یومِ تکبیر…

" صاحبزادہ پیر مختار احمد جمال "

یومِ تکبیر……اس بات کا گواہ ہے کہ پاکستان قائم رہنے کیلئے بنا ہے

اللہ رب العزت کا خاص کرم ہوا ……کہ آج کے دن دنیائے اسلام میں ”ایٹمی طاقت“کاپہلا تحفہ صدقہء رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم”لَاِ لَہَ اِلااللہ“کی بنیاد پر بننے والے”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کو عطا کیا گیا۔اور یہ دن یقینا……دشمنانانِ اسلام کیلئے موت کا دن تھااوربا لخصوص پاکستان کا ازلی مکار دشمن بھارت کیلئے تو یوں تھا گویا جیسے اُس کی ماں مر گئی ہو۔اس کے خواب وخیال میں بھی نہیں تھا کہ ربِ قدوس کے فضل وکرم سے پاکستان ایٹمی طاقت کے زیور سے آراستہ ہو چکا ہے۔؟
بھارت نے جب دیکھا کہ اب وہ پاکستان کیساتھ آنکھوں میں آکھوں ڈال کر دیکھنے کی سکت نہیں رکھتا تو تب اُس نے اوچھے ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہوئے امریکہ،اسرائیل،برطانیہ اور دیگر اسلام دشمن قوتوں کو ساتھ ملا کر بڑی بڑی سازشوں کے جال بُننا شروع کردیئے۔اور یوں کبھی نائن الیون (جو اِس سلسلے کی پہلی کڑی تھی)کا ڈرامہ رچایا گیا تو کبھی عراق پر بے تُکے الزام لگا کرحملہ کرتے ہوئے لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا اور اُن سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا،اسی طرح افغانستان میں بھی تاحال انسانی جانوں کا ضیاع کیا جارہاہے……کبھی ممبئی حملوں کا ڈھونگ رچا کر پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر دہشت گرد قرار دلوانے کی بھرپور کوشش کی گئی……تو کبھی ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا ڈرامہ رچایا گیا‘اور تواورستمبر2005ء سے یہودو نصاریٰ نے مل کر اپنے ناپاک اور مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے اپنی کمینگی حرکتوں پہ اترتے ہوئے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تاکہ مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکا کراقوامِ عالم سے انہیں دہشت گرد قرار دلوا کر انہیں شدید نقصان پہنچایا جائے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جس طرح آج پاکستان حکمرانوں کی نااہلی اور اپنے ذاتی مفادات کو ملکی مفادات پر ترجیح دینے کی وجہ سے پانی‘بجلی‘گیس‘ایسے بے شمار مسائل کا شکار ہے اور چاروں طرف سے وطنِ عزیز کی سالمیت کو خطرات درپیش ہیں۔اگر اللہ کے فضل سے آج ہم ایٹمی قوت سے مالا مال نہ ہوتے تو ہمارا شاطر و مکار دشمن بھارت اپنی سازشوں اور خباثتوں کا جال پھیلا کرہمیں کب کا نگل گیا ہوتا۔اور ہمیں خدانخواستہ صفحہء ہستی سے مٹانے کی امریکہ،بھارت،اسرائیلی شیطانی اتحادِ ثلاثہ کی سازشیں کامیابی سے ہمکنار ہو چکی ہوتیں۔
اسلام دین فطرت ہے اور پروردگارِ عالم انسانی نفسیات کو دیکھتے ہوئے بنی نوع انسان کیلئے مختلف احکامات جاری کیے اُن میں سے ایک حکم یہ بھی ہے کہ دشمن پر اپنی دھاک بٹھانے کیلئے اپنے آپکو ہمیشہ تیار رکھو۔ہاں یہ بات ٹھیک ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام شروع کرنے کی اصل وجہ بھارت ہی ہے (کیوں بھارت کو پاکستان شروع دن ہی سے ذرا نہیں بھاتا۔)لیکن یہ تیاری دراصل اسلامی روح کے عین مطابق ہے جس میں عسکری لحاظ سے ہمیں ہر وقت تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔قرآن پاک کی سورۃ انفال میں اللہ تعالیٰ نے واضح ارشاد فرمایا ہے کہ”اور تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان(دشمن)کے مقابلے کیلئے مہیا رکھوتاکہ اس کے ذریعے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداء کو خوف زدہ کر دو،جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔“
بانیء پاکستان قائداعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی ارشاد فرمایا تھا کہ ”اگر تم امن چاہتے ہو تو جنگ کیلئے تیار رہو۔“اسی مصورِ پاکستان اور شاعرِ مشرق حضرت علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی کہا تھا کہ
سوچا بھی ہے اے مردِ مسلماں کبھی تونے
کیا چیز ہے فولاد کی شمشیر جگر دار
مسلمان اور بطور مسلم ملک ہونے کے ناطے ہمارا یہ حق ہے کہ،جدید اسلحہ کا حصول،جدید ہتھیاروں کی تیاری اور جوہری میدان میں خوب ترقی کریں۔پھر یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ ہم اور ہمارا ایٹمی پلانٹ کیوں اِن کی نظروں میں کھٹکتا ہے۔حالانکہ الحمداللہ! مسلمان تو امن پسند ہیں اور یہی ہمارا اسلام ہمیں حکم بھی دیتا ہے۔لیکن کیا؟اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی لاکھ آنکھیں دکھاتا رہے اور ظلم وستم بھی کرتا رہے۔اور مسلمان پھر بھی خاموش رہے۔ہر گز نہیں۔
آخر میں ہم دشمنانانِ اسلام اور بالخصوص بھارت کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ نہ تو دین اسلام دبنے کیلئے آیا ہے اور نہ ہی پاکستان مٹنے کیلئے اللہ تعالیٰ کی ذاتِ مقدسہ نے ہمیں عطافرمایا ہے یہ ممکن ہی کیسے ہے کہ جس کے تخلیق ہونے اور بننے میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہو اُن کی قربانیوں کو اللہ رب العزت ضائع فرمادے۔یہ پاکستان قائم رہنے کیلئے بنا ہے اور انشاء اللہ تا قیامت قائم ودائم ہی رہے گا۔کیونکہ یومِ تکبیر…… اس بات کا گواہ ہے کہ پاکستان قائم ہی رہنے کیلئے بنا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *