ایک بار پھر جنگ ؟

پابندیاں، دھمکیاں، ہتھیاروں کی تیاری، الزامات یہ سب چیزیں جو ایران کے خلاف آزمائی جا رہی ہیں یہ سب بی فلم میں ہم کئی بار دیکھ چکے ہیں۔ یہ سب چیزیں اس حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے تحت 16 سال قبل عراق جنگ شروع  کرنے سے قبل اختیار کی گئی تھی۔ ہزاروں جانیں اور کھربوں ڈالر ضائع کرنے کے بعد  بھی دنیا اب اس وقت سے کہیں زیادہ بری جگہ بنی ہوئی ہے۔ لیکن بڑی طاقتیں کبھی اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتیں ۔ عراق سے قبل  ویتنام جنگ کی مثال ہمارے سامنے ہے جس میں 60 ہزار سے زائد امریکی اور لاکھوں ویتنامی  عوام لقمہ اجل ب گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے اپنی آزادی سے آج تک کے 239 سال کےعرصہ میں امریکہ نے صرف 17 سال امن کے ساتھ گزارے۔ باقی سارا وقت دنیا بھر کے مختلف ممالک میں چھوٹی بڑی جنگیں لڑنے میں صرف ہوا۔ چھوٹے اور نہتے ممالک پر آگ برسانے سے لیکر پانامہ میں مداخلت کے بہادرانہ اقدامات تک امریکہ نے اس کی فوجی طاقت  استعمال کر کے نہتے اور اپنے آپ کا دفاع نہ کر سکنے والے ممالک پر اپنی مرضی مسلط کی ہے۔ لیکن کبھی کبھار اس کا سامنا ایسے دشمن سے رہا  ہے جنہوں نے اسے مزاحمت کے ذریعے مشکلات سے دو چار کیا ہے۔ نارتھ ویت نامیوں نے امریکہ کو  سکھایا کہ ان کی طاقت میں بھی خامیاں ہیں ۔ یہی سبق عراقی افواج نے بھی امریکہ کو سکھایا۔

اور اب طالبان امریکہ کو اپنی 18 سالہ افغان جنگ سے شکست کے ساتھ گھر لوٹنے پر مجبور کرنے کی پوزیشن میں آ چکے ہیں ۔ حال میں طالبان اور امریکہ کے بیچ جاری مذاکرات اس امر کے عکاس ہیں کہ  امریکہ اب افغانستان سے نکلنے کی خواہش رکھتا ہے۔ ٹریک ریکارڈ کو دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ٹرمپ کے سکیورٹی ایڈوائز جان بولٹن اور مائیک پومپیو، امریکی سیکرٹری خارجہ  جیسے لوگ کیسے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف کامیابی حاصل کر سکتے ہیں؟  مان لیا کہ وہ نظریاتی ہاکس ہیں اور اسرائیل اور سعودی عرب کی طرف سے ایران پر حملہ کے لیے بے چین ہیں  لیکن مسلح کاروائی کوئی پارک میں ٹہلنے جیسی چیز نہیں ہوتی۔ جب صدام حسین نے 1980 میں عراق پر حملہ کیا تو ایرانی افواج نے ثابت کیا کہ انہیں اتنی آسانی سے ہرایا نہیں جا سکتا۔ 8 سال کی خونریز جنگ کے بعد ، وہ بھی ایسے دشمن کے خلاف جسے ایک بڑی طاقت کی سرپرستی حاصل تھی  اور اس طاقت کی طرف سے دشمن کو کیمیکل ہتھیار بھی مہیا تھے، یہ جنگ پھر بھی کسی پارٹی کی فتح کے بغیر ختم ہوئی۔  اس وقت سے اب تک ایران نے بہت بہتر ہتھیار بنا لیے ہیں اور ان کی فوج بھی  کافی مہذب اور بہتر ہو چکی ہے۔ ان کے بحری اثاثوں میں 100 سے زیادہ چھوٹی اور تیز کشتیاں شامل ہیں جن میں اینٹی شپ میزائل  لے جائے جا سکتے ہیں اور وہ خود کش حملوں کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہیں، ان کے پاس ہزاروں میزائل ہیں جو کوسٹ پر موجود  بے شمار غاروں سے فائر کیے جا سکتے ہیں ۔ اس لیے اگرچہ امریکہ پہلے حملے میں ہی خاطر خواہ تباہی کر سکتا ہے لیکن اس کا ایران کی طرف سے جواب بھی بہت ہیبت ناک ہو گا۔ علاقے میں امریکی اڈے ایرانی حملوں کے حصار میں آ جائیں گے۔

اگر اسرائیل بھی امریکہ کے ساتھ مل کر حملوں میں شامل ہو جاتا ہے تو لبنان سے حز ب اللہ بھی اسرائیل پر بڑے حملے کر سکتی ہے۔ مڈل ایسٹ میں حز ب اللہ واحد طاقت ہے جس کے خلاف اسرائیل کبھی لڑنا نہیں چاہے گا۔ یہ جماعت بہت مسلح، جنگ کے لییے تیار، مستعد اور تربیت یافتہ ہے اور اسرائیلی اہداف کو بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ان سب محرکات کو سامنے رکھتے ہوئے  آخر امریکہ ایران پر حملے کے لیے کیوں تیاری کر رہا ہے؟  ظاہری بات ہے اس کے پیچھے اسرائیل ملوث ہے جو امریکہ کو  ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے خظرات کا حوالہ دے کر ہر وقت ایران پر حملہ کرنے پر اکساتا رہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 2015 میں امریکہ سے ہونے والے معائدے کے بعد سے ایران نے یورینئم کی افزائش پر کام روک دیا ہے۔ لیکن نیتن یاہو نے ٹرمپ کو آمادہ کر لیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو سرے سے ہی ختم کیا جائے  یا پھر اس پر ہوائی حملے کیے جائیں۔

سعودی عرب ایک عرصہ سے ایک ہی رٹ لگائے جا رہا ہے۔ سعودی یہ جانتے ہیں کہ اربوں روپے کے ہتھیار خریدنے کے باوجود  ان کی افواج ایران کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اس لیے وہ اپنے دشمن ایران سے نمٹنے کے لیے امریکہ کو حملہ پر اکساتے رہے ہیں۔

پچھلی جنگی مہمات میں اس قدر مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود امریکی ایک نئی جنگ میں کیوں کودنا چاہتے ہیں؟ امریکی ڈی این اے میں ایسا کیا ہے جس نے ملک کو اس قدر تشدد  کے راستے پر ڈال دیا ہے؟ امریکی جنگجو سفارت کاروں کو موقع کیوں نہیں دیتے کہ وہ  بات چیت کے ذریعے اختلافات کا حل نکال سکیں؟

میں نے ہمیشہ اس تخلیقی صلاحیت کی تعریف کی ہے جس کی وجہ سے آرٹس اور سائنس میں امریکہ نے اس قدر فتوحات حاصل کی ہیں۔ لیکن جس طرح ہم آئے روز شدت اور طاقت کے استعمال کو دیکھتے ہیں  تو یہ ہمارے لیے ایک پریشان کن صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔فوجیوں کی طرف سے سیاہ فارم لوگوں کا قتل، نفسیاتی مریضوں  کی طرف سے بارز سکولوں اور دوسرے عوامی مقامات پر فائرنگ کے واقعات امریکہ کی  حقیقت بیان کرتے ہیں۔

اگرچہ امریکی افواج ابھی تک میدانمیں نہیں اتری ہیں  لیکن پھر بھی عوام کے دل میں ان کے لیے عزت ہے۔  جو ظلم انہوں نے قیدیوں پر کیے ہیں اس پر ان پر تنقید کرنے سے سیاستدان خوف زدہ رہتے ہیں۔ امریکی جرنیل پروموشن اور میڈل کی خاطر  بار بار سیاستدانوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ  فتح بہت قریب ہے  اور کچھ ہی سال اور تھوڑی سی جانوں کی قربانی کے بعد فتح ہمارے قدموں میں ہو گی۔ لیکن جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے، سال گزرتے جاتے ہیں اور فتح اتنی ہی دور رہتی ہے۔ اور یہی صورتحال رہتے نئی جنگ کی باری آ جاتی ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *