عید کب ہوگی؟

رویتِ ہلا ل پر سیر حاصل گفتگو ہو چکی۔آئیے‘کسی حل کی طرف بڑھتے ہیں۔اس وقت دو آرا ہمارے سامنے ہیں؛ایک یہ کہ چاند کی رویت ایک دینی مسئلہ ہے‘لہٰذا اس باب میں علمائے دین کا فرمایا ہی مستند ہے۔دوسری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق دین سے نہیں فلکیات اورکائناتی علوم سے ہے‘ لہٰذا علمائے سائنس کی بات ہی کو معتبر سمجھا جائے گا۔ دوسری رائے رکھنے والوں میں دین کے کئی علما بھی شامل ہیں۔یوں یہ معاملہ خود علمائے دین میں بھی مختلف فیہ ہے۔
اگر پہلا موقف درست ہے تو پھر رویتِ ہلا ل کمیٹی کا ایک جواز مو جود ہے‘پھر علمی مکالمہ تو کیا جا سکتا ہے‘ مگراس کی حیثیت ذہنی مشق سے زیادہ نہیں۔فیصلہ وہی معتبر ہوگا ‘جو علما کی طرف سے آئے گا؛اگر دوسری رائے صائب ہے تو پھر رویت ِہلال کمیٹی کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔علمائے دین کو کسی زحمت میں ڈالنے کی بجائے‘لوگوں کو فواد چوہدری صاحب کی بات مان کر سائنسی کیلنڈر کے مطابق عید منانی چاہیے۔
سوال یہ ہے کہ اس کا فیصلہ کون کرے گا؟اس کا سادہ ا ور دوٹوک جواب ہے؛حکومت۔جب کسی معاملے میں نزاع پیدا ہو جائے‘ تو پھر یہ مسلمانوں کے نظم ِ اجتماعی کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی ایک موقف کو اپنا لے۔یہی موقف ہی پھر نافذ العمل ہوگا ‘کیونکہ قوتِ نافذہ بہر حال حکومت کے پاس ہے۔ اہلِ علم اس سے اختلاف کر سکتے ہیں‘ لیکن کسی کو یہ حق حاصل نہیںکہ بزعم ِ خویش حکومت کی مسند پر بیٹھ جائے اور فیصلے صادر کرنے لگے۔معاشرے کو خلفشار سے بچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
پاکستان میںیہ اختلاف دواسباب سے پیدا ہوا۔پہلاسبب خود علمائے دین کے دوگروہوں کے مابین ہے۔یہ اختلاف علمی نہیں‘اپنی نوعیت میں انتظامی ہے۔دونوں کا بنیادی موقف ایک ہے کہ رویتِ ہلال ایک دینی مسئلہ ہے‘ لہٰذاعلما ہی کو فیصلے کا اختیارہے۔دونوں اس پر بھی متفق ہیں کہ رویت کی کوئی شہادت سامنے آئی تو اسے قبول کیا جائے گا؛ اگر اس کی قبولیت میں کوئی شرعی عذر مانع نہ ہو۔ جدید علوم اور آلات کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ ان سے مدد تو لی جا سکتی ہے‘ لیکن محض ان کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا‘ کیونکہ انسانی آنکھ سے رویت ضروری ہے۔روایتی علما کا موقف ہمیشہ سے یہی ہے۔مفتی محمد شفیع صاحب تو اس کے قائل تھے کہ اگر کوئی بیس تیس ہزارفٹ کی بلندی پر پرواز کرتے جہاز سے چاند دیکھ لے تو اس کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی ‘کیونکہ چاند کی زمین سے رویت ضروری ہے۔جہاز سے دیکھا جانا اسی وقت معتبر ہوگا ‘جب اس کی پرواز اتنی بلند ہو کہ اُس بلندی پرسطحِ زمین سے کوئی دیکھے تو اسے بھی چاند دکھائی دے جائے۔
بہت سے علما اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ان کے نزدیک انسانی آنکھ یہ جاننے کا ایک ذریعہ ہے کہ چاند طلوع ہوچکا۔یہ ذرائع اور بھی ہوسکتے ہیں جیسے انسان کا مصدقہ علم ۔مثال کے طور پر انسان کا تجربہ یہ ہے کہ قمری مہینہ تیس دن سے زیادہ کا نہیں ہو تا‘اس لیے اگرتیس دن پورے ہوجائیں تو پھر چاند دیکھنے کی حاجت نہیں‘پھر تسلیم کر لیا جائے گا کہ نئے ماہ کا آغاز ہوگیاہے‘ جس روایت میں چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کا کہا گیاہے‘اسی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انتیس دن کے بعد چاند نظر نہ آئے توپھرتیس پورے کرلو۔گویا ‘اس کے بعد آنکھ سے چاند دیکھنے کی ضرورت نہیں۔
روایتی علما کے مابین نظری و فقہی اتفاق کے باجود‘ایک عملی اختلاف ہے۔مفتی پوپلزئی کا کہنا ہے کہ جب انہی وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے‘جنہیں مفتی منیب الرحمٰن صاحب بھی درست سمجھتے ہیں‘وہ چاند کی رویت کا اعلان کرتے ہیں تو اسے کیوں قبول نہیں کیا جا تا؟رہی رویت ِہلال کمیٹی کی قانونی حیثیت تو مفتی پوپلزئی صاحب کا موقف یہ ہے کہ شریعت کے مخالفت میں حکومت کی بات نہیں مانی جا سکتی۔میرا قیاس ہے کہ اصولی طورپر مفتی منیب الرحمن صاحب کی رائے بھی یہی ہے۔سوال پھر یہ اٹھتا ہے کہ اگر مفتی منیب الرحمن صاحب ‘مفتی پوپلزئی صاحب کی جگہ ہو تے اور ان کے پاس بھی ویسی ہی شہادتیں ہوتیں‘جیسی مفتی پوپلزئی صاحب کے پاس آتی ہیںتو ان کا موقف کیا ہوتا؟کیا وہ اس باب میں نظم ِ اجتماعی کو حَاکم مانتے؟ اختلاف کا دوسرا سبب جدید ہے۔یہ مفتی منیب الرحمن صاحب اور فواد چوہدری صاحب کے مابین ہے۔اس میں پیچیدگی یہ ہے کہ دونوں حکومتی اداروں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ایک کا اصرار ہے کہ علما کا فیصلہ قبول کیا جائے گا۔علما کی نمائندہ رویتِ ہلال کمیٹی ہے‘ جو حکومتی ادارہ بھی ہے۔چوہدری صاحب کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق علما سے نہیں‘علمِ سائنس کے ماہرین سے ہے۔اس کی نمائندگی وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کر رہی ہے‘اس لیے وہ جو فیصلہ کرے گی‘وہی نافذالعمل ہوگا۔یوں یہ معاملہ علما کے اختلاف کے ساتھ ساتھ‘انتظامی پیچیدگی کا بھی شکار ہو گیا ہے۔
علمی اور فقہی اختلاف کے باب میں ہماری روایت یہ ہے کہ جو رائے حکومت قبول کر لے‘اس کی پابندی عملاًسب پر لازم ہے‘لہٰذا یہ حق حکومت کے پاس ہے کہ وہ کسی ایک موقف کو نافذ کردے۔جب تک فواد چوہدری صاحب کا موقف سامنے نہیں آیا تھا‘اس ملک میں ایک اقلیت کے سوا‘سب رویت ِہلال کمیٹی کے فیصلے کو مانتے تھے اور یہی درست رویہ تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ رویت ِہلال کمیٹی کو یہ ذمہ داری ہمارے نظمِ اجتماعی نے سونپی تھی کہ وہ اس معاملے میں کوئی فیصلہ کرے۔اس صورت میں مفتی پوپلزئی صاحب کا موقف کسی طور درست نہیں تھا۔اب صورتِ حال یہ ہے کہ اختلاف حکومت کے دو گروہوں کے مابین ہے۔عوام کس کی مانیں؟کس محکمے کو قوتِ نافذہ حاصل ہے؟آج کا سب سے اہم سوال یہی ہے۔اس کا جواب بھی ظاہرہے کہ حکومت کے پاس ہے۔جب تک حکومت خود یکسونہیں ہو گی‘ عوام میں انتشارِ فکر رہے گا۔انتشار کی صورت میں دو نہیں‘تین گروہ ہوں گے‘پھر مفتی پوپلزئی صاحب کی رائے مسترد کرنے کی قانونی بنیادختم ہو جا ئے گی۔ عید ایک دن کے فاصلے پر ہے۔اس قلیل وقت میں علمی اختلاف توختم ہو نے سے رہا۔یوں بھی مسائل علمی اختلاف سے نہیں‘اختلاف کے باب میں رویوں سے پیدا ہو تے ہیں۔یہ اندازِ نظر کا اختلاف ہے‘ جس نے باقی رہنا ہے۔جب تک علما یہ نہیں مان لیتے کہ رویتِ ہلال کا تعلق دین کے علم سے نہیں‘کائنات کے علم سے ہے‘یہ اختلاف زندہ رہے گا۔لاؤڈ سپیکر اور تصویر کی طرح ‘اس کا فیصلہ بھی وقت کرے گا۔ہمیں شاید اس کے لیے کچھ انتظار کرنا پڑے گا۔اس لیے آج ہمیں اسے ایک انتظامی مسئلہ سمجھتے ہوئے‘ایک فیصلہ کرنا ہوگا۔مقصد سماجی انتشارکا خاتمہ ہونا چاہیے۔
اب حکومت کے پاس صرف ایک راستہ ہے۔وہ دوٹوک اعلان کرے کہ رویتِ ہلال کے معاملے میں وزارتِ سائنس وٹیکنالوجی کو فیصلے کا اختیار ہے یا رویتِ ہلال کمیٹی کو؛اگریہ اختیار وزارتِ سائنس کوہے تو پھر رویتِ ہلال کمیٹی کو تحلیل کر دیا جائے۔اور اگر یہ حق حسبِ سابق کمیٹی کے پاس ہے تو پھر قوم کو بتا دیا جائے کہ وزارتِ سائنس کے کیلنڈرکی فی الوقت کوئی قانونی حیثیت نہیں۔حکومت کومیرامشورہ یہ ہو گا کہ وہ اس سال تو سابقہ نظام کو برقرار رکھتے ہوئے‘یہ حق رویتِ ہلال کمیٹی کے پاس رہنے دے اورفواد چوہدری صاحب کو اس معاملے میں خاموش رہنے کو کہے۔ اس بارعید رویتِ ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق ہو۔اس کے بعدحکومت اسلامی نظریاتی کونسل کے وساطت سے قومی سطح پرایک مشاورتی عمل کا آغاز کرے اور اگلے رمضان سے پہلے‘پارلیمنٹ اس باب میں کوئی حتمی فیصلہ کرے۔
مکرر عرض ہے کہ معاشرے اختلاف سے بربادنہیں ہوتے‘اختلاف کے آداب سے عدم آشنائی‘انہیں برباد کرتی ہے۔علمی اختلاف کو شائستگی کے ساتھ باقی رکھتے ہوئے‘نزاعی امور میں‘ فیصلے کا اختیار پارلیمنٹ کو دے دینا چاہیے۔رویتِ ہلال کے مسئلے کا حل بھی یہی ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *