حضور! میں عورت ہوں فیمنسٹ نہیں

" عائشہ جہاں زیب  "

 کیسے یقین دلاؤں کہ میں آج کی عورت ہوں. میں اس زمانے کا صدیوں سے ظلم دیکھتی آئی ہوں لیکن میں عورت ہوں فیمنسٹ نہیں۔

حضور! اس معاشرے میں، میں نے عورت ہو کر بھی سب سے زیادہ عورت ہی کا حق چھینا ہے. عورت ہو کر عورت ہی پر تہمت لگائی ہے۔ مرد کو ہر حال میں اچھا ہی کہا ہے اور برائی ہمیشہ عورت ہی کے  ذمے لگائی ہے۔ میں نے کبھی دوسری عورت کو عورت نہیں سمجھا اور اسی کے گھر میں آگ لگائی ہے۔ میں خاموشی سے عورت پر ظلم دیکھتی آئی۔

میں آخر میں عورت ہوں فیمنسٹ نہیں ۔

جناب! عورت اس ملک میں ایک کٹھ پُتلی جیسی  ہے۔ اک سجی سجائی بے زبان گڑیا ہے۔ ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں یہاں عورت کو ناچتے تو دیکھا جا سکتا ہے مگر وہ اگر بولے تو یہ برداشت نہیں کیا جاتا۔ عورت کو مرد کی بانہوں میں جھولتا تو دیکھ سکتے ہیں مگر پڑھتے اور ترقی کرتے ہوئے  نہیں دیکھ سکتے۔ عورت کو پیدا کر سکتے ہیں مگر سنبھال نہیں سکتے.

یہ سب سمجھتی جا رہی ہوں۔ میں عورت ھوں فیمنسٹ نہیں ہوں۔

کم عمر لڑکیوں کی شادی کا بہت چرچا ہے آج کل، کہتے ہیں جو لڑکی ناک صاف نہ کر سکے اس کی شادی کروا دو! ارے بھئی  لڑکی ہے کوئی لکڑی کی گڑیا تو نہیں کہ کسی کے بھی حوالے کر دو۔ کہیں اپنوں کے ہاتھوں لٹ جائے کہیں غیروں کے۔کہتے ہیں مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ صحیح کہتے ہیں! لیکن یہ کیوں کہتے ہیں کہ بوڑھے مرد سے کمسن بچی کو بیاہ دو؟

کیا میں عورت ہوں یا میں فیمنسٹ ہوں؟

محترم! ذرا یہ تو بتائیں کہ یہ چو لہے عورت پر ہی کیوں پھٹتے ہیں؟ قتل کے بدلے میں عورت کو ہی کیوں خون بہا بنا دیتے ہیں؟ پنچایت کے فیصلوں میں یہ اونچے شملوں والےعورت ہی کیوں بانٹ دیتے ہیں؟ بیٹے کی پسند کی شادی میں بیٹی کو ہی کیوں زبردستی  جہنم میں جھونک دیتے ہیں؟ نکاح کے مقدس نام پر عورت ہی کیوں بیچی جاتی ہے؟ بازار میں دام عورت کا ہی کیوں لگتا ہے؟ کہیں غیرت کے نام پر مار دی جاتی ہے تو کہیں روحانی کتاب سے اس کی شادی کروا دی جاتی ہے۔ وہ  سب عورتیں ہی ہیں جنھیں اس معاشرے میں ونی کر دیا جاتا ہے،کیا کسی مرد کو کیا ہے؟

سرکار! عورت کے ساتھ نت نئے  کھیل کھیلے جاتے ہیں ۔ اس کے استحصال کے اشتہار لگوائے جاتے ہیں. عورت مارچ کے نام پر، آزاد خیال عورتوں کو آپس میں لڑوا کر لطف اٹھایا جاتا ہے۔ کلف لگے کُرتوں کے گندے کرتوت نظر آجاتے ہیں جب شادی کے دھوکے  میں کمسن لڑکیوں کو باہر لے جایا جاتا ہے، اوروں کے بستر اور راتیں سجائی جاتی ہیں، تب یہ مرد کہاں ہوتے ہیں ۔کیوں عورت کی عزت کے علم بردار نہیں بنتے؟ کیوں اس کا تحفظ نہیں کرتے ؟ عورت آوارہ ہے بدچلن ہے کیوں کہ وہ بے سہارا ہے۔ واہ! پھر بھی کہنے کو عورت ہوں ، میں فیمنسٹ نہیں ہوں۔

مگر جناب والا میرا سوال ادھورا ہے۔ میں عورت ہو کر بھی فیمنسٹ کیوں نہ ہوں؟ اس معاشرے کی مظلوم عورتوں کے حال پر نہ روؤں؟ جب ان کو بدکردار کہہ کر ان پر تیزاب ڈالا جاتا ہے۔ اُن کے لیے آواز نہ اٹھاؤں جنھیں نکاح کے بہانے باہرکے ممالک میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ اس کا حق اسے نہ دلاؤں  کہ جب نکاح کے کاغذ پر حق مہر کے خانے پر نکاح خواں خود سے لکیر لگا دیتے ہیں کہ وہ اپنا حقِ زوجیت مانگ لیتے ہیں۔ چپ سادھ لوں جب میری قوم کی بچیوں کی لاشیں جلی ہوئی کبھی کسی نالے میں تو کبھی کسی کوڑے کے ڈھیر پر پڑی ملیں. کیا بھائیوں سے اپنا حق مانگنے والی بہن کے سینے میں گولی اترنا ہی اس کا انعام ہے؟

کیا عورت کا ظلم عورت کے خلاف دیکھتی رہوں؟ کیا میں اس معاشرے کی عورت بنوں عورت کے لیے  فیمنسٹ نہ بنوں؟

مگر میں تو عورت ہوں نا، فیمنسٹ نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *