں اپنے لیڈر (اور اس کے خاندان) کے ساتھ عہدِ وفا نبھانے والوں پر خاندانی وفادار اورخاندانی غلام کی پھبتی کسی۔ کیا وفاداری کوئی جرم ہے، ہمارے خیال میں تو یہ اعلیٰ ترین انسانی اوصاف میں شامل ہے، خصوصاً جب، قید وبند کی صورت میں اس کی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑے۔ پھر فرمایا: ”ان حاجبوں (درباریوں) کا اپنا مستقبل کیا ہے،کیا تاریخ انہیں یاد رکھے گی؟ بالکل یاد رکھے گی اور سنہری حروف میں یاد رکھے گی۔ مجروح سلطانپوری نے کہا تھا 

؎ مجروح لکھ رہے ہیں وہ اہلِ وفا کا نام

ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گناہ گار کی طرح

”کل ہماری تاریخ نے نام باقی رکھا بھی تو سعد رفیق کا، چودھری نثار علی خاں کارکھے گی جو خاندانی غلامی کا طوق پہننے کے لیے تیار نہ ہوئے“۔لیکن خود اپنے طے کردہ معیار کے مطابق آپ 1985سے2017تک چودھری نثار کے میاں نوازشریف کے ساتھ تعلق کو کیا نام دیں گے؟ 2017کے بعد ان کے کردار کو تاریخ کس طرح لے گی، اسے تاریخ پر چھوڑ دیں، لیکن فی الحال تو خود ان کے اپنے حلقے کی خلقِ خدا نے انہیں راندہئ درگاہ بنا دیا ہے اور بیچ میں یہ خواجہ سعد رفیق کہاں سے آگئے؟ آپ کے معیار کے مطابق تو وہ بھی خاندانی وفاداروں، خاندانی غلاموں کی فہرست میں آتے ہیں۔ ”اس طویل قامت باریش وفادار کو تو شاید(تاریخ کے) فُٹ نوٹ میں ایک سطر بھی نہ نصیب ہو جو مبدء فیض کا اس قدر ناشکر اتھا کہ وزیر اعظم بن کر بھی اپنے آپ کو وزیر اعظم نہ کہہ سکا“۔ ظاہر ہے، جناب کا اشارہ شاہد خاقان عباسی کی طرف ہے، جس نے ایک بار پھر وفاداری کی شاندار مثال قائم کی۔ 1999میں بھی اس نے ڈکٹیٹر کے تمام تر لالچ کے باوجود، نوازشریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے سے انکار کردیا اور اس کے عوض قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں اور اسی کردار کا مظاہرہ اب ایک بار پھر کیا، جسے آپ مبدء فیض کی ناشکری کہہ رہے ہیں۔ میاں صاحب کی معزولی کے بعد، شاہد خاقان عباسی کی وزارتِ عظمیٰ، میاں صاحب کے مینڈیٹ کا تسلسل ہی توتھا اور ان کی طرف سے میاں صاحب کو ”دلوں کا وزیر اعظم“ کہنا اسی صداقت کا اظہا رتھا۔ ویسے یہ اپنے اپنے ذوق کی بات ہے، تاریخ میں دونوں کا ذکر آئے گا، کچھ کا موقع پرستوں، ابن الوقتوں، مفاد پرستوں اور چڑھتے سورج کے پجاریوں کے طور پر اور کچھ کا ابلِ وفا کے باب میں۔ اب یہ اپنے اپنے ذوق اور اپنی اپنی قسمت کی بات ہے کہ کون کس باب میں اپنا نام لکھوانا چاہتا ہے اور کس کے حصے میں، کس کی تعریف آتی ہے۔ آپ اپنا کام کرتے رہیں،”خاندانی وفاداروں“ کو اپنی وفانبھانے دیں۔

کوئی محمل نشیں کیوں شادیا ناشا د ہوتا ہے

غبارِ قیس خود اٹھتا ہے، خود برباد ہوتا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *