انڈین الیکشن 2019: ووٹوں کی گنتی جاری، بی جے پی کی واضح سبقت

انڈیا میں سات مراحل میں مکمل ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور ابتدائی رجحانات کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو واضح سبقت حاصل ہے۔

19 مئی کو آخری مرحلے کے انتخابات کے بعد جمعرات کی صبح سے انڈین پارلیمنٹ کی 542 نشستوں پر ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے جاری ہے۔

نئی دلی سے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق نتائج کے رجحانات کے مطابق بی جے پی کے اتحاد کو گزشتہ انتخابات سے بھی زیادہ نشستیں مل سکتی ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق لوک سبھا کی 542 نشستوں میں سے بی جے پی 292 نشستوں پر آگے ہے جبکہ مجموعی طور پر 346 نشستوں پر اس کا اتحاد آگے ہے۔

انڈیا میں مرکزی حکومت بنانے کے لیے 272 نشستیں درکار ہیں اور اگر یہ رجحانات برقرار رہے تو بی جے پی کو حکومت سازی کے لیے سادہ اکثریت اپنے بل بوتے پر ہی مل سکتی ہے۔

اس کے برعکس کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو 80 سے زیادہ نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں جن میں سے کانگریس محض 51 نشستوں پر آگے ہے۔

تیسرے نمبر پر ترنمول کانگریس اور وائی ایس آر ہیں جنھیں 24، 24 نشستیں ملی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی بنارس میں اپنے قریب ترین حریف سے 70 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے آگے ہیں جبکہ کانگریس کے صدر راہل گاندھی کا ان کے روایتی حلقے امیٹھی میں بی جے پی کی امیدوار سمرتی ایرانی سے سخت مقابلہ چل رہا ہے۔

بہار میں کنہیا کمار اور اداکار شترو گھن سنہا پیچھے ہیں تاہم سماجوادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو اپنے حریفوں پر سبقت لیے ہوئے ہیں۔

بی جے پی کو سب سے بڑی کامیابی اتر پردیش ، بہار اور بنگال میں مل رہی ہے۔ وہ مدھیہ پردییش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بھی غیر معمولی کامیابی کی طرف بڑھ رہی ہے جبکہ دلی کی تمام سات نشستوں پر وہ آگے ہے۔

مہاراشٹر میں بھی بی جے پی اور اس کی اتحادی شیو سینا کانگریس سے بہت آگے ہیں۔ اپوزیشن اتحاد کو صرف کیرالہ، تمل ناڈو اور پنجاب میں کامیابی ملتی نظر آرہی ہے۔

انڈین کاروباری دنیا بظاہر بی جے پی کی متوقع جیت کو مثبت انداز میں دیکھ رہی ہے۔ انڈین بازارِ حصص میں شدید تیزی دیکھی گئی ہے۔ سینسیکس انڈیکس تاریخ میں پہلے مرتبہ 40000 پوائنٹس سے اوپر گیا ہے جبکہ نفٹی ففٹی 12000 پوائنٹس کی حد عبور کر چکا ہے۔

Indian Prime Minister Narendra Modi greets supporters as he arrives to file his election nomination papers in Varanasi.

نریندر مودی اس الیکشن میں اپنی جماعت کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے لیے پرامید ہیں

اس برس 90 کروڑ ووٹرز انتخابات میں حصہ لینے کے اہل تھے جو کہ اس انتخاب کو دنیا کا سب سے بڑا انتخاب بناتے ہیں۔ 8،000 سے زائد سیاسی امیدواروں اور 670 سیاسی جماعتوں کی قسمت کا فیصلہ ووٹوں کی گنتی پر اٹکا ہوا ہے۔

ووٹوں کی گنتی کا عمل پورے ملک میں تمام 542 سیٹیوں کے لیے ایک ساتھ شروع ہوا ہے اور یہ عمل کئی ادوار میں پورا ہو گا۔

ان انتخابات میں تقرہباً 60 کروڑ رائے دہندگان نے ووٹ ڈالے ہیں جو 39 لاکھ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں محفوظ ہیں۔ ابتدا میں پوسٹل ووٹوں کی گنتی ہوئی جو بیشتر فوجیوں کے ہوتے ہیں اور اس مرحلے کے بعد الیکٹرانک مشینوں کے ووٹوں کی گنتی کی جا رہی ہے۔

حتمی نتائج کا اعلان مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی شب یا جمعہ کی صبح سے پہلے متوقع نہیں ہیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ کی مشین سے موصول ہونے والے نتائج کو پرنٹ بیلٹ سے ملانے والی اضافی جانچ پڑتال کا عمل ان میں تاخیر کر سکتا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی جن کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سنہ 2014 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے اقتدار میں آئی تھی۔ اس بار بھی ان کا سامنا روایتی سیاسی حریف حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی اور ملک بھر میں طاقتور علاقائی حریفوں کے خلاف تھا۔

سنہ 2014 میں بی جے پی نے 282 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جو کہ گزشتہ 30 برسوں میں کسی بھی سیاسی جماعت کی سب سے بڑی جیت تھی جبکہ کانگرس کو صرف 44 نشستیں مل سکیں تھی جو ان کی بدترین شکست تھی۔

انڈین انتخابات

سنہ 2014 میں کانگرس کو صرف 44 نشستیں مل سکی تھیں جو ان کی بدترین انتخابی شکست تھی

کس کی جیت کے امکان ہیں؟

2019 کا انتخاب نریندر مودی کے لیے ایک ریفرنڈم کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ ایک ایسی شخصیت جنھیں ایک جانب بہت سے لوگ پسند کرتے ہیں تو دوسری طرف ان کے ناقدین ان پر انڈیا میں تقسیم بڑھانے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔

بی جے پی کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے سب سے زیادہ انحصار نریندر مودی اور ان کے جارحانہ انداز کی ساکھ پر ہے۔ بی جے پی اور ان کے سیاسی اتحادی اگر چند نشستیں ہار بھی جائیں تو برتری قائم رکھ سکیں گے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی کی جانب سے معاشی ترقی اور نوکریوں کے وعدے پورے نہیں ہوئے اور ان کی حکومت میں انڈیا میں مذہبی بنیادوں پر زیادہ تفریق پیدا ہو چکی ہیں۔

ان کے اہم سیاسی حریف کانگریس رہنما راہل گاندھی ہیں، جو ان کے خاندان کی موروثی سیاست سے تنگ انڈیا کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی جماعت کے جیتنے کے امکان کم ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت انڈیا کی اہم مشرقی اور جنوبی ریاستوں میں انتخابات سے قبل سیاسی اتحاد بنانے میں ناکام رہی ہے جو کہ ان جماعت کی کمزور سیاسی گرفت کی نشانی ہے۔

یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ جو جماعت اتر پردیش سے کامیابی حاصل کر لے وہ انڈین انتخابات جیت جاتی ہے اور ابتدائی رجحانات کے مطابق اس مرتبہ بی جے پی کم از کم 50 نشستوں پر سبقت لیے ہوئے ہے۔ یہ سبقت اس لیے بھی اہم ہے کہ اس مرتبہ ریاست کی دو بڑی سیاسی جماعتوں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے نریندر مودی کے خلاف 'بڑا سیاسی اتحاد' بنایا تھا۔

اس بڑی شمالی ریاست سے 80 اراکین اسمبلی لوک سبھا میں آتے ہیں اور سنہ 2014 میں بی جے پی نے یہاں سے 71 نشستیں جیتی تھیں۔

بی جے پی کسی بھی ممکنہ سیاسی نقصان کو مغربی بنگال جیسی ریاستوں سے پورا کرنے کے لیے بھی پرامید ہے جہاں گزشتہ الیکشن میں اس کے پاس 42 پارلیمانی نشستوں میں سے صرف دو تھیں۔ مغربی بنگال میں بی جے پی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کے خلاف الیکشن لڑ رہی ہے اور اس انتخابی مہم میں چند تلخ ترین سیاسی جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

مودی اور ممتا بینر جی

بی جے پی کسی بھی ممکنہ سیاسی نقصان کو مغربی بنگال جیسی ریاستوں سے پورا کرنے کے لیے پرامید ہے

جنوبی انڈیا کی پانچ میں سے چار ریاستیں آندھرا پردیش، تلیگانا، تمل ناڈو اور کیرالہ کافی عرصے سے بی جے پی کی گرفت سے باہر رہی ہیں۔ یہاں کی 91 نشستوں میں سے بی جے پی کے پاس صرف چار نشستیں ہیں۔

ملک کے ان حصوں میں بی جے پی چند ہی سیٹووں پر امیدوار کھڑے کرتی ہے اور زیادہ حلقوں میں مضبوط علاقائی امیدواروں کے ساتھ اتحاد میں انتخاب لڑ رہی ہے۔

کروڑوں ووٹوں کی گنتی کیسے ہوتی ہے؟

الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال اس سے پہلے بھی تین انڈین عام انتخابات میں کیا جا چکا ہے۔ ان سے وقت اور پیسہ بچتا ہے اور نتائج بھی گھنٹوں میں آ جاتے ہیں۔ انھیں متعارف کروائے جانے سے قبل ووٹوں کی جانچ پڑتال اور گنتی میں تقریباً دو دن لگتے تھے۔

انڈیا کی 17 لاکھ ووٹنگ مشینوں میں سے ہر ایک مشین کسی بھی پولنگ بوتھ میں ایک وقت میں 64 امیدواروں کے اندراج کے ساتھ 2000 ووٹوں کو ریکارڈ کر سکتی ہے۔

ہر مشین کو انفرادی طور پر ریٹرننگ افسر کی موجودگی میں گنتی کرنے والے عملے اور پولنگ ایجنٹوں کے سامنے کھولا جاتا ہے اور ووٹوں کی گتنی کی جاتی ہے۔

लोकसभा चुनाव

اس بار ہر مشین سے ایک پرنٹر منسلک کیا گیا تھا جس سے الیکٹرانک مشین کے ساتھ ساتھ ہر ووٹ کاغذ کی ایک پرچی پر بھی درج ہوا

جب وہ اس بات سے مطمئن ہوتے ہیں کہ کسی مشین کو کھول کر دھاندلی نہیں ہوئی یا کسی ووٹ کو خراب نہیں کیا گیا تو ووٹنگ مشین پر 'نتیجہ' کے بٹن کو دباتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کا افسر انتخابی نتائج پر دستخط کرنے اور اسے الیکشن کمیشن بھیجنے سے پہلے ہر امیدوار کو ملنے والے ووٹوں کا جائزہ لیتا ہے۔

الیکٹرانک میڈیا مشینوں کی گنتی مختلف ادوار میں ہوتی ہے اور نتائج کو مرحلہ وار جاری کیا جاتا ہے۔ میڈیا نتائج کی رپورٹنگ فوری کرتا ہے جیسے ہی وہ سامنے آتے ہیں۔ جبکہ حتمی نتائج الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر بعد میں آتے ہیں۔

اب تمام مشینوں کے ساتھ پرنٹرز ہیں جو شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ووٹر کی قابل تصدیق کاغذ کی آڈٹ رسیدیں تیار کرتی ہیں۔

حکام ایک بند ڈبے میں رکھی گئی ان کاغذوں کی رسیدوں کی جانچ پرتال الیکٹرانک مشینوں کے ووٹوں کے ساتھ کرتے ہیں جو کہ کم از کم ملک کے 5 فیصد پولنگ بوتھ پر لگی ہوئی ہیں۔

انتخابی عملے کا کہنا ہے کہ یہ مرحلہ حمتی نتائج میں چند گھنٹوں کی تاخیر کا سبب بن سکتا ہے۔

الیکشن کے کلیدی مسائل

ملک میں کاشت کاری میں بحران، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور انڈیا کے ممکنہ طور پر اقتصادی بحران کی جانب جانے کے خدشات کے پیشِ نظر اس الیکشن کا شاید اہم ترین موضوع معیشت رہا۔

انڈین الیکشن

فصلوں کی زیادہ پیداوار اور اشیا کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا اور بہت سے کسان قرضوں کے تلے دبتے چلے گئے ہیں۔

مودی کی قیادت میں دنیا کی اس چھٹی بڑی معیشت کی قومی مجموعی پیداوار میں اضافے کی شرح قدرے کم ہو گئی ہے۔ یہ شرح اس وقت سات فیصد کے قریب ہے اور گذشتہ سال ایک حکومتی رپورٹ لیک ہوئی جس کے مطابق بےروزگاری کی سطح 1970 کی دہائی کے بعد بلند ترین سطح پر ہے۔

بہت سے لوگ اس الیکشن کو انڈیا کی شناخت اور اقلیتوں کے تحفظ کی جنگ کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔ گذشتہ پانچ سالوں میں ایک قدرے تلخ انداز کی اور کبھی کبھی پرتشدد انداز کی ہندو قوم پرستی ملک کے مرکزی دھارے میں شامل ہوگئی ہے۔ اقلیتوں کے خلاف حملے بڑھ رہے ہیں، جن میں درجنوں مسلمانوں پر گائے سمگل کرنے کے الزامات کے نتیجے میں سرِعام شدید تشدد کے واقعات شامل ہیں۔

ادھر فروری میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مبینہ طور پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کی جانب سے نیم فوجی دستے پر حملے میں 40 اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد قومی سلامتی بھی ایک اہم نکتہ ہے۔ اس کے بعد انڈیا نے پاکستان پر فضائی کارروائی کی جس کے بعد دونوں ممالک جنگ کے دھانے پر جا پہنچے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *