ن اور پی پی کا مستقبل

آخر کار مولانا فضل الرحمان کی  ن لیگ اور پی پی کو حکومت مخالف احتجاج پر آمادہ کرنے کی کوششیں رنگ لے آئیں۔ پچھلے ہفتے اپوزیشن پارٹیز کا ایک افطار ڈنر منعقد ہو ا جس کی صدرات بلاول بھٹو نے کی اور اس میں شاہد خاقان عباسی، مریم نواز شریف، مولانا فضل الرحمان  اور چھوٹی پارٹیوں کے لیڈران شامل ہوئے۔ ساری قیادت ایک بات پر متفق نظر آئی ۔ وہ یہ کہ  عید کے بعد ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہو گی جس میں آگے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ البتہ ترجیحات اور آراء میں واضح فرق تھا۔

پی پی اور ن لیگ دونوں کا یہ موقف تھا کہ گورنمنٹ کو اپنا  وقت پورا کرنا چاہیے۔ کسی بھی پارٹی نے ملی ٹیبلشمنٹ کے خلاف  ایک لفظ تک نہیں بولا  جس سے وہ فطری طور پر نفرت کرتے ہیں۔دونوں جماعتیں چاہتی ہیں کہ جب تک عوام خود  آئی ایم ایف ڈیل کے بعد حکومتی  فیصلوں سے تنگ آ کر احتجاج کے لیے نکلنے کےلیے تیار نہیں ہو جاتے تب تک کسی قسم کی احتجاجی تحریک کا آغاز نہ کیا جائے ۔ دونوں یہ وضاحت کرنا چاہتی ہیں کہ ان کی اپوزیشن کا تعلق، پی ٹی آئی، ملی ٹیبلشمنٹ یا نیب کی طرف سے  کرپشن پر احتساب سے نہیں ہے ۔

کے پی کے سے تعلق رکھنے والی اے این پی کے سربراہ میاں افتخار حسین جن کا اکلوتا بیٹا طالبان کے ہاتھوں مارا گیا تھا  ان کا موقف سب سے واضح اور کلیر تھا۔ انہوں نے ملک کے بڑے اور اہم مسائل پر روشنی  ڈالی جن میں 2018 الیکشن کی دھاندی بھی شامل تھی اور  جس کا الزام ملی ٹیبلشمنٹ پر لگایا جاتا ہے۔ لیکن جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پشتون تحفظ موومنٹ کے لیڈر علی وزیر اور محسن داوڑ   زیادہ کھل کر نہیں بولے اور اپنے سابقہ موقف میں تبدیلی دکھاتے ہوئے انہوں نے ملی ٹیبلشمنٹ کو براہ راست تنقید کا نشانہ نہیں بنایا۔ اس سے یہ اتفاق ظاہر ہوتا ہے کہ تنقید کا رخ صرف عمران خان پر رکھا جائے اور نیب اور ملی ٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنا کر اشتعال نہ دلایا جائے۔

عید کے بعد اے پی سی  میں جو کچھ ہو گا اس انحصار نواز اور زرداری کی قسمت پر ہو گا۔ نواز شریف ضمانت حاصل کر کے بیرون ملک جانے کے لیے بے چین ہیں اور زرداری گرفتاری سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں جس  کو بھی ریلیف ملے گا وہ ملی ٹیبلشمنٹ کے خلاف محاذ آرائی سے گریز کرے گا اور حکومت کے خلاف احتجاج کی تحریک میں بد دلی دکھائے گا۔ لیکن اگر دونوں  کو بلی کا بکرا بنا دیا گیا  تو ہم یہ توقع کر سکتے ہیں کہ  دونوں پارٹیاں بھر پور احتجاج کریں گی اور بے روز گاری اور مہنگائی سے تنگ عوام کو سڑکوں پر لانے کی بھر پور کوشش کریں گی۔

آصف زرداری ایک سے دوسری عدالت کے چکر لگا کر ضمانتیں حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ انہیں کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہے ۔لیکن نواز  کی قسمت کا ٖفیصلہ کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ ان کی ضمانت کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہے   اور سپریم کورٹ میں موجود درخواستیں بھی 2 سے تین ماہ کے عرصہ سے قبل نمٹ نہیں پائیں گی۔ اس لیے  یہ ممکن نہین لگتا کہ ن لیگ اس  وقت تک ملی ٹیبلشمنٹ کے تعاون سے چلنے والی  پی ٹی آئی کے خلاف کھل کر سامنے آئے گی۔ دوسرے الفاظ میں بجٹ  کے بعد ہونے والی اے پی سی ملیٹنٹس کے احتجاج سے بھی زیادہ  سخت اور جارحانہ ہو گی۔

حالات کا اندازہ لگانے کے لیے  حال ہی میں چیئرمین نیب کے انٹرویو کو دیکھ لیں  جو انہوں نے جاوید چوہدری کو دیا  تا کہ افطار پارٹی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ  آصف زرداری اور حمزہ شہباز بہت جلد گرفتار ہوں گے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ شریف خاندان این آر او ڈھونڈ رہا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگر نیب اتحادی جماعتوں کے خلاف کیسز بنائے تو پی ٹی آئی حکومت 10 منٹ میں ختم ہو جائے گی اور وہ ملک میں سیاسی استحکام کی خاطر ایسا نہیں چاہتے۔ مختصرا یہ کہ ان کے انٹرویو سے معلوم ہوتا ہے کہ نیب  پر وزیر اعظم کی طرف سے دباو ہے کہ وہ پی پی اور ن لیگ پر شکنجہ سخت کریں  اور عوامی رائے کو اپوزیشن لیڈر کے خلاف کریں۔

اس سے قبل کہ وہ اپنی اپنی سیاسی حکمت عملی تیار کرین، اپوزیشن سیاسی جماعتں  عمران خان اور ملی ٹیبلشمنٹ کے درمیان کے تعلق کو بھر پور طریقے سے پرکھیں گی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عمران خان سیاسی فیصلوں کی آزادی رکھتے ہیں خاص طور پر اپوزیشن سے متعلق فیصلوں میں خود مختار ہیں۔ دوسروں کا خیال ہے کہ ملی ٹیبلشمنٹ سارے فیصلے کرتی ہے اور عمران کا رول ایک کٹھ پتلی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اگر پہلی بات مان لی جائے تو عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنانے کے کچھ نتائج ہوں گے۔ لیکن اگر دوسری بات سچ ہو تو ملی ٹیبلشمنٹ کے قریب رہنے سے کچھ خطرہ نہیں ہو گا۔  حقیقت یہ ہے کہ درست پالیسی یہ ہو گی کہ عمران خان کو  معاشی اور سماجی بدحالی پرسخت تنقید کا نشانہ بنایا جائے اور بلواسطہ  ان قوتوں کو بھی دباو میں لایا جائے جو عمران کے پیچھے بیٹھی ہیں۔  اس کا مطلب یہ بھی ہو گا کہ ملی ٹیبلشمنٹ نے شہباز شریف اور زرداری کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے  جس میں عمران خان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اس سے اپوزیشن  اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور ہو جائے گی۔

اگلے چھ ماہ یں تین بڑی ڈویلپمنٹس ایسی ہوں گی جو پاکستان میں سیاسی استحکام کے مسئلے کو پس پشت ڈال دیں گی۔ پہلی چیز آصف زرداری اور نواز شریف  سے عدالتوں اور چئیرمین نیب کا سلوک ہو گا۔ دوسری چیز عوام کا آئی ایم ایف کی طرف سے مہنگائی پر غم و غصہ ہو گا۔تیسری چیز ملی ٹیبلشمنٹ کی ہائی کمان کی تبدیلی یا تسلسل ہو گا۔ آپ اندازہ لگائیں کہ مستقبل  میں کیا دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *