دوا کے سائیڈ افیکٹس میں آپ کے آنتوں کے بیکٹیریا اہم کردار ادا کرتے ہیں

 لندن:  یونانی اور مشرقی طب میں آنتوں اور معدے کی صحت کو خصوصی اہمیت دی جاتی رہی ہے لیکن اب گویا جدید طب میں اس کے اہم کردار پر کئی اسرارورموز سامنے آرہے ہیں۔

اب تازہ خبر سے معلوم ہوا کہ مختلف افراد پر دواؤں کے جو مختلف ضمنی اثرات (سائیڈ افیکٹس) مرتب ہوتے ہیں اس میں آنتوں کے اندر پائے جانے والے جراثیم اور بیکٹیریا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس تحقیق سے علاج کو مزید مؤثر بنانے اور دواؤں کے ضمنی اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی کہ بعض افراد پر دوائیں اچھی طرح اثر کرتی ہیں جبکہ دیگر افراد پر ان کی تاثیر مختلف ہوتی ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ انسانوں میں جینیاتی تبدیلیوں سے دوا کی تاثیر متاثر ہوتی ہے۔ دواؤں کی اکثریت کو گولیوں کی صورت میں کھایا جاتا ہے اور وہ  مکمل طور پر اپنا کام نہیں کرپاتیں۔ اسی پہلو پر غور کرنے کے لیے امریکا کی ییل یونیورسٹی اورسوئزرلینڈ کی ای ٹی ایچ جامعہ نے  انسانی معدے اور آنتوں میں پائے جانے والے 76 مشہور بیکٹیریا اور 271 مختلف دواؤں کے ان پر اثرات کا مفصل نقشہ بنایا ہے۔

ییل یونیورسٹی کے مائیکل زمرمان نے تحقیق کے بعد کہا ہے کہ انہوں نے معدے اور انتڑیوں کے کم ازکم ایک ایسے بیکٹیریا کو تمام 176 دواؤں پر اثرانداز ہوتے دیکھا ہےجو ایک حیرت انگیز امر ہے۔ یہاں اثر انداز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک جراثیم تمام 176 دواؤں کو ایسے نامعلوم اجزا میں توڑ رہی ہے جو نہ صرف سائیڈ افیکٹس کی وجہ بن رہے ہیں بلکہ خود دوا کو بھی بے اثر بنارہے ہیں۔

اس تحقیق پر کنگز کالج لندن کے ماہر ٹِم اسپیکٹر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اہم کام ہے جس سے کسی کے معدے میں موجود بیکٹیریا کی بدولت ادویہ تجویز کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور اس سے درست و مؤثر علاج کی راہ ہموار ہوگی۔

اگر ہم آنتوں کے بیکٹیریا کو تبدیل کرنا چاہیں تو اس کا ایک طریقہ تو غذاؤں کی تبدیلی ہے دوم کسی ایسے شخص کے فضلے کو لے کر اسے آنتوں میں ڈالا جائے جو تندرست بیکٹیریا کا حامل ہو۔ ماہرین نے یہ تحقیق چوہوں پر کی ہے لیکن اس کے انسانوں پر اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *