لیکن یہ چیئر مین نیب سے محبت نہیں .... نوازشریف سے نفرت ہے

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

لیکن یہ چیئر مین نیب سے محبت نہیں
نوازشریف سے نفرت ہے

خامہ بدست کے قلم سے
روزنامہ 92نیوز میں جناب محمد اظہار الحق کی تازہ ”تلخ نوائی“ زیر نظر ہے۔ ”چھاج بولے سوبولے چھلنی کیوں بولے“؟ کے زیر عنوان لکھتے ہیں: درو غ برگردنِ راوی، کہتے ہیں کہ اس وقت کے طبقہء بالا میں صرف دو شخص شراب سے اجتناب کرتے تھے، اورنگ زیب عالمگیر اور مغل سلطنت کے مفتی اعظم۔حیرت ہے،اورنگ زیب عالمگیر جیسے صاحبِ ایمان اور پابندِ قرآن وسنت حکمران کے طبقہء بالا کے حوالے سے اتنی اہم بات آپ نے کسی تاریخی حوالے کے بغیر لکھ دی۔ کیا ایسی خوف ناک بات کے لیے”دروغ برگردانِ راوی“ کا سہارا کافی ہے؟ مزید لکھتے ہیں: جبکہ حقیقت یہ تھی کہ مفتی اعظم بھی موقع ملنے پر ڈنڈی مار جاتے تھے۔۔۔لیکن آپ کو یہ ”حقیقت“ کیسے پتہ چلی؟ یہ صرف شہنشاہ تھا جو مکمل پرہیز کرتا تھا۔۔۔ مہر بانی کہ آپ نے بے چارے شہنشاہ کو مکمل پرہیز کا سرٹیفکیٹ دے دیا۔ قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ فاضل کالم نگار کو تقریباً چار صدیاں پہلے کی ”تاریخ“ کا حوالہ دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس کا جواب اگلی ہی سطور میں موجود ہے، جب جناب کالم نگار اصل مقصد کی طرف آجاتے ہیں: اس وقت نیب کا ادارہ ہوتا تو نیب کے ملزمان چیئر مین کی مے نوشی کرتے وقت فلم بناتے اور اس کی معزولی کا مطالبہ کرتے۔
لیکن چیئر مین نیب کی معزولی کا مطالبہ تو کوئی بھی نہیں کررہا۔ مطالبہ صرف ان آڈیو، ویڈیوز کے حوالے سے تحقیقات کا ہے جن میں جناب محتسب ِاعلیٰ، ایک غیر محرم خاتون کے ساتھ بے تکلفانہ اور بے تابانہ اظہار فرما رہے ہیں۔ اگر یہ سب کچھ حقیقت ہے تو کیا احتساب کے سب سے بڑے منصب پر فائز شخص کو یہ سب کچھ زیب دیتا ہے؟ اور اس کا فیصلہ بھی متعلقہ ادارے (مثلاً سپریم جوڈیشل کونسل)کو کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

چیئر مین نیب اور صحافتی اخلاقیات

مگر ارشاد صاحب کو یہ عارفانہ بات کس نے بتائی؟

عبدالقادر حسن اور۔۔۔’’دونوں بھائی‘‘

حیرت ہے، فارن آفس میں ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں!!

دوکالموں پر ایک نظر

ذوالفقار علی بھٹو ،عمران خان ،نوازشریف اور عثمان بزدار

لیکن ٹھہریئے! جناب اظہار الحق اپنے ممدوح کے ان مبینہ افعال کے حق میں کیا کیا دلائل لائے، ذرا ان کا بھی لطف اٹھائیے: عجیب معاشرہ ہے، نفاق سے بھرا ہوا، چھلکتا ہوا۔ پہلا پتھر وہ مارے جس نے خود کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ اخلاقی اعتبار سے پاتال میں گرے ہوئے معززین، دوسروں پر انگلی اٹھارہے ہیں۔ نیب کا چیئر مین بھی ان ہی کی طرح گوشت پوست کا بنا ہوا، آج کے زمانے کا انسان ہے۔۔۔ جی ہاں! لیکن گوشت پوست کا یہ انسان جس منصب پر فائز ہے، اس کے تقا ضے مختلف ہیں جن کے لیے گوشت پوست کے کئی تقاضوں پر قابو پانا ہوگا۔ پھر فرماتے ہیں: ایسا نہیں کہ ان سطور میں چیئر مین کا دفاع کیا جارہاہے۔ جناب! یہ دفاع نہیں کیا جارہا تو کیا کیا جارہا ہے؟ آپ کے یہ الفاظ ”دفاع“ نہیں تو کیا ہے کہ اس حمام میں جب سب ننگے ہیں، تو صرف ایک شخص پر برہنگی کا الزام کیوں لگایا جارہاہے؟
اورنگ زیب عالمگیر کے عہد سے نکل کر موصوف ”حالاتِ حاضرہ“پر آجاتے ہیں: اورنگ زیب عالمگیر کے مفتی اعظم کا کیا ذکر؟ کیا ہر بچے بوڑھے مرد عورت امیر غریب کو نہیں معلوم کہ کونسا دستار پوش مے نوشی کے لیے معروف ہے؟ لیکن اس سے محتسبِ اعلیٰ کی مبینہ حرکات کا جواز کہاں سے نکل آیا؟ اہلِ مذہب اپنی برادری کے جرائم کو درخورِ اعتنا نہیں گردانتے، ورنہ قندیل بلوچ فیم مولوی آج مذہبی فرائض ادا نہ کررہے ہوتے۔۔۔ کالی بھیڑ یں کہاں نہیں ہوتیں، ویسے قندیل بلوچ فہم یہ مولوی صاحب اس وقت جناب کالم نگار کی چہیتی سیاسی جماعت کے علماء ومشائخ ونگ کے سربراہ تھے۔ بھارت یااسرائیل نہیں، گوگل کہتا ہے کہ پورنوگرافی دیکھنے میں یہ ملک اوّل نمبر پر ہے۔ تو کیا ان آڈیو، ویڈیوز کو بھی اسی پورنوگرافی میں شمار کرلیا جائے؟ ایک اسلام پسند بلکہ سخت اسلام پسند صحافی کا کہنا ہے کہ مے نوشی میں پیارا وطن آٹھویں نمبر پر ہے۔۔۔لیکن یہ سخت اسلام پسند صحافی کون ہے؟(جناب اوریا مقبول جان تو نہیں؟) اور اس نے اپنے پیارے وطن کو جو ”عزت افزائی“ فرمائی ہے اس کا ثبوت کیا ہے؟ آٹھویں نمبر کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہم مغرب کے کئی ممالک سے بھی آگے ہیں، جہاں کوئی ڈنرمے کے بغیر مکمل نہیں ہوتااور جہاں اسے عیب بھی نہیں سمجھا جاتا۔
لیکن قارئین ! ہمارے خیال میں تو فاضل کالم نگار نیب چیئر مین کی حمایت میں جس حدتک چلے گئے(زیادہ صحیح الفاظ میں، جس حد تک گر گئے) اس کا سبب چیئر مین سے محبت نہیں، نوازشریف سے نفرت ہے۔ محبت اور جنگ ہی میں نہیں، نفرت میں بھی شاید سب کچھ جائز ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

”شریفوں کی سیاسی باتیں“

جائز تعریف کے حوالے سے، تنگدلی اور ایسی تنگدلی؟

”صحت“پر ”صحافت“۔ اور ایسی صحافت؟

بے پناہ نفر ت اور بے حساب حسرت اُبل رہی ہے

لیکن یہ نظامی صاحب کا نوائے وقت نہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *