چین کی سرحد کے قریب انڈین ایئر فورس کا طیارہ لاپتہ

انڈین ایئر فورس کا طیارہ اے این 32 آسام کے علاقے جور ہاٹ سے لاپتہ ہو گیا ہے۔

فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ آسام کے جورا ہاٹ علاقے سے دوپہر بارہ بج کر پچپں منٹ پر ریاست اروناچل پردیش کے مینچکا میں ایڈوانس لینڈنگ گراؤنڈ کے لیے روانہ ہوا تھا لیکن کچھ ہی دیر بعد طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

طیارے کا ائیر ٹریفک کنٹرول سے آخری رابطہ دوپہر ایک بجے ہوا تھا۔

ترجمان کے مطابق اس طیارے پر عملے کے آٹھ افراد سمیت 13 افراد سوار تھے۔

طیارہ جب وقت پر مینچکا ایڈوانس لینڈنگ گراؤنڈ نہیں پہنچا تو اس کی تلاش شروع کر دی گئی۔

ونگ کمانڈر رتناکر سنگھ نے مقامی نامہ نگار دلیپ کمار شرما کو بتایا کہ طیارے کی تلاش میں فوج اور آئی ٹی بی پی کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔

2016 میں بھی انڈین ائر فورس کا اے این 32 طیارہ لاپتہ ہوا تھا۔ اس وقت یہ طیارہ چنئی سے روانہ ہوا تھا اور نکوبار جزائر جا رہا تھا لیکن خلیجِ بنگال کے اوپر پرواز کرتا ہوا لاپتہ ہو گیا تھا۔

اس کے بعد اس طیارے کی تلاش شروع ہوئی تھی جو انڈین ایئر فورس کی تاریخ میں کسی طیارے کی تلاش کی سب سے بڑی مہم تھی۔ لیکن اس کی تلاش میں ناکامی ہوئی تھی اور طیارے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا تطا۔ اس طیارے میں 29 لوگ سوار تھے۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ انہوں نے اس لاپتہ طیارے کے بارے میں ایئر مارشل بھدوریہ سے بات کی ہے۔

انہوں نے ٹویٹ کیا 'ایئر مارشل بھدوریہ نے مجھے لاپتہ طیارے کو تلاش کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیل بتائی ہے۔ میں طیارے پر سوار لوگوں کی خیریت کی امید کرتا ہوں'۔

اے این 32 کے بارے میں

اے این 32 یعنی 'اینتونو' فوجی سازو سامان لانے لیجانے والا طیارہ ہے۔ انڈین ایئر فورس یہ طیارہ 1984 سے استعمال کر رہی ہے جسے یوکرین کی اینتونو سٹیٹ کارپوریشن نے ڈیزائن کیا تھا۔

اینتونو کو ایک قابلِ اعتماد طیارہ تصور کیا جاتا ہے اور انڈین ایئر فورس اپنی کئی اہم مہمات میں اس کا استعمال کر چکی ہے۔

ایئر فورس ٹیکنالوجی ڈاٹ کام کے مطابق اس طیارے نے اپنی پہلی کامیاب پرواز 1983 میں کی تھی۔ سوویت ایئر فورس کو 1987 میں 25 اے این 32 طیارے ملے تھے اس کے علاوہ چار اے این 32 طیارے لیبیا کو 2005 میں دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ 2008 میں افغانستان ایئر فورس کو بھی چار طیارے ملے تھے۔

اے این 32 ساڑھے سات ٹن تک کا وزن لادا سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *