خوشی کامیابی سے نہیں بلکہ کامیابی خوشی پر منحصر ہے

محنت کریں، کامیابی سمیٹیں تبھی آپ خوش رہ سکتے ہیں۔ یہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو والدین، اساتذہ اور ساتھیوں کی طرف سے بتایا اور سکھایا جاتا ہے۔ یہ آئیڈیا کہ خوشی کے حصول کے لیے کامیابی کا حصول ضروری ہے امریکہ کے سب سے اہم اداروں (ڈیکلئریشن آف انڈی پنڈنس) عقائد (امریکی خواب) اور کہانیوں (راکی اور سنڈریلا) کے ذریعے پروان چڑھایا جاتا ہے۔ زیادہ تر لوگ خوش رہنا چاہتے ہیں  اس لیے وہ بہت شدت سے کامیابی کا پیچھا کرنا چاہتے ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ  اطمیان اور خوشی کالج میں داخلہ لینے، اپنی پسند کی نوکری حاصل کرنے  میں پوشیدہ ہے۔ لیکن بہت سے لوگوں کے لیے  خوشی اور کامیابی دونوں چیزیں ہمیشہ پہنچ سے دور ہی رہتی ہیں۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ ترتیب ان کے خیال کے بلکل بر عکس ہوتی ہے ۔

ہمارا نظریہ یہ ہے کہ خوشی کیریر میں کامیابی کی علامت ہوتی ہے  نہ کہ کیریر کی کامیابی خوشی کی علامت۔ سائیکالوجیکل سائنس  میں  خوشی کو تعلق ذاتی اطمینان اور مثبت جذبات ہوتے ہیں۔ جو لوگ  مطمئن رہنے کےخواہش مند ہوتے ہیں وہ  اپنی زندگی میں زیادہ  مطمئن نظر آتے ہین اور زیادہ مثبت جذبات اور کم منفی جذبات رکھتے ہیں۔ ریسرچ کے مطابق یہ مثبت جذبات جیسا کہ  جوشیلا پن، خوشی اور سکون دفتر میں بھی کامیابی کی راہیں کھولتے ہیں۔

اب ہم ان تحقیقات کا جائزہ لیتے ہیں  جن کے تحت مختلف لوگوں کو مشاہدہ کے عمل سے گزارا گیا ہے۔ اس سے ریسرچرز کو یہ طے کرنے میں مدد ملتی ہے کہ آیا خوشی اور کامیابی کا آپس میں کوئی تعلق ہے بھی یا نہیں۔ یہ تاثر پایا گیا ہے کہ زیادہ خوشحال لوگ اپنی جاب سے زیادہ مطمئن ہوتے ہیں ، انہیں زیادہ سوشل سپورٹ میسر ہوتی  ہے  اور ان کے سپروائزرز کی نظر میں بھی وہ زیادہ بہتر  کارکررگی کی رپورٹ حاصل کرتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ باس حضرات  زیادہ خوش ملازمین کو زیادہ مثبت ریٹنگ سے نوازتے ہیں  جس کی وجہ وہ اثر ہوتا ہے جو ایک چیز کے مثبت ہونےے کی وجہ سے دوسری چیز کو بھی مثبت بناتا ہے ۔ شواہد سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ  جو لوگ زیادہ خوشی کا خیال رکھتے ہیں وہ کام سے تعلق رکھنے والے معاملات میں بھی زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ  مثبت آوٹ لک والے سیلز  ایجنٹس اپنےساتھیوں کے مقابلے میں 37 فیصد زیادہ انشورنس پالیسیاں بیچ سکتے ہیں۔دوسرے ایریا ز میں بھی خوشی کا تعلق کام میں کارکردگی سے بھی ہوتا ہے ۔ جو لوگ شروع سے ہی مثبت جذبات کے حامل ہوں وہ اپنی  کمپنی یا دفتر کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ وہ جاب سے غیر حاضر بھی نہیں رہتے اور جاب چھوڑنے سے  بھی گریز کرتے ہیں۔   زیادہ خوش رہنے والے اور مطمئن لوگ زیادہ آمدنی والی نوکری کے حصول میں بھی کامیاب رہتے ہیں۔

لیکن اس تحقیق کی کچھ حدود بھی ہیں کیونکہ اس سے یہ طے نہیں ہوتا کہ پہلے کون سی چیز حاصل ہوتی ہے خوشی یا کامیابی۔ شواہد کے مطابق جو لوگ زندگی کے شروع سے ہی خوشگوار ہوتے ہیں انہیں کیریر میں کامیابی بھی جلد مل جاتی ہے۔ جتنا جلدی کوئی شخص زندگی میں خوشی حاصل کرتا ہے اتنی ہی جلدی اس کے لیے کامیابی کے حصول کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔

پازیٹو جذبات تازہ ترین کامیابی اور آمدنی کا بھی اشارہ دیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق 18 سالہ ہشاش بشاش لوگ کسی اچھے اور  مالی طور پر مضبوط ادارے میں کام کر رہے ہوتے ہیں اور 26 سال کی عمر تک خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ اک اور تحقیق کے مطابق کالج لائف میں خوشحال رہنے والے لوگ بہتر مالی  آمدنی کے حصول میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

لیکن یہ کافی نہیں ہے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ  خوشی کامیابی سے پہلے ہی آتی ہے۔ ہم  جاننا چاہتے کہ کیا ان میں سے ایک چیز دوسری کی آمد کا باعث بنتی ہے؟   جو بھی ہو ، کوئی تو ایسے عوامل ہوں گے ، جیسا کہ ذہانت یا  کھل کر بات کرنے کی صلاحیت،  جو کہ خوشی اور پرفارمنس دونوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایکسٹراورٹ لوگ  زیادہ خوش ہوتے ہیں اور زیادہ آمدنی بھی کما سکتے ہیں۔ تجرابت سے معلوم ہوا ہے کہ جن لوگوں کو مثبت جذبات سے روشناس رکھا جاتا ہے وہ زیادہ بڑے مقاصد سامنے رکھتے ہیں، زیادہ دیر تک چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں اور خود اور دوسروں کو زیادہ مثبت نظر سے دیکھتے  اور یقین رکھتے ہیں کہ انہیں کامیابی ضرور ملے گی۔ ان کی پر امیدی بھی حقیقت پسندی پر مبنی ہوتی ہے ۔ اس کے بر عکس منفی جذبات رکھنے والے لوگ  کامیابی کے حصول میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ثبوتوں کی اکثریت  اس تجزیہ کے حق میں ہے کہ خوش رہنے والے لوگ نا خوش لوگوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

170 مطالعات کی تحقیق کے بعد  یہ واضح ہو چکا ہے کہ  اچھا انسان ہونا اور خوش ہونا بہت سے پہلو  سے کیریر کی کامیابی کا راستہ ہموار کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ناخوش لوگ کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ ایسا نہ ہو کہ جو لو گ یہ آرٹیکل پڑھ رہے ہیں وہ یہ سوچ کر پریشان ہو جائیں کہ انہیں فوری طور پر اپنی اداسی دور کر لینی چاہیے ورنہ کامیابی  ملنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس کے برعکس  تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ڈیپریشن کا شکار لوگ جن میں ابراہم لنکن اور ونسٹن چرچل بھی شامل تھے، بھی ناقابل یقین کامیابیاں سمیٹ سکتے ہیں۔ مثبت اور منفی جذبات صورتحال سے مطابقت رکھتے ہیں ۔ خوش کا نا خوش ہونے کا بھی ایک خاص وقت ہوتا ہے۔

اگر کوئی بزنس لیڈر یا مینیجر یہ آرٹیکل پڑھ رہے ہیں تو ہم انہیں خبردار کرتے ہیں کہ  وہ صرف ظاہری طور پر خوش نظر آنے والے لوگوں کو بھرتی کرنے سے گریز کریں  اور اپنے ملازمین کو زیادہ پریشر میں رکھنے سے بھی پرہیز کریں۔ ایسی حکمت عملی  ماضی میں بھی اپنائی گئی اور ناکام ہوئی جیسا کہ  امریکہ کے ٹریڈر جو کی سوپر مارکیٹ چین میں ملازمین کو خوشگوار  لہجہ اپنانا ضروری قرار دیے جانے کا فیصلہ تھا۔ اس سے وہاں کے ملازمین کی حالت مزید بگڑ گئی۔ لوگ اور کمپنیاں  جو بہتر طریقے سے خوش گواریت لانا چاہتے ہیں تو انہیں مثبت سرگرمیاں   اپنانی ہوں گی جن میں اچھائی کے کام اور شکریہ کا اظہار جیسے اعمال شامل ہو سکتے ہیں۔

1951 میں برطانوی فلاسفر برٹرینڈ رسل نے کہا تھا : میری رائے میں اچھی زندگی وہ ہوتی ہے جو خوشگوار ہو"۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا: لیکن میرا مطلب یہ نہیں کہ اگر آپ اچھے ہیں تو آپ خوش بھی ہوں گے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ خوش ہیں تو ہی آپ اچھے ہوں گے۔ جہاں تک دفتر میں اپنی دہاک بٹھانے کا معاملہ ہے تو ہم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو  ادھر ادھر گھومنے کی بجائے خوشی تلاش کیجئے۔

بشکریہ  لیزا والش، جولیا کے بوہم، سونجا لیوبومرسکی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *