حکومت کا قومی ایکشن پلان کی از سر نو تشکیل کا فیصلہ

 

پاکستان کے وفاقی محکمہ داخلہ نے نیشنل ایکشن پلان (نیپ) کے چند نکات کو ضم کر کے اس کی ازسرنو تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔

محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ اونرشپ کے فقدان کی وجہ سے قومی ایکش پلان کی ذیلی کمیٹیاں، اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین کرنے والے رہنما اصول یعنی ٹرمز آف ریفرنس نہیں بن سکے تھے۔

واضح رہے کہ دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کی متفقہ رائے سے قومی ایکشن پلان تشکیل دیا گیا تھا۔

اس کے تحت ملک بھر میں دہشت گردی میں ملوث تنظیموں اور مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں جبکہ صوبائی سطح پر ایپکس کمٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔

قومی ایکشن پلان میں نقائص، ذمہ داریوں اور ٹائم لائن کی عدم دستیابی

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت 28 مارچ کو قومی سلامتی کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ قومی ایکشن پلان کوئی جامع منصوبہ نہیں فراہم کر سکا جس کے پاس مالی وسائل اور نہ ہی ٹائم فریم تھا۔

اس حد تک کہ اس کے شراکت داروں اور پلان پر عملدرآمد کرنے والوں کی نشاندہی تک نہیں کی گئی تھی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، عسکری فورسز نے اپنے طور پر کامیابیاں حاصل کیں۔

اس اجلاس کے نکات کے مطابق سیکریٹری داخلہ نے وزیر اعظم کو بتایا کہ نیپ میں وفاقی سطح پر تعاون، مانیٹرنگ، تنقیدی جائزہ لینے کا کوئی طریقۂ کار واضح نہیں تھا۔

اس کے علاوہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ذمہ داریوں کے عدم تعین اور ٹائم لائن کی عدم دستیابی میں کسی کو ذمہ دار ٹھہرانا ممکن نہیں تھا۔

وزیر اعظم نے قومی سلامتی کمیٹی برائے داخلہ بشمول ٹرمز آف ریفرنس کی تشکیل کی منظوری دے دی۔ یہ کمیٹی نظر ثانی اور توثیق کی ذمہ دارہوگی۔

سیکریٹری داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے علاوہ نیشنل ایکشن پلان کا کوئی مرکزی ڈیٹا بیس ہونا چاہیے جس میں مشترکہ اسیسمنٹ فریم ورک ڈیٹا کی چھان بین کی جائے کیونکہ ایک ہی معاملے پر متعدد ایجنسیوں کی اطلاعات کی وجہ سے دوہراپن آجاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کارکردگی کے کلیدی اشاریے یعنی ’کی پرفارمنس انڈیکیٹر‘ کے بغیر قومی نیشنل پلان کے ہر نکتے اور ایجنسی کی کارکردگی کی نگرانی اور تجزیہ ممکن نہیں۔

پاکستان

نیشنل ایکشن پلان کے نکات کا انضمام

نیشنل ایکشن پلان بنیادی طور پر 20 نکات پر مشتمل تھا۔ سیکریٹری داخلہ نے چند نکات کے انضمام کا مشورہ دیا تاکہ ان پر ایکسپرٹ گروپس بنائے جا سکیں۔

ماہرین کے یہ گروپس ٹرمز آف ریفرنس کی تشکیل، ان پر عملدارآمد، شراکت داروں کی نشاندہی، مانیٹرنگ کا میکنزم، ٹائم لائن اور وسائل کی نشاندہی کریں گے۔

قومی ایکشن پلان کے پہلے اور دوسرے نکتے کو ضم کرنے کی تجویز پیش کی گئی جس کے تحت دہشت گردی کے مقدمات میں سزا یافتہ ملزمان کی سزائے موت پر عمل درآمد اور فوج کے زیر انتظام عدالتوں کی مدت دو سال کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

ان نکات پر ماہر گروپ بنانے کی منظوری دی گئی جس میں سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری قانون و انصاف، جنرل ایڈوکیٹ برانچ یعنی جیگ سمیت صوبائی محکمہ داخلہ، محکمہ انسداد دہشت گردی، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے نمائندگی ہوگی۔

سیکریٹری داخلہ نے نیپ کے نکات نمبر 3، 7، 13، 15 اور 18 کو ضم کرنے کی تجویز پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی ساخت میں یہ ایک ہی ہیں، انھیں ماہرین کے گروپ کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ اس پر تفصیلی لائحہ عمل تیار کر سکیں۔

نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات

لائن
  • سزا یافتہ دہشت گردوں کی سزائے موت پرعملدرآمد کیا جائے گا۔
  • دوسال کے لیے فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
  • سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت عسکریت پسند گروہوں کے عسکری و مسلح ونگز کا خاتمہ کیا جائے گا۔
  • نیکٹا کو مضبوط و موثر بنایا جائے گا۔
  • انتہاپسندی، فرقہ واریت اور عدم برداشت کی تشہیر کرنے والے نفرت انگیزتقاریر و مواد کے خلاف مکمل کارروائی کی جائے گی۔
  • دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظمیوں کی مالی امداد روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
  • کالعدم تنظیموں کوکسی دوسرے نام سے بھی کام کرنے سے روکا جائے گا۔
  • مذہبی منافرت پھیلانے کے خلاف سخت اقدامات اور اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
  • خصوصی انسدادِ دہشت گردی فورس کا قیام اور تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔
  • دینی مدارس کی رجسٹریشن اورضابطہ بندی کا اہتمام کیا جائے گا۔
  • پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پردہشت گرد تنظیموں اوران کے نظریات کی تشہیر پر مکمل پابندی ہو گی۔
  • فاٹا میں انتظامی وترقیاتی اصلاحات کی جائیں گی،آئی ڈی پیز (بےگھر افراد) کی واپسی پر توجہ دی جائے گی۔
  • دہشت گردوں کے مواصلاتی نظام کو ختم کیا جائے گا۔
  • انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر دہشتگردوں اور اُن کے نظریات کے فروغ پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔
  • پنجاب بھر میں عسکریت پسندی ناقابل برداشت ہو گی۔
  • 'کراچی آپریشن' کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
  • بلوچستان حکومت کو تمام اسٹیک ہولڈرزسے سیاسی مفاہمت کا اختیار دیا جائے گا۔
  • فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر کے ساتھ سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا۔
  • افغان پناہ گزینوں کے معاملے سے نمٹنے کی لیے جامع پالیسی مرتب دی جائے گی اور اس کے لیے سب سے پہلے افغان پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا جائے گا۔
  • فوجداری نظام میں تبدیلیاں اور اصلاحات کا عمل تیزکیا جائے گا۔
لائن

ان نکات کے مطابق عسکریت پسندوں اور مسلح گروہوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ کالعدم تنظیمیں دوبارہ سرگرم نہ ہوں، دہشت گردوں کے مواصلاتی نیٹ ورک کو غیر فعال کیا جائیگا، پنجاب میں عسکریت پسندی کو برداشت نہیں کیا جائیگا، فرقہ وارنہ تنظیموں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائیگا۔

قومی سلامتی کمیٹی برائے داخلہ میں وفاقی محکمہ داخلہ کی یہ بھی تجویز تھی کہ نیشنل ایکشن پلان کے نکات نمبر 5، 11 اور 14 کو ضم کیا جائے۔

نکتہ 5 کے مطابق شدت پسندی، فرقہ واریت، عدم برادشت اور نفرت پیدا کرنے والے اخبارات، جرائد اور دیگر مواد پر پابندی عائد کی جائیگی۔

اس کے علاوہ دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں کی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر تشہیر پر پابندی ہوگی۔ دہشت گردی کے لیے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال کی روک تھام کی جائیگی۔

نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر انداز سے عملدرآمد کے لیے ماہرین کے 14 گروپ بنائے جائیں گے، جن میں کاؤنٹر ٹیررازم محکمہ کی مضبوطی، مذہب کی بنیاد پر ایذا رسائی، مدارس اور فاٹا میں اصلاحات، کراچی میں امن و امان کا قیام، بلوچستان میں سیاسی مفاہمت، افغان مہاجرین کی واپسی، عسکریت پسندوں سے مفاہمت اور آبادکاری اور تین ملکی بارڈر سکیورٹی پر ماہرین کے گروپس شامل ہوں گِے۔

پاکستان

میٹنگ کے مندرجات میں مزید کہا گیا ہے کہ جیسے ہی ماہرین کے یہ گروپ تشکیل دے دیے جائیں گے قومی سلامتی برائے داخلہ کی کونسل قومی ایکشن پلان کے تحت توثیق کرے گی اور قومی سلامتی برائے داخلہ کی کونسل اور کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

بی بی سی اردو کے پاس موجود میٹنگ کے دستاویزات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسند گروپ مذہبی تعلیم کے میدان میں جڑیں پکڑ رہے ہیں۔

وزیر اعظم کے مطابق کئی نامور مذہبی اسکالر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور مذہب شدت پسندوں ہاتھ میں چلا گیا ہے۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف جو فیصلہ لیا گیا ہے اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔

انھوں نے صوبائی حکومتوں کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کا معاملہ خوش اسلوبی سے نمٹانے پر تعریف کی اور کہا کہ مشترکہ آپریشن اور تعاون کی وجہ سے ٹی ایل پی کے خلاف موثر سخت ایکشن لیا گیا۔

’ایسی تنظیموں کے خلاف آپریشن کی رفتار میں کمی نہیں آنی چاہیے کیونکہ ان میں کئی ایسے کھلاڑی شامل ہیں جو ملک میں افراتفری پھیلانے میں ملوث ہیں۔‘

دہشت گردی کے لیے مالی معاونت

وفاقی وزیر سیکریٹری داخلہ نے اجلاس کو بتایا کہ سائبر سکیورٹی اور فنانشنل ٹاسک فورس خصوصی توجہ کی طلب گار ہے۔

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے آگاہ کیا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس پاکستان کا دوبارہ تجزیہ کر رہا ہے جبکہ پاکستان نے نیشنل رسک اسیسمنٹ دستاویز جمع کروا دی ہیں، تاہم نگراں باڈی نے کالعدم تنظیموں کے حوالے سے رسک اسیسمنٹ کو قبول نہیں کیا۔

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے بتایا کہ ایشیا پسیفک گروپ آن منی لانڈرنگ کا اجلاس رواں سال اگست میں ہونا ہے جس میں پاکستان ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے کیے گیے اقدامات کی رپورٹ پیش کرے گا۔

یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف کی مہلت ستمبر 2019 تک ختم ہوجائے گی اور اس سے قبل تمام متعلقہ اداروں نے اقدامات اٹھانے ہیں تاکہ پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری آئے۔

دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی روک تھام اور نگرانی کے لیے ماہرین کی ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں سیکریٹری فنانس، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ، محکمہ داخلہ، سی ٹی ڈی، وازرت خارجہ، آئی ایس آئی، نیکٹا، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن اور ملٹری آپریشن ڈائریکٹوریٹ کے نمائندے شامل ہوں گے۔

غیر مسلح ہونے والوں کے لیے پالیسی ہی نہیں

بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخواہ میں کئی عسکریت پسندوں اور شدت پسندوں کو قومی دھارے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے بلوچستان میں خصوصی تقریبات بھی منعقد کی گئی لیکن اس دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ حکومت کے پاس اس حوالے سے کوئی پالیسی ہی موجود نہیں۔

سیکریٹری داخلہ نے اجلاس کو بتایا کہ اس وقت ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے جس کے تحت جو لوگ غیر مسلح ہوتے ہیں انھیں قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔

حکومت پاکستان کی مصالحت، بحالی اور قومی دھارے میں شمولیت کی پالیسی دستیاب نہیں۔ ایسے ہزاروں لوگ ہوں گے جنھوں نے ریاست مخالف سرگرمیاں چھوڑ دیں اور اب معاشرے میں شامل ہونے کے انتظار میں ہیں۔

اجلاس میں ماہرین کا ایک گروپ تشکیل دینے کی منظوری دی جس میں سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری قانون و انصاف، صوبائی سیکریٹری داخلہ، آئی جی پولیس، سول آرمڈ فورسز کے نمائندے، انٹلی جنس بیورو، آئی ایس آئی کے نمائندے اور ماہر قانون شامل ہوں گے جو پالیسی اور عمل درآمد کا طریقہ کار تشکیل دے گی۔

نیشنل ایکشن پلان عملدرآمد یونٹ

نیشنل ایکشن پلان

پاکستان کے وفاقی محکمہ داخلہ نے تجویز پیش کی ہے کہ فوری طور پر عملدرآمد یونٹ قائم کیا جائے جس میں پرکشش تنخواہ کے ساتھ 19 یا 20 گریڈ میں ڈائریکٹر جنرل تعینات ہو، 18 یا 19 گریڈ کے تین افسران، 17 گریڈ کے 6 افسران کے علاوہ دیگر ضروری عملہ فراہم کیا جائے۔

اس ڈائریکٹوریٹ میں تعیناتی میں احتیاط برتنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پی ایس پی افسران، ریٹائرڈ افسران یا ریٹائرڈ فوجی افسران اس کے لیے موزوں ہوسکتے ہیں اور اس یونٹ کو مستقبل میں پالیسی سپورٹ یونٹ ڈکلیئر کیا جائے جو محکمہ داخلہ کے ماتحت ہو۔

اجلاس میں تجویز پیش کی گئی کہ صوبائی ایپکس کمیٹیاں دوبارہ تشکیل دی جائیں جن کے پاس ٹرمز آف ریفرنس ہوں اس کے علاوہ صوبائی ایکشن پلان بھی تشکیل دیا جائے۔

وفاقی وزرات داخلہ نے اس اجلاس کے فیصلوں کی پیروی کرتے ہوئے ماہرین کے گروپس بنانے کے نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیے ہیں اور صوبائی حکومتوں کو نیشنل ایکشن پلان میں ترامیم اور دیگر فیصلوں سے آگاہ بھی کردیا گیا ہے تاکہ صوبائی حکومت اپنے موقف سے آگاہ کرسکیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *