آئی۔ایم۔ایف ہمیں کہاں لے جائے گا؟

" ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر  "

مسئلہ ہر گز یہ نہیں کہ عمران خان کی حکومت نے آئی۔ایم۔ایف سے 6 ارب ڈالر قرض لینے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک آئی۔ایم۔ایف سے قرض لیتے رہتے ہیں۔ خود پاکستان کے لئے بھی یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ عمران خان سے پہلے پاکستان اٹھارہ مرتبہ آئی۔ایم۔ایف پروگرامز کا حصہ رہ چکا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان متواتر کئی سالوں تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کو آئی۔ایم۔ایف کے پاس جانے پر لتاڑتے رہے۔ ان کی لعن طعن کرتے رہے۔ ا ور عوام کو باور کرواتے رہے کہ اگر وہ (عمران خان)بر سر اقتدار آئے تو کشکول پکڑ کر بھیک مانگنے اور آئی۔ایم۔ایف کے در پر جانے کے بجائے خود کشی کرنے کو ترجیح دیں گے۔ اس سے بھی بڑھ کر مسئلہ یہ ہے کہ اگر عمران حکومت کو آئی۔ایم۔ایف پروگرام کا حصہ بننا ہی تھا تو اس معاملے میں 9 ماہ کی انتہائی غیر ضروری تاخیر کیوں کی گئی؟۔ معاشی امور کی سمجھ رکھنے والے صحافی اور غیر جانبدارماہرین معاشیات متواتر پیش گوئی کر رہے تھے کہ پاکستان کاآئی۔ایم۔ایف کے پاس جانا نا گزیر امر ہے۔ مسلسل کہا جاتا رہا کہ یہ تاخیر پاکستان کے حق میں نہیں ہے۔ حکومت نے مگران تجاویز پر کان نہیں دھرا۔ اسکے برعکس اعلیٰ حکومتی عہدیدار اس تاخیر کے فوائد (بلکہ فضائل) عوام الناس کو سمجھاتے رہے۔ آخر کار وہی ہوا جس بات کا خدشہ تھا۔اس تاخیر کا نتیجہ یہ نکلا کہ آئی۔ایم۔ایف نے 6 ارب ڈالر کا قرضہ سخت ترین شرائط کے ساتھ عمران حکومت کو عطا کر نے کا وعدہ کر لیا۔ یہ تاخیر ہوئی تو حکومت کی نا عاقبت اندیشی کی وجہ سے ہے۔ مگر اس کا سارا بوجھ پاکستان کے غریب عوام کو ڈھونا پڑے گا۔ ا ور وہ بھی متواتر تین برس تک۔
صورتحال یہ ہے کہ آئی۔ ایم۔ایف پاکستان کے لئے واقعی ایک سونامی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ابھی معاہدے کی حتمی منظوری بھی نہیں ہوئی۔ شرائط نامے پہ دستخط بھی نہیں ہوئے۔ بس ایک اصولی فیصلہ ہوا ہے۔ حکومت نے ابھی تک کچھ نہیں بتایا۔بس آئی۔ایم۔ایف کا واشنگٹن سے جاری کردہ ایک اعلامیہ سامنے آیا اور اس کے ساتھ ہی ہماری پہلے سے کمزور معیشت میں زلزلوں اور " آفٹر شاکس" کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ دیکھتے دیکھتے مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگی۔ اسد عمر نے جو کہا تھا وہ سچ ثابت ہوا کہ عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ڈالر راکٹ کی رفتار سے اوپر کو اٹھ رہا ہے اور روپیہ مسلسل نیچے ہی نیچے لڑھکتا جا رہا ہے۔ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ کسی کو کچھ خبر نہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ گہری کھائی میں گرتی اس گاڑی کو کیسے بچایا جائے۔ کوئی یہ بتانے کے لئے بھی تیار نہیں کہ ہم نے درپردہ آئی۔ایم۔ایف سے کیا شرائط طے کی ہیں؟ وفاقی وزراء بھی معاہدے کی تفصیلات سے متعلق لاعلمی کا اظہار کررہے ہیں۔ کاروباری لوگ، صنعتکار، تاجر، ماہرین معاشیات، کرنسی ایکس چینج ایسوسی ایشن سب چیخ رہے ہیں کہ معیشت کی اس تباہ کاری کا سبب آئی۔ ایم۔ایف سے معاہدہ ہے۔ لیکن حکومت کا کوئی ٹھوس موقف سامنے نہیں آرہا۔ کوئی کہتا ہے کہ ڈالر کی قیمت گرانے کے حوالے سے آئی۔ ایم۔ایف کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔دوسرا کہتا ہے کہ یہ سٹیٹ بنک کر رہا ہے۔ تیسرا منہ دوسری طرف پھیر کے چپ ہو جاتا ہے اور چوتھا وہی گھسا پٹا راگ الاپتا ہے کہ یہ سب کچھ پچھلی حکومتوں کا کیا دھرا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عوام کی اکثریت کواس بیان بازی اور الزام تراشی سے قطعا کوئی دلچسپی نہیں۔ عوام کو صرف یہ معلوم ہے کہ مہنگائی نے ان کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ رمضان کے با برکت مہینے میں بھی انہیں کوئی ریلیف میسر نہیں۔ گوشت،دودھ،پھل تو رہے ایک طرف، دالیں اور سبزیاں بھی ان کی قوت خرید سے باہر ہو چلی ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے بھی انہیں کوئی خوش امیدی نہیں۔ حکومت اور میڈیا کی طرف سے انہیں بتایا جا رہا ہے کہ آنے والے وقت میں انکی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔ اور انہیں صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ انہیں اندازہ ہو گیا ہے کہ جون میں بجٹ پیش ہونے کے بعد مہنگائی کا ایک اور سونامی انکا منتظر ہے۔جہاں تک آئی۔ایم۔ایف کی طرف سے 6 ارب ڈالر کے قرض کا معاملہ ہے تو یہ رقم یکمشت حکومت کو نہیں ملے گی۔ بلکہ تین سال کے عرصے میں قسطوں کی صورت حکومت کے حوالے کی جائے گی۔ ہر چند ماہ بعد، قرض کی قسط جاری کرنے سے پہلے، آئی۔ ایم۔ایف اچھی طرح جائزہ لے گا کہ اسکی طرف سے طے کردہ (بلکہ نافذ کردہ) شرائط پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں؟ کہنے کا مطلب یہ کہ ایک تیز دھاری تلوار ہے جس پر پاکستان کے عوام کو مسلسل تین سال تک چلنا ہو گا۔ اپوزیشن اس تباہ کاری کی ذمہ داری حکومت کے اناڑی پن اور وزیر اعظم کی نااہلی پر ڈالتی ہے۔ مخالف جماعتیں اس طرح کے الزامات لگایا ہی کرتی ہیں لیکن اب غیر جانبدار مبصرین کو بھی ان الزامات میں وزن محسوس ہونے لگا ہے۔ کوئی دن، کوئی ٹاک شو کوئی چینل ایسا نہیں ہوتا جو عمران خان کے بلند بانگ دعووں کے پرانے کلپس نہ چلا رہا ہو۔ یہ دعوے اور نعرے مسلسل عوام کے کانوں میں گونجتے رہتے ہیں۔ میں کسی سے قرض نہیں لوں گا، کسی سے بھیک نہیں مانگوں گا،آئی۔ایم۔ایف کے پاس جانے سے بہتر ہے خود کشی کر لوں،کبھی ایمنسٹی نہیں دوں گا وٖغیرہ وغیرہ۔پھر لوگوں کو تاکید کرتے رہے کہ پیسے ہنڈی سے بھیجو، بجلی گیس کے بل ادا نہ کرو، سول نافرنامی کرو۔پھر پاکستان کے معصوم لوگوں کو بتایا کہ ان کے آتے ہی روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی اربوں روپے کی منی لانڈرنگ ختم ہو جائے گی۔ ٹیکسوں کی آمدنی دگنی تگنی ہو جائے گی۔ سمندر پار پاکستانی ڈالروں کی بارش کر دیں گے۔ ہم قرضے لیں گے نہیں، دوسرے ملکوں کو دیں گے۔ پاکستان کے عوام جب پی۔ٹی۔آئی کی نو ماہ کی کارکردگی کو ان دعووں اور نعروں کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو انہیں شدید مایوسی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اناڑی پن اور نا اہلی کا تاثر گہرا ہو رہا ہے۔ صاف محسوس ہو رہا ہے کہ پی۔ ٹی۔ آئی نے نہ صرف یہ کہ کوئی ہوم ورک نہیں کیا تھا بلکہ وہ معاملات کو سمجھنے اور مناسب وقت پر موزوں اقدام کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہے۔
مثال کے طور پرعمران خان کئی برس تک اسد عمر کو ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کرتے رہے، جو وزیر خزانہ بنے گا تو قوم کی تقدیر بدل کر رکھ دے گا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں استحکام لائے گا۔ بجلی، گیس،پٹرول کے نرخوں میں انتہائی کمی لائے گا۔غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں کثیر سرمایہ کاری کرینگے۔ پچاس لاکھ گھر تعمیر ہونگے۔ ایک کروڑ نوکریاں ملیں گیں۔ دیگر ممالک کے لوگ نوکریاں حاصل کرنے پاکستان کا رخ کریں گے۔ مگر عملی طور پر ان میں سے کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہ ہو سکا۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ بہ امر مجبوری اسد عمر سے وزارت واپس لینا پڑی۔ اب وفاق کے ساتھ ساتھ صوبہ پنجاب میں بھی خزانے کی وزارتیں غیر منتخب افراد (ڈاکٹر حفیظ شیخ اور ڈاکٹر سلمان شاہ) کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ یہ اقدام اس امر کے غماز ہیں کہ تحریک انصاف میں کوئی ایک بھی ایسا شخص نہیں جو معاشی معاملات کی سوجھ بوجھ رکھتا ہو۔ ایک اور افسوسناک بات جو صحافتی سطح پر کہی جا رہی ہے وہ یہ کہ وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ اور اسٹیٹ بنک کے گورنر رضا باقر کوآئی۔ایم۔ایف کی ہدایت پر تعینات کیا گیا ہے، لہذا وہ پاکستان کی حکومت اور عوام کے بجائے آئی۔ ایم۔ایف کے مفادات کو تحفظ فراہم کریں گے۔
اگرچہ امید تھی کہ آئی۔ایم۔ایف سے معاہدہ طے ہو جانے کے بعد معاشی بے یقینی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ فی الحال ایسا بھی نہیں ہو سکا ہے۔ اس کی وجہ غالبا ملک کی سیاسی صورتحال ہے۔ حکومت کسی صورت اپوزیشن کو برداشت کرنے پرآمادہ نہیں۔ دوسری طرف اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں (پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز) جو گزشتہ نو ماہ سے مولانا فضل الرحمن کی ترغیب کے با وجود، حکومت مخالف تحریک چلانے سے گریزاں تھیں، اب سڑکوں پر آنے کی باتیں کر رہی ہیں۔ اگر عید کے بعداپوزیشن سڑکوں پر آتی ہے، تو بحرانوں میں گھری معیشت مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔کاش حکومت اس امر کی تفہیم کرئے کہ کسی بھی قسم کی ا قتصادی اصلاحات درکار ہیں تو اس کے لئے پہلے سیاسی استحکام کو یقینی بناناہو گا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *