جرمنی افغان مفاہمتی عمل کی بحالی میں معاونت کیلئے تیار

کابل: افغانستان میں نیٹو کی سربراہی میں قائم اتحاد کے مرکزی عطیات دہندہ ملک جرمنی بھی طالبان اور افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کررہا ہے تا کہ 18 سال سے جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے مفاہمتی عمل کا دوبارہ آغاز کیا جاسکے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک جانب طالبان بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بارے میں امریکی حکام کے ساتھ اکتوبر سے مذکرات کررہے ہیں جبکہ افغان حکومت کو کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہوئے اس سے بات چیت کرنے سے انکاری ہیں۔

تو دوسری جانب برلن کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان اور پاکستان مارکوس پوزیل نے افغان حکومت سے بات چیت کے لیے کابل کا دورہ کیا اور دوحہ میں طالبان عہدیداران سے اس ماہ 2مرتبہ ملاقات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پر امن افغانستان کی جانب حالیہ مواقعوں کو کھونا نہیں چاہیے اگر افغانستان اور جرمنی کے دوست اس کوشش میں مدد کرسکتے ہیں تو ہمیں کرنا چاہیے‘۔

اس ضمن میں ایک جرمن عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ’ہمارے خیال میں امریکا طالبان مذاکرات میں اسی وقت تیزی آسکتی ہے جب عسکریت پسندوں کے رہنما افغان حکومت سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہوجائیں‘۔

دوسری جانب دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ جرمنی ان متعدد ممالک میں شامل ہے جس نے پر امن معاہدے میں تعاون کی پیشکش کی اس کے ساتھ ان میں یورپی یونین اور انڈونیشیا بھی شامل ہے۔

سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین بات چیت کے جرمنی میں انعقاد کے حوالے سے جرمن نمائندوں سے گفتگو ہوئی تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ امریکی افواج کے انخلا کے بدلے طالبان کی جانب سے عسکری گروہوں مثلاً القاعدہ سے تعلقات ختم کرنے کا سمجھوتہ ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’آخر میں طالبان سمیت افغانوں کو خود اس ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا‘۔

تاہم اب تک نہ تو جنگ بندی پر اور نہ ہی افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ طے پاسکا جو تصفیے کی انتہائی اہم شرائط ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ایک افغان وفد کو طالبان رہنماؤں سے قطر کے دارلحکومت دوحہ میں ملاقات کرنی تھی لیکن وفد کے شرکا کی تعداد پر اعتراض کے باعث آخری وقت پر اسے منسوخ کردیا گیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *