ورجینیا: امریکی ریاست کی سرکاری عمارت پر فائرنگ، 12 افراد ہلاک، متعدد زخمی

امریکی ریاست ورجینیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ جمعے کو ایک سرکاری عمارت میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص نے ’پبلک یوٹیلیٹی‘ یعنی عوام کو سروسز فراہم کرنے والی ایک سرکاری عمارت میں اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ مشتبہ شخص ایک عرصے سے ورجینیا بیچ شہر میں ملازم تھا۔

بندوق بردار کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے لیکن پولیس کی جانب سے کی گئی جوابی کاروائی میں حملہ آور ہلاک ہو گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا ہے۔

شوٹنگ کیسے شروع ہوئی؟

مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے کے فوراً بعد ورجینیا بیچ میونسپل سینٹر سے فائرنگ کی خبریں آنے لگیں۔

مختلف قسم کی سرکاری عمارتوں والے اس علاقے کو پولیس نے گھیرے میں لے لیا اور وہاں کام کرنے والوں سے عمارت کو خالی کروانا شروع کر دیا۔

اس عمارت میں معاون منتظم میگن بینٹن نے ایک مقامی ٹی وی چینل ویوی کو بتایا: 'ہم نے لوگوں کو چیختے ہوئے اور دوسرے لوگوں کو زمین پر لیٹے جانے کے لیے کہتے ہوئے سنا۔'

ایک دوسرے ملازم نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ انھوں نے اور دوسرے لوگوں نے فائرنگ کی آوازیں سنیں لیکن انھیں یہ خیال نہیں گزرا کہ فائرنگ بہت ہی قریب ہو رہی ہے۔

شیلا کُک نے کہا: 'خدا کا شکر ادا کرتی ہوں کہ انھوں نے بروقت ہمیں مطلع کر دیا ورنہ اگر دس منٹ کی بھی تاخیر ہوتی تو ہم سب باہر ہوتے۔'

پولیس سربراہ جیمز سرویرا نے کہا کہ بندوق بردار شخص نے جائے وقوعہ پر پولیس پر فائرنگ کی اور فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مشتبہ شخص نے ایک فرد کو کار میں گولی مار کر ہلاک کیا جبکہ باقی افراد کو سرکاری عمارت کے تین منزلوں پر نشانہ بنایا گیا۔ پولیس سربراہ جیمز سرویرا نے بتایا کہ چار پولیس اہلکاروں نے عمارت میں داخل ہوکر اس کی نشاندہی کی اور اس کے ساتھ مقابلہ شروع کر دیا۔

پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ عمارت میں `ہولناک’ مناظر تھے جو کہ ’جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہے تھے۔‘

پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ ’میں آپ کو بتانا چاہتا ہو کہ اس مقابلے کے دوران پولیس اہلکاروں نے بنیادی طور پر بندوق بردار شخص کو عمارت میں مزید قتل و غارت کرنے سے روکا۔‘

پولیس نے جائے وقوع سے ایک رائفل اور پستول برآمد کیا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ مشتبہ شخص نے استعمال کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں بندوق بردار نے یہ کام تنہا انجام دیا ہے۔

ورجینیا بیچ

شوٹنگ کا واقعہ ورجینیا بیچ کے میونسپل سینٹر کی دو نمبر والی عمارت میں رونما ہوا

اس واقعے کے شکار کے بارے میں کیا علم ہے؟

حکام نے مرنے والے 12 افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ اس فائرنگ میں پولیس افسر سمیت کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے ہیں لیکن وہ کس قدر زخمی ہیں اسے ابھی ظاہر نہیں کیا گيا ہے۔

پولیس سربراہ نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس افسر کی زندگی اس لیے بچ گئی کہ ان کو لگنے والی گولی ان کے بلٹ پروف ویسٹ میں پھنس گئی۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کو اس واقعے کے اطلاع دے دی گئی ہے۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی تفتیشی ادارہ ایف بی آئی جائے حادثہ پر تھا اور وہ مقامی حکام کو شوٹنگ کی جانچ میں مدد فراہم کر رہا تھا۔

ورجینیا بیچ ریاست کی سب سے گنجان آبادی والا شہر ہے جہاں تقریبا چار لاکھ 40 ہزار شہری رہتے ہیں۔

رد عمل کیا رہا؟

ورجینیا کے سینیٹر ٹم کین نے ٹوئٹر پر کہا کہ وہ 'ورجینیا بیچ میں شوٹنگ کی خبر سن کر صدمے میں ہیں۔'

انھوں نے کہا: 'میرا دل ان تمام لوگوں کے ساتھ ہے جنھوں نے اپنا کوئی عزیز اس واقعے میں گنوا دیا ہے اور میں تمام زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہوں۔'

شہر کے میئر رابرٹ ڈایر نے کہا: 'ورجینیا بیچ کی تاریخ میں یہ سب سے زیادہ المناک دن ہے۔'

ورجینیا کے گورنر راف نارتھم نے اس واقعے کو شہر اور ریاست کے لیے 'المناک دن' کے طور پر یاد کیا۔

ٹوئٹر پر انھوں نے لکھا: 'اس المناک شوٹنگ کے شکار لوگوں، ان کے اہل خانہ اور ان تمام لوگوں کے لیے میرا دل پاش پاش ہے جو انھیں چاہتے تھے۔۔۔ میں ورجینیا بیچ کے راستے پر ہوں اور ایک گھنٹے میں وہاں پہنچ جاؤں گا۔'

امریکی ٹریکنگ ویب سائٹ گن وائلینس آرکائوز کے مطابق یہ امریکہ میں رواں سال ہونے والا 150 واں شوٹنگ کا واقعہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *