بیانیہ بمقابلہ حقیقت

ایڈجسٹمنٹ روڈ پر چڑھنے کے لیے دو مختلف اقدامات کرنے کے بعد اب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم درست سمت میں چل پڑے ہیں۔ روپیہ کی قیمت 141 سے گر کر 154 تک پہنچ چکی ہے اور ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ گراوٹ کہاں تک جاری رہے گی۔ شرح سود بھی بہت اوپر جا چکا ہے اور مزید اوپر جا رہا ہے۔ اس اہم موقع پر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ پی ٹی آئی گورنمنٹ اس صورتحال کی ذمہ داری قبول کرنے میں کس قدر عزم یا کمزوری دکھاتی ہے اور اس کے معیشت پر کیا اثر ات ہو سکتے ہیں۔ عوام پہلے ہی بے چین ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہم 'بائیکاٹ ڈالر' جیسی مہم دیکھ چکے ہیں  اور کچھ لوگوں نے تو ٹی وی کیمرہ کے سامنے ڈالر کو آگ لگا کر  قومی ہیرو بن چکے ہیں۔ سلیبرٹیز اور علما  آگے بڑھ کر ڈالر بائیکاٹ مہم کو سراہ رہے ہیں ۔ وٹس ایپ گروپ  فارین کرنسی اکاونٹ فریزنگ    اور سعودیہ سے تیل ادھار ملنے کی خبروں پر جشن منانے میں مصروف ہیں اور یہ تو صرف شروعات ہے۔

میرے گھر کے قریب گراسری سٹور کا مالک جس نے مجھے کئی بار ٹی وی پر دیکھا  ہے اور میں جب بھی اسے ملتا ہوں تو میرے ساتھ سیاست پر بات چیت کرتا ہے  نے پچھلے ہفتے مجھے پوچھا کہ ہم بچ جائیں گے یا نہیں۔ جب میں نے کہا   جی ہاں تو اس نے پوچھا کہ کیا حکومت بچ پائے گی؟ میں نے کہا ایسا ہی لگتا ہے تو اس نے پوچھا کہ عمران خان وزیر اعظم رہ پائیں گے؟

اس وقت گراونڈ کی صورتحال سرخ بتی کی عکاس بنی ہوئی ہے۔۔ آپ مہنگائی کو سپن ہیں کر سکتے اور آپ جذباتی تقاریر سے میکرو اکنامک خساروں کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔ یہ سچ ہے کہ موجودہ حکومت نے یہ صورتحال نہیں پیدا کی بلکہ یہ انہیں ورثے میں ملی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جب یہ حکومت اقتدار میں آئی اور جب خسارے بڑھ رہے تھے تو وزیر اعظم ڈیم فنڈ کے بارے میں بات کرنے میں مصروف تھے، جذباتی تقاریر کر رہے تھے اور غریبوں میں مرغیاں بانٹنے اور لوٹی ہوئی دولت واپس کرنے    میں مصروف تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ، اس وقت کے فنانس منسٹر اسد عمر نے اعلان کیا تھا کہ خسارے اس حد تک کم ہو چکے ہیں کہ ان کو بلی پر پہنچنے سے بچت ہو گئی ہے لیکن  پھر انہوں نے پہلی بار  آئی ایم ایف جانے کا اعلان کر دیا تھا۔ اگر خساروں کو کم کر لیا گیا تھا تو پھر آئی ایم ایف جانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟

گورنمنٹ کو یہ صورتحال ورثہ میں ملی ہے  لیکن انہوں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا  اور یہ یقین دلایا کہ اس کو چندہ، لاٹری، اور دوست ممالک سے بھیک مانگ کر درست کر لیا جائے گا۔ نو ماہ تک حکومت بھیک مانگتی رہی۔ اس دوران ریونیو  میں بھی کمی آتی گئی  اور بزنس کمیونٹی کو بہت سی مشکلات سے گزرنا پڑا جس کی وجہ روپیہ کی قیمت میں گراوٹ تھی اور جواب میں انہیں ایکسپورٹ میں بھی کمی دیکھنے کو ملی۔ اگست 2018 میں فارین ریزروز 9.8 ارب ڈالر تھے جب یہ حکومت بنی۔ سعودیہ سے 3 ارب ڈالر، یو اے ای سے 2 ارب ڈالر اور چین سے 2.2 ارب ڈالر لے کر بھی  ریزروز 8.8 ارب ڈالر ہیں۔ اس سب رقم کا کیا ہوا؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے۔  یہ معیشت کی خرابی پر ضائع ہو گئی اور اور قرضے مزید بڑھ گئے اور ایسی حالت کو ہم پہنچ چکے ہیں کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو ایڈجسٹمنٹ  ستمبر میں لازمی تھی وہ ہم  نے مئی میں کی۔ اب حوحکومت ایسی پوزیشن میں آ گئی ہے کہ اپے آپ کو ایک بڑے سوراخ میں گرنے سے بچا لے  اور مالی خساروں کو کم کرنے کےلیے زیادہ ٹیکس وصول کرے۔ اس لیے موجودہ ایڈ جسٹمنٹ ظالمانہ  نوعیت کی محسوس ہوتی ہے۔ اس کا مقصد گرزے ہوئے وقت کا  ازالہ کرنا  اور تیزی سے تباہی کی طرف گامزن صورتحال کو کنٹرول کرنا ہے۔

تو پھر حکومت کس قدر قوت کے ساتھ ان ایڈجسٹمنٹس کی ذمہ داری قبول کر سکتی ہے؟ اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بے چینی اب ٹی وی سکرین پر  جاری بحث پر اثر انداز ہو رہی ہے جہاں ٹی وی اینکرز نے بڑے سوالات پوچھنا شروع کر دیا ہے۔ اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ صورتحال کب تک جاری رہے گی؟ کیا اس سے بغیر تکلیف کے نمٹنے کا کوئی اور طریقہ موجود ہے؟

لیکن قابل توجہ سوالات وہ ہی جو میرے دکاندار دوست نے اٹھائے ہیں۔ اس طرح کے  حالات میں قیادت فراہم کرنا بہت اہم ہوتا ہے ، خاص طور پر جب عام آدمی بے چینی کا شکار ہو اور ائیر ویوز   میں ٹینشن کی مداخلت ہو  تو پھر صورتحال بہت بدل جاتی ہے اور ایسی نہیں رہتی جس کی یہ حکمران سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ جب عوام پر  مہنگائی، بے روزگاری   کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہو تو جذباتی تقاریر اور  آنے والے کل کے خوشگوار ہونے کے وعدے کام نہیں دے سکتے۔ اب عمران خان کے پاس سیاسی طور پر ایک ہی آپشن باقی ہے۔ انہیں آگے آ کر اپنی حکومت کی طرف سے کیے گئے اقدامات کی ذمہ داری لینا ہو گی ۔ ایسا نہ کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ خاموشی اختیار کر کے ہار مان رہے ہیں اور خود کو  غیر متعلق کر کے اپنی اہمیت کھو رہے ہیں جو کہ ایک پرائم منسٹر کے لیے بلکل بھی  مناسب رویہ نہیں ہے۔ اسے عوام کے اندر بے چین لوگوں کو   مخاطب کرنا ہو گا کیونکہ اس وقت زیاد ہ تر عوام کے ذہن میں یہی چیز گھر کیے ہوئے ہے۔

کیا وہ ان ایڈجسٹمنٹس کی ذمہ داری لےسکتےہیں؟ ابھی تک تو کسی بھی سینئر پارٹی ممبران میں سے کوئی بھی اس بات کے لیے تیار نہیں ہے کہ وہ آگے بڑھے اور مہنگائی اور روپیہ کی بے قدری پر بات کر سکے۔ جو لوگ آگے آنے کی ہمت کرتے ہیں وہ بھی دو میں سے ایک پیغام لے کر آتے ہیں۔ یا  تو ان کا کہنا ہوتا ہے کہ یہ نواز شریف کی غلطی ہے  یا پھر الزام زخیرہ اندوزوں پر لگا کر یہ دعوی کر دیا جاتا ہے کہ انہیں جلد دھر لیا جائے گا۔  دونوں پیغامات میں ایک چیز مشترک ہے۔ یہ دونوں غیر اہم معاشی معاملا ت کو زیادہ اہم بنا دیتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں الزامات کا کھیل ایک ناکام اور بُرا بیانیہ نہیں کہلا سکتا۔ کچھ لوگوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہو گی کہ نواز نے کیا کیا بلکہ وہ اپنے حکمران سے پوچھیں گے کہ وہ اس بارے میں کیا اقدامات کر رہے ہیں۔ مجرموں کو الزام دینا  بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ قانونی کاروائی کے ذریعے ملک کے خساروں کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ لاٹری، صدقہ، چندہ اور بڑے بڑے دعووں جن کا اظہار 2018 میں دیکھا گیا، کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔ اب حقیقت کھل چکی ہے اور بیانیہ  بے وقعت ہو چکا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *