مین بُکر انٹرنیشنل ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی عرب مصنفہ جوخہ الحارثی

عمان سے تعلق رکھنے والی جوخہ الحارثی مین بکر انٹرنیشنل ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی عرب مصنفہ بن گئی ہے۔

ان کا ناول ’سیلیسٹیل باڈیز‘ تین بہنوں اور ان کے خاندانوں کی زندگی کی کہانی ہے جو سماجی تبدیلیوں کا شکار ہوتے ہیں۔

مقابلے کے ججز کے مطابق اس میں کہانی بھرپور، مائل کرنے والی اور شاعرانہ انداز میں بیان کی گئی ہے۔

جوخہ الحارثی اپنے انعام کی رقم اپنے مترجم امریکی ماہر تعلیم مالین بوتھ کے ساتھ بانٹیں گی۔

جوخہ الحارثی نے لندن میں تقریب کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں بہت پر جوش ہوں کہ ایک ذرخیر عرب تہذیب کے لیے ایک دریچہ کھل گیا ہے۔

’عمان نے مجھے متاثر کیا لیکن میرا خیال ہے کہ بین الاقوامی قارئین اس کتاب میں بیان کی جانے والی انسانی اقدار کے ساتھ تعلق محسوس کر سکیں گے، آزادی اور محبت‘۔

سیلیسٹیل باڈیز العوافی نامی گاؤں میں رہنے والے تین بہنوں کی کہانی ہے جو عمان میں روایتی معاشرے سے آبادیاتی دور کے بعد کی تہذیبی ارتقا کی شاہد ہیں۔

الحارثی کا کہنا تھا ’اس میں غلامی کے موضوع کو بھی چھیڑا گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس بحث کو چھیڑنے کے لیے ادب بہترین جگہ ہے۔‘

جوخہ الحارثی پہلی عمانی مصنفہ ہیں جن کی کتاب کا انگریزی میں ترجمہ ہوا ہے۔

ججز میں شامل تاریخ دان بیٹنی ہگیز کا کہنا تھا کہ اس ناول میں ’ہماری مشترکہ تاریخ کے پریشان کن پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے۔‘

اس سے پہلے جوخہ الحارثی دو افسانے، بچوں کے لیے ایک کتاب اور تین عربی ناول بھی لکھ چکی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *