شہنشاہ ہمایوں کی شکست اور سندھ

وہ ایک پر عزم اور ثابت قدم  نوجوان خاتون تھیں۔ حمیدہ بانو بیگم نے  بہت سے مواقع پر گفتگو میں یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ ہمایوں سے شادی نہیں کرنا چاہتیں۔ بلآخر ایک دن دلدار بیگم   کے مہینوں  منت سماجت کرنے کے بعد   حمیدہ کے سامنے ایک نئی بات رکھی۔ انہوں نے کہا کہ حمیدہ نے کسی نہ کسی سے تو شادی کرنی ہی ہے تو کیوں نہ وہ بادشااہ سے ہی شادی کر لے۔ اس پر حمیدہ نے جو تلخ جواب دیا اس نے دلدار بیگم کو حیران کر دیا۔ انہوں نے کہا: جی میں کسی نہ کسی سے شادی کروں گی  لیکن وہ کوئی ایسا ہو گا جس کے کالر تک میرا ہاتھ پہنچ سکے  نہ کہ ایسے شخص سے جس  کی الماری کا ہینڈل بھی میری پہنچ سے دور ہو۔

برابری اور احترام کی یہ خواہش  وہ چیز تھی جس نے دلدار بیگم کو یہ سمجھنے پر مجبور کر دیا کہ حمیدہ بیگم اس شادی سے  اتنی بیزار کیوں تھی۔ دلدار بیگم نے پھر حمیدہ کو ان کے مجوزہ سٹیٹس کے بارے میں آگاہ کیا ہو گا کہ  ایک ایمپرر کی بیوی  کس قدر عزت، احترام اور محبت کی حقدار ٹھہرتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کے بعد ہی حمیدہ اس شادی کے لیےراضی ہو گئی تھیں۔ یہ ستمبر 1541 کی بات ہے جب ہمایوں  نے  کنڈلی دیکھ کر حمیدہ بیگم کو شادی کے لیے چن لیا۔ شادی کی تقریب کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ ایمپرر نے اپنی دلہن کے لیے 2 لاکھ مہر مقرر کیا۔ یوں سندھ کا پات نامی قصبہ  حمیدہ اور ہمایوں کی شادی کی وجہ سے شہرت پانے میں کامیاب ہوا۔ یہ وہ علاقہ تھا جس میں حمیدہ بانو بیگم پیدا ہوئی تھیں۔ کئی سال پہلے پات میں  ہی حمیدہ کے والدین علی اکبر جامی اور ماہ افروز بیگم کی بھی شادی ہوئی تھی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہمایوں نے راوی کنارے جو  خواب دیکھے تھے وہ ان تک پہنچے ہوں گے؟ اس کا ہمیں کوئی علم نہیں ہے۔

بعد میں ہمایوں کے بچھڑے ہوئے بھائی کامران مرز ا نے بھی شاہ حسین ارغن کی بیٹی سے پات کے علاقے میں ہی شادی رچائی۔ کئی نسلوں کے بعد پرنس دارا شکو  نے وہاں پناہ لی  جب وہ پات سے اپنے بھائی اورنگزیب سے بچنے کے لیے  بھاگ گئے تھے۔ اپنی شادی کے تین دن بعد ہماریوں  اپنی بادشاہت واپس حاصل کرنےکے لیے مشن پر نکل پڑے۔ ایمپرر اور ان کی آرمی  نئی ملکہ کے سنگ دریائے سندھ کے ذریعے نکل پڑے تا کہ بھکر کے قلعے پر حملہ کر سکیں۔ کئی ماہ تک ہمایوں اور ان کی آرمی  بھکر، سہون اور ٹھٹھہ کے بیچ بھٹکتے رہے۔ آخر میں یاد گار مرزا کے قبضے میں آنے کے بعد ہمایوں کو شکست ہو گئی۔ایک  بھروسہ مند کمانڈر اورہمایون کے کزن یادگار   کو وعدہ کیا گیا کہ انہیں شاہ حسین کی دوسری بیٹی نکاح میں دی جائے  گی۔

ہمایوں کا ڈرامہ جاری رہا۔

جودھ پور کے راجا مالڈیو  نے مدد کی پیشکش کی۔ ہمایوں اس سے بہت خوش ہوئے۔ جودھ پور کا سفر براستہ تھر صحرا   نہ صرف مشکل تھا بلکہ اس میں بہت تنوع بھی تھا۔ اس میں کھانا محدود تھا اور پانی کی اور بھی زیادہ کمی تھی۔ صحرا کی تپش نا قابل برداشت تھی جس کی وجہ سے بہت سے لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔ ہمایوں اپنے درباریوں کی معیت میں سفر جاری رکھے ہوئے تھے  جب انہیں یہ خبر ملی کہ مدد کی پیشکش ایک دھوکہ تھی  ۔ یہ ایک ٹریپ تھا جو دشمن شیر شاہ سوری نے انہیں پھانسنے کےلیے استعمال کیا تھا۔ اس کا مقصد بھاگے ہوئے مغل بادشاہ کو قید کرنا تھا۔ یہ سب سے بڑا دھوکہ تھا کیونکہ انہیں کسی سمت کے تعین کے بغیر سفر کرنا پڑا تھا۔

ہمایوں نے مالڈیو کے حملہ کا جواب دینے کے لیے  اپنی آرمی کو الگ کر دیا۔ بادشاہ اور ان کی ملکہ جو اس وقت حمل کے ساتویں ماہ میں تھیں  اور کچھ دوسرے لوگ زندگی بچانے کے لیے صحرا بھی یہاں وہاں بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ کچھ مخلص لوگ مالڈیو کا حملہ روکنے کے لیے پیچھے رک گئے ۔ وہ  اس مقصد میں کامیاب رہے اور بعد میں ہمایوں اور ان کی بیگم کے ساتھ پہنچ گئے۔ تین دن تک انہیں کہیں سے پانی تک نہ ملا۔ پیاس سے ان کا برا حال تھا۔ لوگ پھر سے مرنا شروع ہو گئے تھے۔ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کا بھی پیاس سے برا حال تھا۔

صحرا کی ناقابل برداشت گرمی  اور پانی اور کھانے کی کمی   نے ایمپرر اور اس کے لوگوں کو تھکا دیا۔ تین دن کے بعد انہیں کچھ کنوئیں مل گئے  اور پھر وہ امر کوٹ کی طرف  سفر جاری رکھنے کے قابل ہو  پائے۔ بہت زیادہ تھکن کا شکار ہونے کے بعد ہمایوں ا ور ان کی بیوی  امرکوٹ پہنچ گئے۔ امرکوٹ کے رانا پرساد سودھا راجپوت تھے۔ ان کے آبا واجداد 12ویں صدی میں  امرکوٹ جاگیر کے حاکم رہ چکے تھے  جب ہمایوں کی آمد ہوئی۔رانا پرساد نے ایمپرر کی طرف سے ہمایوں کے  استقبال کا شاندار بندوبست کیا تھا۔ ہمایوں کو نہ صرف قلعے میں بہترین کوارٹرز دیے گئے    بلکہ ہر معاملے مین انہیں بہترین میزبانی فراہم کی گئی۔ اس قدر پر تپاک استقبال  اور مہمان نوازی سے ہمایوں بے حد خوش ہوئے ۔ انہوں نے رانا اور ان کی فیملی کے لیے مہنگے تحائف منگوائے۔ مغل پارٹی نے امرکوٹ میں رہنے  اور ریسٹ کرنے کو ترجیح دی۔

یہ قلعہ 12 ویں اور 13ویں صدی کے بیچ تعمیر کیا گیا تھا۔ تاریخ میں ایک موقع ایسا بھی آیا جب سومرو بادشاہ عمر نے ماروی کو امبر کوٹ قلعہ میں قید کر دیا تھا۔اس قلعہ سے کچھ میل کے فاصلے پر ماروی جو داڑو موجود ہے۔ 19ویں صدی میں برطانی حکومت نے رانا آف امرکوٹ کو اسی قلعہ میں سزائے موت دی تھی۔  شاہ حسین ارغن، جو ٹھٹھہ اور بھکر کے والی تھے  نے اس وقت کے رانا کے والد کو قتل کر دیا تھا۔ رانا پرساد   چاہتا تھا کہ وہ ایمپرر کو سپورٹ کرتے اور ٹھٹھہ پر حملہ کے لیے اسے فوجی مدد فراہم کرے۔

مغلوں کے امر کوٹ پہنچنے کے دو ماہ بعد رانا پرساد اور ایمپرر ہمایوں نے شاہ حسین کے ٹھٹھہ کے دار الحکومت پر مشترکہ حملہ کرنے کی ٹھانی۔ اس وقت حمیدہ ماں بننے والی تھیں۔ وہ اپنے خاوند کے ساتھ سفر نہیں کر سکتی تھیں اس لیے قلعے میں ہی رک گئیں۔ ہمایوں نے ایک راز دار  درباری کو  اپنی بیوی کی نگرانی کے لیے رکھا  اور ارغن پر حملہ کے لیے نکل پڑا۔

پارٹی نےامرکوٹ قلعہ سے  ابھی تین کا چار میل کا سفر طے کیا ہو گا جب یہ خبر آئی کہ  ایمپرر کے گھر ایک بیٹا پیدا ہوا ہے۔ 14 اکتوبر 1551 کو جلال الدین محمد اکبر   انہیں ستاروں کی روشنی میں پیدا ہوئے  جن کی ہمایوں نے پیشین گوئی کی تھی۔ یہ ایک شاندار موقع  ولادت تھا۔ ہمایوں کی خوشیوں کی کوئی حد نہ تھی۔ بادشاہ نے اپنے ساتھ مشک کا ایک بڑا برتن رکھا ہوا تھا۔ ایسے مواع پر ہمایوں  اپنے درباریوں کے لیے اس مشک کو سب سے بہتر تحفہ سمجھ کر بانٹا کرتے تھے۔ وہ اس  مشک کو کئی حصوں میں تقسیم کرتے   اور اپنے پارٹی ممبران میں تقسیم کر دیتے  اور دعا کرتے کہ مشکیزے کی خوشبو اور بچے کی شہرت  دنیا کے کونے کونے میں  پہنچ جائے۔ یہی وہ بچہ تھا  جو بعد میں بڑا ہو کر اکبر بادشاہ بن گیا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *