گرین لینڈ: ایسا ملک جہاں اسقاط حمل کی تعداد پیدائش سے زیادہ ہے

’میں اس بارے میں دوسری بار نہیں سوچتی۔ ہم اسقاط حمل کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب آخری بار میں نے اسقاط حمل کرایا تو میں نے اپنے دوستوں اور خاندان والوں کو اس سے متعلق آگاہ کیا۔‘

گرین لینڈ سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ پیا نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ دو سال میں ان کے پانچ اسقاط حمل ہوئے ہیں۔

گرین لینڈ کے دارلحکومت نوک کی ایک کمسن لڑکی کہتی ہیں ’میں عام طور پر احتیاط برتتی ہوں لیکن کبھی کبھی بھول جاتی ہوں۔ اور اب اس وقت میں بچہ نہیں پیدا کر سکتی۔ میں سکول کے آخری سال میں ہوں۔‘

اور وہ اکیلی نہیں ہیں۔

حکومتی اعدادوشمار کے مطابق سنہ 2013 سے لے کر اب تک ہر سال 700 پیدائشیں اور 800 اسقاط حمل ہوئے۔ تو گرین لینڈ میں اسقاط حمل کی شرح اتنی زیادہ کیوں ہے؟

گرین لینڈ

گرین لینڈ کے دارلحکومت نوک میں بدھ کو ’اسقاط حمل کا دن‘ کہا جاتا ہے

اسقاط حمل کو معیوب سمجھنا

گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے لیکن اس کی آبادی انتہائی کم ہے۔ گرین لینڈ کے اعدادوشمار کے مطابق یکم جنوری 2019 تک اس کی کل آبادی 55 ہزار 992 تھی۔

حاملہ ہونے والی خواتین میں سے نصف سے زیادہ حمل گرا رہی ہیں۔ جس سے ہر 1000 خواتین میں سے حمل گرانے والی خواتین کی تعداد 30 بنتی ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ڈنمارک میں یہ شرح ہر 1000 خواتین میں سے 12 ہے۔

اگرچہ گرین لینڈ سرکاری طور پر خود مختار ہے لیکن پھر بھی یہ ڈنمارک کا ماتحت علاقہ ہے۔

شاید اس کی وجہ معاشی مشکلات، برے گھریلو حالات اور تعلیم کی کمی ہے۔

بہت سے ممالک جہاں اسقاط حمل کو قانونی حیثیت حاصل ہے، وہاں بھی اسے معیوب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن گرین لینڈ میں کچھ خواتین اس بارے میں پریشان نہیں ہوتیں، وہ ایک ان چاہے حمل کو شرمندگی کے طور پر نہیں دیکھتیں۔

گرین لینڈ

گرین لینڈ سرکاری طور پر خود مختار ملک ہے لیکن پھر بھی یہ ڈنمارک کا ماتحت علاقہ ہے

’اسقاط حمل کا دن‘

لیکن خواتین کی اتنی تعداد میں حاملہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟

پیا کہتی ہیں ’میری دوستوں کے حمل ساقط ہوئے ہیں۔ میری اورمیرے بھائی کی پیدائش سے قبل میری والدہ کے تین اسقاط حمل ہوئے۔ وہ اس بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتیں۔‘

ڈنمارک کی راسکلڈ یونیورسٹی میں اسقاط حمل کے موضوع پر پی ایچ ڈی کرنے کرنے والی تری ہرمینسڈوتر کا کہنا ہے ’نوک میں طالبعلم بدھ کے روز جنسی صحت کے کلینکس میں جاتے ہیں جسے وہ ’اسقاط حمل کا دن‘ کہتے ہیں۔‘

’گرین لینڈ میں اسقاط حمل پر بات چیت کو ممنوع یا قابل مذمت نہیں سمجھا جاتا۔ نا ہی شادی سے قبل جنسی تعلقات اور ان چاہے حمل کو۔‘

اسقاط حمل

گرین لینڈ میں مانع حمل ادویات مفت دی جاتی ہیں لیکن پھر بھی بہت سی خواتین ان کا استعمال نہیں کرتیں

مفت مانع حمل

پیا کے مطابق ’مانع حمل ادویات مفت ہیں اور انھیں باآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن میری بہت سی دوست ان کا استعمال نہیں کر رہیں۔‘

سٹائن برینوئی گرین لینڈ میں امراض نسواں کی نرس ہیں جو کئی سال سے اسقاط حمل پر تحقیق کر رہی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’میں نے جن خواتین پر سروے کیا ان میں سے تقریبا 50 فیصد کے مطابق وہ مانع حمل کے بارے میں جانتی تھیں لیکن ان میں سے تقریبا 85 فیصد نے یا تو اس کا استعمال نہیں کیا یا صحیح سے استعمال نہیں کیا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان چاہے حمل کی وجہ الکوحل کا استعمال ہو سکتا ہے: ’اس کا استعمال کرنے والے مرد اور خواتین دونوں مانع حمل کا استعمال کرنا بھول جاتے ہیں۔‘

مانع حمل ادویات استعمال نہ کرنے کی وجہ

تری ہرمینسڈوتر اپنی تحقیق کی بنا پر تین وجوہات بتاتی ہیں جس کے باعث گرین لینڈ کی خواتین مانع حمل ادویات کا استعمال نہیں کرتیں۔

’پہلی وہ خواتین جو بچہ پیدا کرنا چاہتی ہیں، دوسری خواتین وہ جن کی زندگیاں درہم برہم اور تشدد اور الکوحل کے زیر اثر ہوتی ہیں اور وہ مانع حمل کی گولی لینا بھول جاتی ہیں اور آخر میں وہ خواتین جن کے ساتھی مرد کونڈم کے استعمال سے انکار کر دیتے ہیں۔‘

اسقاط حمل

گرین لینڈ نے 12 جون 1975 کو اسقاط حمل کو قانونی قرار دیا

تشدد اور جنسی زیادتی

ایک عورت حمل کو ضائع کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے اگر وہ (حمل) جنسی زیادتی کا نتیجہ ہو یا وہ مسائل سے بھرے گھر میں بچہ پیدا نہ کرنا چاہتی ہو۔

جنوبی گرین لینڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے کی مقامی ڈاکٹر لارس ماسگارڈ کہتی ہیں ’ان چاہے اور نظرانداز ہونے والے بچوں سے بہتر ہے کہ اسقاط حمل کرا لیا جائے۔‘

گرین لینڈ میں تشدد ایک متواتر مسئلہ رہا ہے۔ نارڈک کے مرکز برائے فلاح و بہبود اور سماجی مسائل کے مطابق ہر دس نوجوان طالب علموں میں سے ایک نے اپنی ماں کو تشدد کا نشانہ بنتے دیکھا ہوتا ہے۔

تشدد دیکھنے والے بچے اکثر تشدد کا نشانہ بھی ہوتے ہیں۔

جنسی زیادتی سے لڑنے کے لیے حکومتی منصوبہ چلانے والی ڈائٹ سولبیک نے بی بی سی ڈنمارک کو بتایا ’ہر تین بالغوں میں سے ایک بچپن میں تشدد کا نشانہ بنتا ہے۔‘

گرین لینڈ

گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے لیکن اس کی آبادی انتہائی کم ہے

مانع حمل کے بارے میں کم معلومات

اگرچہ مانع حمل ادویات مفت اور باآسانی دستیاب ہیں، لیکن اس سے اس کے استعمال کی تشریح نہیں ہوتی۔

پیا نے بی بی سی کو بتایا ’مجھے صرف ایک ماہ قبل مانع حمل کی گولی کے بارے میں معلوم ہوا۔ میرا نہیں خیال کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ بھی ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں میری والدہ نے میری جنسی صحت سے متعلق کبھی مجھ سے بات نہیں کی، مجھے کچھ چیزیں سکول سے معلوم ہوئیں لیکن زیادہ تر مجھے اپنے دوستوں سے پتہ چلیں۔‘

انٹرنیشنل جرنل آف سرکمپولر ہیلتھ کے ایک مطالعے کے مطابق گرین لینڈ میں خاندان میں جنسی صحت کے بارے میں بات کرنا معیوب یا مشکل سجھا جاتا ہے۔

شراب نوشی

گرین لینڈ کی مقامی آبادی کی ایک بڑی تعداد الکوحل کی لت کا شکار ہے

خود کشی کی شرح

اسقاط حمل کی زیادہ شرح کے علاوہ گرین لینڈ میں خودکشی کی شرح بھی خاصی زیادہ ہے۔ انٹرنیشنل جرنل آف سرکمپولر ہیلتھ کے اعدادو شمار کے مطابق ہر سال ایک لاکھ افراد میں سے خود کشی کے ذریعے اموات کی تعداد 83 ہے۔

گرین لینڈ میں کئی برس بطورماہر نفسیات کام کرنے والے لارس پیڈرسن کہتے ہیں ’بہت سے کیسز میں، تشدد اور زیادتی کو دیکھتے ہوئے بڑے ہونے والوں میں خودکشی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔‘

سنہ 1953 میں گرین لینڈ ڈنمارک کی سلطنت کا حصہ بنا۔ ڈینش زبان کو فروغ دیا گیا اور معاشرے اور معیشت میں ڈرامائی تبدیلی آئی۔

گرین لینڈ سے تعلق رکھنے والے اصل باشندے جو آبادی کا 88 فیصد ہیں، کو اپنے ثقافتی ورثے کو برقرار رکھتے ہوئے جدید معاشرے کو اپنانے کے طریقے ڈھونڈنے پڑے۔

’گرین لینڈ روایتی انیوت معاشرے سے جدید دور زندگی میں منتقل ہوا۔ الکوحل کا استعمال بڑھا جس سے تشدد اور جنسی زیادتی میں اضافہ ہوا۔‘

پیڈرسن کہتے ہیں ’بہت سے لوگ کسی ایسے فرد کو ضرور جانتے ہیں جس نے خود کشی کی ہو۔‘

گرین لینڈ

گرین لینڈ میں تشدد ایک متواتر مسئلہ رہا ہے، ہر دس میں سے ایک بچہ اپنی ماں کو تشدد کا نشانہ بنتے دیکھتا ہے

سب کے لیے مفت اسقاط حمل

کچھ لوگوں کی رائے کے مطابق گرین لینڈ کو اسقاط حمل کے لیے پیسے لینے کا آغاز کر دینا چاہیے تاکہ اس کی شرح کو کم کیا جا سکے۔

کچھ بحث کرتے ہیں جو خواتین زیادہ اسقاط حمل کرا رہی ہیں ان کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ یہ مفت اور باآسانی دستیاب ہے۔

ڈنمارک میں بھی یہ باآسانی دستیاب ہے اور اسے ’آسانی‘ سے حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن وہاں یہ تعداد انتہائی کم ہے۔

نارووے سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر اور پروفیسر جوہانے سندبے نے ماضی میں گرین لینڈ میں ایسی خواتین اور بچوں کے ساتھ کام کیا ہے جو تشدد اور زیادتی کا شکار بنے ہوں۔

وہ کہتی ہیں مریضوں کو اس عمل کے لیے پیسوں کی ادائیگی نہیں کرنی چاہیے: ’میں مکمل طور پر اس کے خلاف ہوں۔ اس سے سستے اور خطرناک اسقاط حمل کی ایک غیر منظم مارکیٹ جنم لے سکتی ہے۔‘

ڈول پروجیکٹ

'ڈول پروجیکٹ' کا مقصد نوجوانوں کو کم عمری میں بچہ پیدا کرنے کے نتائج کے بارے میں آگاہ کرنا تھا

ڈول (گڑیا) پروجیکٹ

گرین لینڈ میں ںوجوان 14 سے 15 سال کی عمر میں سیکس کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ قومی اعدادوشمار کے مطابق 15 سال کے 63 فیصد نوجوان باقاعدگی سے سیکس کرتے ہیں۔

حکومت نے سکولوں کے اشتراک سے ’ڈول پروجیکٹ‘ یعنی گڑیا منصوبے کا آغاز کیا جس کے ذریعے نوجوانوں کو کم عمری میں بچہ پیدا کرنے کے نتائج کے بارے میں بتایا جاتا تھا۔

اس منصوبے کا مقصد ان چاہے حمل کی بڑھتی تعداد کو روکنا اور مانع حمل طریقوں کے استعمال کو بڑھانا تھا۔

لڑکوں اور لڑکیوں کو بظاہر زندگی سے قریب تر نظر آنے والی گڑیا دی جاتی ہیں جو واقعی ایک بچے کی طرح پیش آتی ہیں۔

انھیں کپڑے تبدیل کرانا، ڈکار دلوانا اور آرام پہنچانا ہوتا ہے۔ اس کا مقصد 13 سے 18 سال کے طالب علموں کو بچے کی پیدائش کے ساتھ آنے والی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا ہے۔

تہذیبی رکاوٹیں

عورت کی عمر کو قطع نظر رکھتے ہوئے، سٹائن بروینی اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں کہ گرین لینڈ میں اسقاط حمل کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔

وہ کہتی ہیں ’زیادہ تر خواتین اسقاط حمل کو مشکل فیصلہ سمجھتی ہیں اور اس بارے میں سوچنے پر خاصا وقت لگاتی ہیں۔ اگر وہ اس بارے میں تسلی کر لیتی ہیں تو وہ ممکنہ طور پر کسی صدمے کا اظہار نہیں کرتیں۔‘

’میری کسی ایک بھی ایسی عورت سے ملاقات نہیں ہوئی جسے اسقاط حمل کی فکر نہ ہو، لیکن میرا تجربہ یہ ہے کہ کچھ خواتین اپنی حفاظت کے لیے چپ کر جاتی ہیں، اور صحت کے لیے کام کرنے والے اسے بے فکری سمجھ لیتے ہیں۔

پیڈرسن یقین رکھتے ہیں کہ ان خواتین کے بارے میں غلط رائے قائم کرنے سے ان سے بات چیت مشکل ہو سکتی ہے۔ اگرچہ ڈینیش سرکاری زبان ہے، لیکن دارلحکومت سے باہر رہنے والے لوگ اسے روانی سے نہیں بول سکتے۔

لارس پیڈرسن کہتے ہیں ’میرے بہت سے مریض روانی سے ڈینیش زبان نہیں بول سکتے اور ہسپتال کا بہت سا عملہ گرین لینڈ کی زبان نہیں بول سکتا۔‘

وہ یہ بھی سوچتے ہیں کہ ہمیں ڈینیش طریقوں سے گرین لینڈ کے مسائل حل کرنے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

’ہمیں اپنے فوکس کے بارے میں دوبارہ سوچنا ہو گا۔ ہماری توجہ تشدد، زیادتی اور الکوحل سے نمٹنے اور ان چاہے حمل کی وجہ بننے والے رجحانات کو کم کرنے پر ہونی چاہیے۔‘

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *