جعلی سعودی شہزادے کو 18 سال قید کی سزا

کئی برسوں تک انتھونی ژینیاک نے کسی شاہی خاندان کے فرد سے کم پرتعیش زندگی نہیں گزاری۔

وہ مہنگے زیوات پہنتے، نجی طیاروں اور سفارتی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں گھومتے اور کاروباری مقاصد کے لیے ایسے بزنس کارڈ استعمال کرتے جن پر ان کا تعارف ’سلطان‘ کے طور پر ہوتا۔

لیکن اس خود ساختہ شہزادے کی کہانی بالاآخر جمعہ کے روز اپنے اختتام کو پہنچی جب انھیں دھوکے بازی اور جعلسازی کے الزامات ثابت ہونے پر 18 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

فلوریڈا کے ایک جج نے 48 سالہ ژینیاک کو ایک دغا باز شخص قرار دیا، جنھوں نے سرمایہ کاروں کے آٹھ ملین امریکی ڈالر خورد برد کرنے کی غرض سے اپنے آپ کو سعودی شاہی خاندان کا فرد ظاہر کیا۔

امریکہ کے اٹارنی فاہارڈو اورشان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’گذشتہ تین دہائیوں کے دوران انتھونی ژینیاک دنیا بھر میں ان گنت سرمایہ کاروں پر اثر انداز ہونے، انھیں نشانہ بنانے اور ان کے ساتھ جعل سازی کرنے کی غرض سے اپنے آپ کو ایک سعودی شہزادہ ظاہر کیا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس بین الاقوامی جعل سازی کی سکیم کے سربراہ کے طور پر ژینیاک نے شہزادہ خالد بن السعود کی جعلی شناخت اپنا کر لوگوں کو سبز باغ دکھاے اور متاثرین کو ان کے خاندانوں، روزگار اور مستقبل کے حوالے سے غلط امیدیں دلائیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کے درجنوں بے خبر سرمایہ کار اپنی آٹھ ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری سے محروم کر دیے گئے۔‘

کولمبیا میں پیدا ہونے والے ژینیاک کو امریکی ریاست مشی گن میں ایک خاندان نے اس وقت گود لیا جب وہ سات برس کے تھے۔

17 سال کی عمر تک ژینیاک نے سعودی شہزادے کا روپ دھار لیا تھا۔ اپنی جعلی شناخت کے ذریعے انھوں نے کریڈٹ کارڈ کمپنیوں، دوکانوں پر موجود سٹاف اور سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینا شروع کر دیا تھا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق جعلی ’شاہی سکیمیں‘ چلانے کی وجہ سے گذشتہ 30 برسوں میں وہ 11 مرتبہ گرفتار بھی ہوئے۔

جنوبی فلوریڈا کے اٹارنی کے دفتر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’مئی 2015 سے وہ خالد بن السعود کا نام استعمال کر رہے تھے۔‘

اپنی شناخت کو حقیقی رنگ دینے کے غرض سے انھوں نے جعلی سفارتی نمبر پلیٹس اور اپنے ذاتی محافظوں کے لیے کاغذات خریدے۔ وہ روایتی سعودی کپڑے اور مہنگی گھڑیاں اور انگوٹھیاں پہنتے اور عموماً نجی طیاروں اور پرتعیش کشتیوں میں سفر کرتے اور انھوں نے بیش قیمت آرٹ ورک بھی اکٹھا کر رکھا تھا۔

ان کی جعلی زندگی کی سرگزشت ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ سے عیاں تھی۔ اس اکاؤنٹ پر وہ تصاویر شئیر کرتے جن میں ان کا پالتو کتا ڈیزائنرز بیگز پر بیٹھا دیکھائی دیتا، جبکہ کچھ سعودی شاہی خاندان کے افراد کی تصاویر انھوں نے ’میرے والد‘ کے عنوان سے شیئر کیں۔

سرمایہ کاروں سے ملاقاتوں میں وہ اپنے آپ کو شہزادہ کہلواتے اور اس بات کے متقاضی ہوتے کے ان سے ملتے وقت شاہی خاندان کے رواج، جیسا کے تحائف کی لین دین، کی پیروی کی جائے۔

استغاثہ کے مطابق ژینیاک اپنی جعلی شناخت کے ذریعے دنیا بھر میں لوگوں کو ایسے کاروباروں میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرتے جو درحقیقت وجود ہی نہیں رکھتے تھے۔

تاہم مئی 2017 میں ان کی دھوکہ دہی اس وقت عیاں ہونا شروع ہوئی جب انھوں نے میامی میں ایک پرتعیش ہوٹل میں سرمایہ کاری کی کوشش کی۔

اس حوالے سے ہونے والی بات چیت کے دوران ہوٹل کے مالکان کو ژینیاک پر اس وقت شک ہوا جب انھوں نے پورک سے بنی مصنوعات کھانے پر آمادگی ظاہر کی۔ میامی ہیرالڈ کے مطابق ایک پارسا مسلمان شہزادے کے لیے پورک ممنوع ہوتا ہے۔

اس کے بعد ہوٹل مالکان نے ژینیاک کا پیچا کرنے کے لیے ایک نجی سکیورٹی گروپ کو معمور کیا اور آخر کار ان کے خلاف وفاقی سطح پر ایک انکوائری کھلی۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ژینیاک نے رواں برس اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔ ان کے جرائم میں جعل سازی، شناخت کی چوری اور اپنے آپ کو سفارت کار ظاہر کرنا شامل ہیں۔

امریکہ کے اٹارنی اورشان نے اپنے بیان میں کہا کہ جمعے کے روز آنے والے فیصلے میں متاثرین سے انصاف ہوا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *