غیرت کے نام پر قتل کے جرائم

اس خاتون نے مدد کے حصول کی کوشش کی تھی۔ 9 مئی 2019 کو عروج شہزاد جو لاہور کے شہزاد احمد کی زوجہ تھیں نے دینا جہلم ڈسٹرکٹ میں پولیس میں رپورٹ لکھوائی تھی کہ ان کے قریبی مرد رشتہ دار  اس کو قتل کرنے کے در پے ہیں۔ ان سے بچنے کے لیے خاتون نے بھاگ کر اپنی دوست ندا کے ہاں پناہ لی ہوئی تھی۔ پولیس نے شکایت درج کر لی لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا۔

پچھلے ہفتے عروج شہزاد کی لاش چوٹالہ سے ملی۔ چوٹالہ میں مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا اور پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ایک ہفتے کے اندر عروج شہزاد قتل ہونے والی بارہویں خاتون تھیں۔ پاکستان میں رہنے والا کوئی بھی شخص عروج شہزاد کے قتل کی کہانی پر حیران نہیں ہوا ہو گا۔ پاکستان کے لیے غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم جسم میں ایک کانٹے کی مانند ہیں جن کی وجہ سے بہت سی خواتین کو شادیوں میں لطف اندوز ہونے، تالیاں بجانے، کسی دوسرے مرد سے تعلقات کے شبہ میں ، اعلی تعلیم کے حصول کا مطالبہ کرنے یا بد قسمت ہونے کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں ۔ پاکستان میں ایک خاتون کو قتل کرنا بہت آسان ہے ، کوئی سوال پوچھنے کی ہمت نہین کرتا کوئی انصاف نہیں فراہم کر سکتا۔ ہر آئے دن  ایک نئے کیس میں عارضی اقدامات کیے جاتے ہیں ایف آئی آر رجسٹر ہوتی ہے اور ملزموں کو گرفتار کیا جاتا ہے لیکن  اور کچھ ہی دن میں جب معاملہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے تو انصاف کا یہ عمل رک جاتا ہے۔

غیرت کے نام سے جرائم کے قوانین اور ترامیم جو پچھلے چند سالوں میں قندیل بلوچ کے قتل کے بعد سے متعارف کروائی گئی ہیں ان سے اس قدر فائدہ حاصل نہیں ہوا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اگرچہ ریاست کے پاس اختیار ہے کہ وہ مشتبہ قاتلوں کے خلاف ایکشن لے اس سے خاندان کے افراد کے لیے مشکل ہو جائے گا کہ وہ قاتلوں کو معاف کر کے تحفظ فراہم کر سکیں لیکن اص میں قانون نے غیرت کے نام پر قتل پر پابندی نہیں لگائی ہے۔ اس لیے یہ تلوار ہر لمحہ پاکستانی خواتین کے سر پر لٹکتی ہی رہتی ہے۔

غیرت کے نام پر قتل کا مسئلہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے۔ ترکی، جورڈن، شام اور مغربی ممالک کے مسلم معاشرون میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ پچھلے سال اکتوبر میں شام سے ایک ایسی ویڈیو آئی جس میں ایک خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کیا جا رہا تھا۔ خاتون کو دیوار کے ساتھ لگایا گیا ہےاو رایک شخص گن لے کر اس کے سر پر کھڑا ہے۔ مرد نے فائرنگ شروع کی اور خاتون کچھ ہی دیر میں گولیوں کی بوچھاڑ کے سامنے زندگی ہار گئی۔ جس لمحے وہ فائرنگ شروع کرتا ہے تو پیچھے سے کسی کی آواذ آتی ہے: اپنی شرمندگی کو دھو ڈالو۔

اسی طرح غیرت کے نام پر قتل صرف مسلمانوں کا مسئلہ بھی نہیں ہے۔ انڈیا کی تامل ناڈو ریاست میں ذات پات پر مبنی بہت سے لوگوں کی غیرت کی قتل کی خوفناک کہانیاں سامنے آئی ہیں جس کی وجہ دوسری ذات کے لوگوں سے شادیاں تھا۔ غیرت کے نام پر جرائم جنوبی بھارت میں ذات پات کے مسئلوں کی وجہ سے جب کہ شمالی بھارت میں پراپرٹی کے حقوق کی وجہ سے اکثر پیش آتے ہین جن میں بہت سے مردوں اور خواتین کی جانیں چلی جاتی ہیں۔

اس حقیقت کے باوجود کہ مذہب اور قومیت کو اس کی وجہ قرار دینے کی روش ترک کی جا سکتی ہے، پھر بھی ابھی تک مسئلہ کا حل نہیں ڈھونڈا جا سکا ہے۔ کچھ ایکٹوسٹس نے توجہ اس بات پر مبذول کی کہ اس طرح کے قتل کےو اقعات کو غیرت کے نام پر قتل کہنا بند کر دیا جائے اور اس کی بجائے shame-washing کا نام دیا جائے۔  اس حکمت عملی کے تحت  خواتین کے قتل واقعات کے نام میں غیرت کے لفظ کو شرمندگی کے لفظ سے تبدیل کیا جائے۔ یہ مہم شام کے ایکٹوسٹس نے شروع کی اور ذیل میں دئے گئے سورس کے مطابق پیش آںے والے واقعہ کے بعد آنر کلنگ کو شیم واشنگ کا نام دے دیا۔

آنر کلنگ کے واقعات کی اصطلاح کو تبدیل کر کے شرمندگی کا لفظ ڈالنے سے فائدہ تو ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے فوری طور پر یہ نظر آ جاتا ہے کہ جو اقداما اٹھایا گیا وہ شرمندگی کا باعث ہے اور اس کا غیرت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کو روکنے کا ایک دوسرا طریقہ صادق بہانبرو نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ بھانبرو جنہوں نے اس مسئلےپر ریسرچ کی، نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس مسئلے کو ایک پبلک ہیلتھ پرابلم کے طور پر لیا جانا چاہیے۔

بھانبرو جو کہ برطانیہ کے شیفیلڈ ہیلام یونیورسٹی میں قائم ہے کے مطابق اس طرح کےواقعات کو مذہبی اور ثقافتی اصلاحات میں بیان کرنا کمیونٹی کو حساس بنا دیتا ہے۔ ایسی میڈیا کوریج جو ثقافتی اور مذہبی تناظر کو زیادہ اہمیت دیتی ہے (جس کی ایک مثال کارو کاری اصطلاح کا استعمال ہے) تو یہ تشدد کے عنصر اور اس کے پیچھے سیاسی محرکات کو پس پشت ڈال دیتی ہے۔

بہانبرو کے مطابق مسئلہ کو ایک نئے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے جس کے تحت مسئلہ کو ایسے پیش کیا جائے کہ یہ نایاب یا ثقافتی روایات سے متعلق ظاہر نہ ہو اس سے کمیونٹی کو اس طرح کے جرائم کے خلاف موبلائز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ صرف اس صورت میں یہ ممکن ہے کہ معاشرے کے لوگ کسی جرم کو اپنی ثقافت سے جوڑنا بند کر کے اسے ایک بڑا معاشرتی مسئلہ سمجھ پائیں گے اور اس طرح ایک تبدیلی واقع ہو سکتی ہے جو پیدا کرنا مقصود ہے۔

بہانبرو کے نظریات معروف قانون دان نفیسہ شاہ نے بھی اپنا رکھے ہیں جنہوں نے اپنی نئی کتاب میں لکھا ہے کہ تشدد غیرت کی وجہ، فنکشن یا اثر نہیں ہوتا بلکہ اس سے جواز حاصل کرتا ہے۔ بہانبرو اور ان کے ساتھیوں نے جو تبدیلیاں تجویز کی ہیں اور شامی ایکٹیوسٹس نے جو sham washingکی اصطلاح استعمال کی ہے اس سب سےواضح ہوتا ہے کہ بہت سی چیزیں نظر ثانی کا تقاضا کرتی ہیں۔ یہ بھی ممکنہ حقیقت ہے کہ ان قتل کے واقعات کو نایاب قرار دینا اور عام قتل سے مختلف سمجھنا ابھی تک کسی مثبت نتیجہ کا باعث نہیں بنا ہے۔

اس لیے مستقبل کے لیے ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ اس جرم کے ثقافتی اور مذہبی پہلووں کو اہمیت دینے کا عمل ترک کیا جائے اور فوکس اس بات پر کیا جائے کہ ایسے کیا عوامل اور سیاسی محرکا تھے جن کی وجہ سے اس طرح کا واقعہ پیش آیا۔ غیرت کے نام سے قتل کو ایک نئی تعریف دینے سے ہی شاید ہمیں وہ حل مل سکے جس کے ذریعے خواتین تشدد کے اس دیو سے بچ سکیں جس نے ان کا ہمیشہ سے گھیراو کر رکھا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *