میاں نواز شریف کا کِلّہ۔۔۔ کچی پکی باتوں پر مشتمل کالم

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

میاں نواز شریف کا کِلّہ
کچی پکی باتوں پر مشتمل کالم

خامہ بدست کے قلم سے
کراچی کے جناب مجاہد بریلوی کا شمار پاکستان کے بزرگ اخبار نویسوں میں ہوتا ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر پروگرام بھی کرتے ہیں۔ روزنامہ 92نیو ز میں کالم بھی لکھتے ہیں۔ ”میاں نواز شریف کا کلّہ“ (2قسطوں پر مشتمل) نیا کالم ہمارے زیر نظر ہے۔لکھتے ہیں:”میاں نوازشریف کے والد میاں شریف کو اگر ان کی سیاسی زندگی سے نکا ل دیا جائے تو پھر معذرت کے ساتھ،وہ سیاست میں صفر+صفر ہوتے۔ انگلی پکڑ نا بظاہر محاورہ ہے لیکن اگر یہ کسی پر پورا اترتا ہے تو وہ ہمارے میاں نواز شریف ہیں جنہیں حقیقتاََ انگلی پکڑ کر بزرگ میاں نواز شریف لوہے کے کاروبار میں ہاتھ سیاہ کرنے کی بجائے اقتدار کی اس دہلیز پر براہ راست لے گئے کہ جسے قومی سیاست میں، خاص طور پر پنجاب میں، خلا پرُ کرنے کی شدید ضرورت تھی۔اس زمانے میں میاں شریف کی مہمان نوازی اور دریا دلی کے چار جہاں میں چرچے تھے۔ اسلام آباد کا کوئی بھی بڑا جب بھی جاتی امراملاقات کے لیے جاتا، تو واپسی میں ایک پرُ شکوہ گاڑی کی چابی طشتری میں رکھ کر پیش کی جاتی۔“ پہلی بات تو یہ کہ جن دنوں کا فاضل کالم نگار ذکر کر رہے ہیں ان دنوں جاتی امرا وجود میں نہیں آیا تھا۔ ان دنوں شریف فیملی ماڈل ٹاؤن میں رہتی تھی۔ Hبلاک میں میاں شریف سمیت تمام بھائیوں کی ایک ہی قطار میں، ایک ہی طرح کی کوٹھیاں تھیں۔ ان میں ایک کوٹھی (180-H)میں شریف فیملی مقیم تھی۔ جاتی امرا تو 1996-97میں بنا۔ اسلام آباد سے آنے والے کسی بھی بڑے کو پرُ شکوہ گاڑی کا تحفہ بھی ایک بے بنیاد بات ہے۔ صرف جنرل آصف نواز کے بارے میں یہ بے پرکی اڑائی گئی تھی کہ انہیں میاں شریف نے گاڑی کی چابی پیش کی اور انہوں نے شکریہ کے ساتھ معذرت کر لی۔
اپنے محسنوں سے میاں نواز شریف کی بے وفائی کے سلسلے میں بریلوی صاحب نے اظہر سہیل کی کتاب ”ایجنسیوں کی حکومت“ کا حوالہ دیا ہے۔ اظہر سہیل اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا وفاداری جرم ہے؟

مگر ارشاد صاحب کو یہ عارفانہ بات کس نے بتائی؟

عبدالقادر حسن اور۔۔۔’’دونوں بھائی‘‘

حیرت ہے، فارن آفس میں ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں!!

دوکالموں پر ایک نظر

ذوالفقار علی بھٹو ،عمران خان ،نوازشریف اور عثمان بزدار

لیکن معاف کیجئے، وہ کوئی مؤرخ اور محقق نہیں تھے۔ خاص حلقوں سے ”روابط“ کے حوالے سے ان کی خاص شہرت تھی۔ آخری دنوں میں محترمہ بے نظیر کی دوسری حکومت کے دوران زرداری صاحب کے جوکارِ خاص کی شہرت رکھتے تھے، اسی باعث سرکاری نیوزایجنسی APPکے سربراہ بھی بنے۔”ایجنسیوں کی حکومت“ بھی ان کتابوں میں شمار ہوئی،جو خاص مقاصد کے لیے لکھی اور لکھوائی جاتی ہیں اور جن کی کوئی ساکھ اور اعتبار نہیں ہوتا۔ اظہر سہیل کے بقول:1990کے عام انتخابات میں جنرل حمید گل اور جنرل اسد درانی نے مل کر جو الیکشن ٹیکنالوجی استعمال کی اور جس بھدے طریقے سے میاں نواز شریف کو اقتدار میں لایا گیا، اسکے بعد عام تاثر یہ تھا کہ کم از کم ان دونوں کو تو ملک کے اعلیٰ ترین مناصب سونپے جائیں۔ پہلی بات تو یہ کہ جنرل حمید گل کا 1988میں آئی جے آئی بنانے میں تو ایک رول تھا، لیکن 1990میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ بے نظیر صاحبہ نے انہیں آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹا کر ملتان کا کورکمانڈر بنا دیا تھا۔”الیکشن ٹیکنالوجی“ جو بھی تھی، غلام اسحاق خان کے ایوانِ صدر میں خصوصی الیکشن سیل میں تیار اور استعمال ہوتی تھی۔آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اسد درانی بھی اس کا حصہ تھے، لیکن 1990کے الیکشن کے بعد وزارتِ عظمیٰ کے لیے، ان سب کی پسند غلام مصطفےٰ جتوئی تھے، لیکن 1988سے 1990تک چونکہ وزیر اعظم بے نظیر کا اصل مقابلہ نواز شریف نے کیا تھا، آئی جے آئی کے سر براہ بھی وہی تھے، اسلیے منتخب ارکان کی اکثریت، وزارتِ عظمیٰ کے لیے نواز شریف کے حمایت پر تل گئی۔ باقی رہی ملک کے اعلیٰ ترین مناصب کے لیے جنرل حمید گل اور جنرل درانی کے استحقاق کی بات، تویہ اعلیٰ ترین مناصب کیا ہو سکتے تھے؟جنرل حمید گل ملتان کے کور کمانڈر تھے، انہیں آرمی چیف یا چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی بنانے کا آئینی اختیار ان دنوں صدر مملکت کے پاس تھا۔ یہی معاملہ جنرل درانی کا تھا۔ا علی ترین مناصب میں وزارتِ عظمیٰ اور صدارت بھی آتی ہے، لیکن انہیں یہ مناصب کیسے سونپے جا سکتے تھے۔ وزیر اعظم کے لیے رکن قومی اسمبلی ہونا ضروری تھا، اور صدر مملکت کے منصب پر فائزہونے کے لیے ضروری تھا کہ آپ کو سرکاری ملازمت چھوڑے دو سال کا عرصہ ہو چکا ہو۔ اور صدر کے منصب پر تو خود غلام اسحاق خاں موجود تھے۔ کالم کے آخر میں مجاہد بریلوی فر ماتے ہیں: ایک طویل جلا وطنی کے بعد 2013میں یقینا ایک بار پھر قسمت اورقدرت نے انہیں موقع دیا کہ وہ چالیس سالہ طویل جدوجہد کے سردوگرم کے بعد ایک قومی قائد کی حیثیت سے ابھرتے مگر افسوس کہ ایک بار پھر مکمل اقتدار کا سودا سر میں سمانے کے سبب آج سیاست سے ساری زندگی کے لیے نااہل ہی نہیں، مگر اپنی بیماری کے سبب اپنی زندگی کے انتہائی المناک دنوں سے گزر رہے ہیں۔ گویا مکمل اقتدار کا سودا سر میں سمانا، منتخب وزیر اعظم کا اصل قصور تھا۔ تو کیا آئین منتخب وزیر اعظم کو چیف ایگزیکٹو کے طور پر ”مکمل اقتدار“ نہیں دیتا؟ آئین نے سبھی اداروں کے فرائض و اختیار ات متعین کر دیئے ہیں۔ کیا اس پر اصرار کو ”مکمل اقتدار کا سودا سر میں سمانا“ کہیں گے؟ ہمارے خیال میں تو ”قومی قائد“ کے طور پر بھی انہیں اسی پر اصرار کرنا چائیے تھا۔ کیا ”ادھورا اقتدار“ اپنے آئینی اختیارات اور فرائض پر کمپرومائز نہ ہوتا؟ اور یہ کسی ”قومی قائد“ کے شایانِ شان ہوتا؟

یہ بھی پڑھیے

”شریفوں کی سیاسی باتیں“

جائز تعریف کے حوالے سے، تنگدلی اور ایسی تنگدلی؟

”صحت“پر ”صحافت“۔ اور ایسی صحافت؟

بے پناہ نفر ت اور بے حساب حسرت اُبل رہی ہے

لیکن یہ نظامی صاحب کا نوائے وقت نہیں

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *