آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کے کیس میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

خیال رہے کہ سابق صدر 28 مارچ سے لے کر اب تک عبوری ضمانت پر تھے جس میں پانچ مرتبہ توسیع کی گئی۔

اس سے پہلے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پیر کو سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر اور وکیلِ صفائی فاروق ایچ نائیک کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوران فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس کیس میں چیئرمین نیب کے پاس وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اختیار نہیں لیکن پھر بھی انھوں نے ایسا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں نیب کی بدنیتی بھی سامنے آئی۔

فاروق نائیک کے مطابق وارنٹ انکوائری یا انویسٹیگیشن کے دوران جاری کیا جاتا ہے جبکہ اس کیس کا عبوری ریفرنس تو احتساب عدالت میں آ چکا ہے۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ جب معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے تو اس مرحلے پر کیا چیئرمین نیب وارنٹ جاری کر سکتے ہیں؟

جب انھوں نے کہا کہ متعلقہ عدالت کے جج کا اختیار ہے کہ وہ وارنٹ جاری کر سکتا ہے تو جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا کے آیا ٹرائل کورٹ نے مچلکے منظور کر لیے ہیں؟ اس کے جواب میں فاروق نائیک نے کہا کہ متعلقہ ٹرائل کورٹ مچلکے منظور کر کے حاضری یقینی بنانے کا حکم دے چکی ہے۔فاروق نائیک نے اپنے دلائل میں کہا کہ نیب پراسیکیوٹر نے فرنٹ کمپنیوں کا ذکر کیا، اس کیس میں کوئی فرنٹ کمپنی نہیں ہے۔ ’یہ کیس تو احتساب عدالت میں زیر سماعت ہےاور اس معاملے میں سارا الزام کچھ بینک ملازمین پر ہے۔‘

ان کے مطابق اومنی گروپ کے اس اکاؤنٹ سے آصف زرداری کا کوئی تعلق نہیں جس سے ڈیڑھ کروڑ روپے آنے کا الزام ہے۔ ان کا کہنا تھا ’آصف زرداری پر ایسا کوئی الزام نہیں کہ انھوں نے کسی اکاونٹ کو کھولنے میں معاونت کی ہو اور جعلی اکاونٹ کھولنے کی حد تک آصف زرداری ملزم نہیں۔‘انھوں نے نیب کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر سمیت تمام دستاویزات میں لکھا ہے کہ اکاؤنٹس اومنی گروپ نے کھولے اور کہیں بھی آصف زرداری کا نام نہیں آیا۔

انھوں نے پوچھا کہ بنک ریکارڈ پر آنے والی رقوم کی منتقلی خفیہ کیسے قرار دی جا سکتی ہے؟ ’اویس مظفر آصف زرداری کے منھ بولے بھائی ہیں۔ بھائی کو بینکنگ چینل سے بھیجی گئی رقم خفیہ یا غیرقانونی کیسے ہوسکتی ہے؟‘

فریال تالپور

نیب کا موقف

اس سے قبل نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ نیب کے پاس تفتیش کے لیے ملزم کی گرفتاری کا مکمل اختیار ہے، جو کہ طلعت اسحاق کیس میں سپریم کورٹ نے نیب کو دیا تھا۔

اس پر جب جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ تمام اختیارات تو ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے ہیں تو نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے غیرمعمولی حالات اور ہارڈ شپ کا سہارا لیا جاسکتا ہے، جبکہ آصف زرداری نے ایسا نہیں کیا۔

ان کے مطابق اسی وجہ سے آصف زرداری کی درخواست ضمانت ناقابلِ سماعت ہے اور انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کی جائیں۔

اس سے قبل نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ یہ کیس 4.5 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا معاملہ ہے اور اس حوالے سے تمام فہرست مہیا کر دی گئی ہیں کہ کتنی رقم اکاؤنٹ میں آئی اور کتنی استعمال ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ بینک اکاؤنٹس سے متعلق تفتیش ابھی جاری ہے اور اب تک حاصل کی جانے والی معلومات کے مطابق اے ون انٹرنیشنل اور عمیر ایسوسی ایٹس سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی۔ انھوں نے دعوی کیا کہ ان اکاونٹس کے ساتھ زرداری گروپ اور پارتھینون کمپنیوں کی ٹرانزیکشنز بھیں ہوئیں۔

’یہ 29 میں سے صرف ایک اکاؤنٹ کی تفصیل ہے، باقی 28 اکاؤنٹس کی تفتیش جاری ہے۔‘

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ایک اکاؤنٹ سے مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے جن سے مشکوک منتقلیاں کی گئیں۔

ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ان مشکوک منتقلیوں سے مستفید ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ عبداللہ لوطہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور، اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید، ان کے بیٹے، بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے داماد ملک زین شامل ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *