عید کے موقع پر آپ کو اداس نہیں کرنا چاہتا

یقین مانیں میرے دلِ خوش فہم کو قوی امید تھی کہ تحریک انصاف کی حکومت کے دوران آئی پہلی عید واقعتا ’’دو نہیں ایک پاکستان‘‘ کا پیغام دے گی۔ دریں اثناء ہر وقت کچھ نیا کرنے کو ہمہ وقت بے چین فواد چودھری صاحب نے قمری کیلنڈر بھی ’’ایجاد‘‘ کردیا۔ اس کے مطابق اس بارماہِ رمضان 30نہیں 29دنوں کا ہونا تھا۔میرا خیال تھا کہ اس کیلنڈر کو نظرانداز کرتے ہوئے بھی مفتی منیب الرحمن اور پشاور کے پوپلزئی صاحب منگل کی شب چاند دیکھنے کی شہادتیں ملک بھر سے بیک وقت حاصل کرلیں گے۔

ہمارے ملک میں،جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، عید کے حوالے سے قضیہ 29اور 30دنوں کی بنیاد پر کھڑا ہوا کرتا تھا۔ 28ویں رمضان کو پوپلزئی صاحب شاذہی عید کے چاند کو ڈھونڈتے پائے گئے۔پیر کی شب انہوں نے لیکن چاند دیکھنے کی شہادتیں وصول کرلینے کا اعلان کردیا۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے فی الفو ران کے دعویٰ کو تسلیم کیا۔

بقیہ پاکستان منگل کی رات مفتی منیب صاحب کے اعلان کا انتظار کرے گا۔ اس وقت سے قبل یہ کالم لکھ کر دفتر بھیجنے کی مجبوری میں فقط یہ امید ہی باندھ سکتا ہوں کہ انہیں چاند دیکھنے کی مستند شہادتیں مل جائیں۔ فواد چودھری کا دیا کیلنڈر درست ثابت ہو۔ شاید آنے والے برسوں میں پورا ملک اس پر اعتبار کرنا شروع کردے۔ اس امید کا اظہار کرتے ہوئے یہ اعتراف کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ گزشتہ کئی مہینوں سے میں ’’کوئی امید بر نہیں آتی‘‘ والی کیفیت میں مبتلا ہوچکا ہوں۔میری بیوی،بیٹیاں اور بہت ہی پیار کرنے والے دوست اصرار کررہے ہیں کہ میں شدید قنوطیت کا شکار ہوچکا ہوں۔ میرے ساتھ گھنٹوں بیٹھ کر ٹھوس دلائل سے یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ میرے پاس خود پر مایوسی طاری کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔پرانے دوست بارہا میری زندگی کے وہ حالات بھی یاد دلاتے رہتے ہیں جب ہر حوالے سے میں بدترین مشکلات کا سامنا کررہا تھا۔ ڈھٹائی کے ساتھ مستقل پھکڑپن ان دنوں میرے لئے اپنی خواہشات وترجیحات کے مطابق زندہ رہنے کا سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہوا۔ ان دنوں میرے حالات یقینا بہت خوش گوار نہیں مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ ’’اجے قیامت نئی آئی‘‘۔اپنے پیاروں کی پریشانی سے فکر مند ہوکر جبلت میں موجود ڈھٹائی اور پھکڑپن کے احیاء کی ہر ممکن کوشش کررہا ہوں۔ اس ضمن میں ایمانداری کی بات ہے پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف پیر کی شام ہوئی جیت نے مجھے بہت تقویت پہنچائی۔ چند ہی روز قبل ویسٹ اینڈ یزکے خلاف ڈھیر ہوجانے والی ٹیم نے انگلینڈ کی ہوم گرائونڈ میں بیٹنگ کرتے ہوئے شاندار کارکردگی دکھائی۔ مخالف ٹیم کو ایک مشکل ٹارگٹ دیا اور اسے ہرانے میں کامیاب ہوگئی۔پاکستانی ٹیم کی کارکردگی سے خوش ہوا دل مزید توانا ہوجاتا اگر مفتی پوپلزئی صاحب کو پیر کی شب عید کا چاندھ دیکھنے کی شہادتیں وصول نہ ہوتیں۔ ’’دو نہیں ایک پاکستان‘‘ ہوجاتا۔اس کالم کے تناظر میں اپنے دل میں طمانیت کو برقرار رکھنے کی امید اس لئے بھی جاگی کہ ’’عام آدمی‘‘ کے حوالے سے پیر کے روز چھپے کالم کو میری توقع سے زیادہ پذیرائی نصیب ہوئی۔ اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئے پاکستان میں ان دنوں سوشل میڈیا پر ’’حق وباطل‘‘ کے مابین ایک طویل جنگ ہوتی نظر آرہی ہے۔کالم نگاروں سے تقاضہ ہے کہ وہ کسی ایک فریق کی حمایت یا مخالفت میں ڈٹ کرکھڑے ہوجائیں۔ میڈیا مگر اجتماعی طورپر فقط زندہ رہنے کی لگن میں جتا ہوا ہے۔میرے سینکڑوں ساتھی بے روزگار ہوچکے ہیں۔ جن کے پاس نوکری ہے انہیں تنخواہ بروقت نہیں مل پارہی۔ اس کے باوجود ہم سب کارکن صحافی بلااستثناء ’’بکائومیڈیا‘‘ پکارے جارہے ہیں۔ایسے حالات میں مجھ ایسے لوگ جن کے پاس لکھنے اور بولنے کے علاوہ رزق کمانے کا کوئی اور ہنر میسر نہیں بہت بے چینی سے ایسے موضوعات کی تلاش میں ہیں جن پر توجہ دی جائے تو قارئین Engagedمحسوس کریں۔ ’’عام آدمی‘‘ کی روزمرہّ زندگی سے جڑی کہانیوں کا ذکر ان دنوں میری دانست میں انگریزی محاورے والا Survival Pathثابت ہوسکتا ہے۔ اس راستے پر چلنے کاارادہ باندھا ہے۔مفتی پوپلزئی صاحب نے عید کا چاند دیکھنے کی شہادتیں وصول کرنے کا اعلان نہ کیا ہوتا تو آج کے کالم میں ایک اور ’’عام آدمی‘‘ کا ذکر کرتا جس نے میرے لئے بڑے چائو سے لسوڑے کا اچار بنایا ہے۔ لسوڑے کے اچار سے آشنا ہونے سے قبل میں نے اپنے بچپن میں صرف ’’لسوڑے دی گٹک(گٹھلی)‘‘ کا ذکر سنا تھا۔ بارہ دروازوں والے لاہورمیں یہ طعنہ اس شخص کے بارے میں استعمال ہوتا تھا جو بلاضرورت آپ کے اِردگرد منڈلاتا رہتا ہے۔ لوگوں کی توجہ کا ہمہ وقت طالب۔میری ماں بہت چائو سے آم کا اچار ڈالتی تھیں۔ مجھے مگر کھانے کو نہیں دیا جاتا تھا کیونکہ کم از کم تین بار مجھے ڈاکٹر گلے کے آپریشن کے لئے ہسپتال میں داخلے کی پرچی دے چکے تھے۔ میں خوف کے مارے داخل نہ ہوا۔ ہماری ایک شفیق ہمسائی نے پھٹکڑی کو اپنے انگوٹھے پر لگاکر میرے حلق میں ٹھونستے ہوئے مجھے ہر بار شفاء بخشی ۔احتیاطاََ مجھے اچار کی لذت سے لیکن ہمیشہ دور رکھا گیا۔ تعلیم مکمل کرکے اسلام آباد ملازمت کے لئے آیا تو ایک گھر میں پہلی بار لسوڑے کے اچار کی لذت سے آشنا ہوا۔ اب وہ میرا پسندیدہ اچار ہے۔ بازارمیں البتہ جو ملتا ہے اس کا ذائقہ مجھے پسند نہیں آیا۔جس ’’عام آدمی‘‘ کا ذکر آج کے کالم میں کرنا تھا اسے باتوں باتوں میں لسوڑے کے اچار سے جڑی لذت کوبیان کیا۔ مجھے ہرگز امید نہیں تھی کہ میری گپ شپ کو وہ اتنی سنجیدگی سے لے گا۔ایک غریب آدمی ہوتے ہوئے بھی اس نے وقت نکال کر میرے لئے لسوڑے تلاش کئے اور ان کا اچار بنانے کے لئے اپنی نگرانی میں ’’گھانی کا تیل‘‘ نکلوایا۔ اچار تیار ہوگیا تو شرماتے ہوئے میرے حوالے کردیا۔ اس کے خلوص کی شدت نے مجھے اس کو کسی حیلے سے ’’عوضانہ‘‘ دینے کی ہمت سے محروم کردیا۔اس ’’عام آدمی‘‘ نے مجھے ان دنوں پھیلی گندم کی فصل کے حوالے سے چند کہانیاں سنائی ہیں۔ ان کہانیوں نے مجھے پریشان کردیا۔ خواہش تھی انہیں بیان کردوں۔ عید کے پُرمسرت موقعہ پر آپ کو مگر اداس نہیں کر نا چاہتا۔ یہ بتانا مگر ضروری ہے کہ مذکورہ ’’عام آدمی‘‘ کی بدولت میں نے دریافت یہ بھی کیا ہے کہ لسوڑا اور لسوڑی میں فرق ہوتا ہے۔ نر اور مادہ والا فرق اور اچار لسوڑے کا ڈالا جاتا ہے لسوڑی کا نہیں۔

بشکریہ نوائے وقت

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *