ملک پاکستان میں لال بجھکڑاورشیخ چلی ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں

" لیاقت علی ایڈووکیٹ "

یہاں ایک عورت آتی اور دعوی کرتی ہے کہ اس کے پیٹ میں موجود بچہ تلاوت قرآن کرتا ہے۔پاکستان کے ہر شہر میں لوگ اس کی زیارت اور اس کے پیٹ میں موجود مبینہ بچے کو تلاوت کرتے ہوئے سننے کے لئے کثیر تعداد میں جع ہوتے اورنعرہ تکبیر بلند کرتے ہیں۔ اس عورت کو لاہور کی باد شاہی میں مدعو کیا جاتا ہے اور وہاں موجود علمائے کرام اس معجزہ کی تائید کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد پتہ چلتا ہے کہ وہ انڈونیشین عورت تو فراڈ تھی اس کے پیٹ میں تو سرے سے کوئی بچہ ہی نہیں تھا اس نےایک چھوٹا ٹیپ ریکارڈ اپنے جسم کے پوشیدہ حصے میں چھپایا ہوا تھا اور پیٹ میں بچے کی بجائے ٹیپ ریکارڈر تلاوت کرتا تھا۔کسی مولوی نے اس عورت کے فراڈ کی تائید کرنے پر معافی نہیں مانگی تھی۔جب جنرل ایوب خان کی آمریت کے خلاف تحریک چلی تو اس نے غلاف کعبہ کا ڈرامہ چلادیا۔ہر شہر میں غلاف کعبہ کی زیارت شروع ہوگئی۔ کچھ صاحبان عقل و فہم نے کہا کہ غلاف کعبہ یہ اس وقت کہلائے گا جب کعبہ پر اس کو چڑھایا جائے گا لیکن عقل کی بات کون مانتا۔ بعد ازاں پتہ چلا کہ جسے ہم غلاف کعبہ قرار دیتے تھے وہ سعودی عرب کی حکومت نے قبول نہیں کیا تھا وہ غلاف کہاں گیا کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔جنرل ضیا کے دور میں ایک پیر سپاہی منظر عام آیا تھا جس کے دم کردہ پانی سے ہر بیماری سے شفا مل جاتی تھی۔ وہ سٹیشن پر کھڑے ہو کر پھوک مارتا تھا اور لاہور ہائی کورٹ چوک میں کھڑے افراد کے ہاتھوں میں پکڑی ہوئی بوتلوں کا پانی دم ہوجاتا تھا۔ پھر یہ پیر سپاہی کہاں چلاگیا کسی کو کچھ پتہ نہیں چلا۔ ایک سائنس دان نے یہ دعوی کردیا کہ ہم جنوں سے بجلی کا شارٹ فال پورا کرسکتے ہیں سب نے واہ واہ کی اور ان کی سائنسی علم کی داد دی۔ یہ پراجیکٹ کہاں گیا کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔کچھ عرصہ قبل ایک صاحب نے پانی سے کار چلانے کا دعوی کردیا اور ہمارے ٹی وی اینکرز نے اسے اس صدی کا سب سے بڑا سائنس دان قرار دے دیا تھا۔ پھر پتہ چلا کہ یہ تو سب جھوٹ تھا۔ اب ایک اخبار نویس ہے جو اپنا تعلق بغداد کے عباسیوں سے جوڑتا اور پاکستان کا ہر مسئلہ معاشی ہو یا سیاسی وسماجی دینی عقیدہ کی بنا پر حل کرنے کا دعوی رکھتا ہے۔ اس نے پاکستان کو درپیش ڈالر بحران کا نرالا حل پیش کیا ہے وہ کہتا ہے کہ پاکستان کے شہریوں کو ڈالر کی خرید کا بائیکاٹ کرد ینا چاہیے۔ اس طرح ڈالر کی قیمت خود بخود کم ہوجائے گی ۔ بندہ پوچھے کہ بھائی پاکستان کے عوام کو روٹی روزی کے لالے پڑئے ہوئے ہیں وہ کہاں سے ڈالر خریدیں گے؟ پھر یہ ڈالر کیا عوام کی خرید کی وجہ سے مہنگا ہوا ہے یا اس کی وجوہات کچھ اور ہیں ۔ ہماری برآمدات اور درامدات کے مابین جو فرق ہے اس کی بنا پر ڈالر مہنگا ہے۔ تجارتی خسارہ ہمارا کتنا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈالر شہریوں کی خرید کی وجہ سے مہنگا نہیں ہوا۔ آپ اخبار نویس ہیں اکنانومسٹ نہیں ہیں۔ ہر مسئلہ پرٹانگ اڑانا اور معاشی اور سیاسی مسائل کے الٹے سیدھے حل کی جگالی کرنا قطعا ضروری نہیں ہے۔ اگر کسی مسئلے بارے نہ پتہ ہو تو چولیں نہ مارنا ہی بہتر حکممت عملی ہوتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *