بجٹ 2019: نئے ٹیکسوں سے بھرپور بجٹ کا امکان

آج یعنی منگل کو آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے۔ نئے بجٹ میں محصولاتی آمدنی میں اضافے، ادائیگیوں کے توازن میں بہتری اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کرنے پر توجہ مرکوز رہے گی۔

بجٹ کا تخمینہ 6800 ارب روپے لگایا جا رہا ہے، اور اس بار اس میں دو نکات نہایت اہم ہیں، ایک یہ کہ پاکستانی فوج نے رضاکارانہ طور پر دفاعی بجٹ نہ بڑھانے کی تجویز دی ہے اور دوسرا وزیراعظم کی جانب سے ٹیکس وصولیوں پر زور۔

اس بجٹ میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 750 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے جانے سے بجلی گیس کھانے پینے کی اشیا، گھروں میں استعمال ہونے والی اپلائینسز، الیکٹرونکس، ٹریکٹرز، زرعی آلات اور ملبوسات مہنگے ہوں گے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضافے کی تجویز بھی ہے۔ آئندہ مالی سال کا بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ بجٹ میں دفاع کے لیے 1250 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

دفاعی بجٹ اورحکومتی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ اس سے حاصل ہونے والی رقم کو بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ آئندہ مالی سال میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 2500 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5550 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ حکومتی بجٹ سے مراد ایک مالی سال میں آمدن اور اخراجات کا تخمینہ ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد بجٹ دستاویز مجوزہ مالیاتی بل کی شکل میں قومی اسمبلی میں پیش کی جاتی ہے۔ قومی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد صدر مملکت بجٹ کی منظوری دیتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے قومی اسمبلی میں پیش ہونے پر کئی دن تک بجٹ پر بحث کی جاتی ہے۔

پاکستان میں بجٹ کے بڑے حصے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام، دفاع، قرضوں کی واپسی پر صرف ہوتے ہیں۔

حفیظ شیخ اور فردوس عاشق اعوان

موجودہ مالی سال کے لئے کل قومی پیداوار میں اضافے کا ہدف چھ اعشاریہ تین فیصد مقرر کیا گیا مگر صرف تین اعشاریہ تین فیصد کا اضافہ ہی ہو سکا ہے۔

اقتصادی جائزہ رپورٹ بھی مایوس کن

اس سے قبل وزیر اعظم کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے گذشتہ روز اسلام آباد میں جب معاشی سال 19-2018 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کی تو کہیں کوئی مثبت چیز نظر نہیں آئی۔ رواں مالی سال معاشی ترقی کا ہدف 6.2 فیصد تھا لیکن معاشی ترقی اس کا نصف یعنی 3.3 فیصد رہی۔

اقتصادی سروے کے مطابق رواں مالی سال زرعی شعبے کی شرح نمو 0.85 فیصد رہی جب کہ زرعی شعبے کی شرح نمو کا ہدف 3.8 فیصد تھا۔ صنعت کا شعبہ بُری طرح متاثر نظر آیا، اس شعبے میں ترقی کا ہدف تو 7.6 فیصد رکھا گیا تھا مگر شرح نمو محض 1.4 فیصد رہی۔ اسی طرح خدمات کے شعبے کی ترقی کی شرح 4.71 فیصد رہی تاہم خدمات کے شعبے کی ترقی کا ہدف 6.5 فیصد تھا۔

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے اس خسارے کا ذمہ دار گذشتہ حکومتوں کو ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ برآمدات 20 ارب ڈالر پر منجمد ہیں، گذشتہ حکومت کے دور میں تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر جبکہ سنہ 2018 میں قرضہ 31 ارب تک پہنچ گیا تھا۔

رواں سال وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اعلان کردہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اور امکان ہے کہ اس بجٹ میں بھی ٹیکسز کے حصول اور نئے ٹیکسز سے متعلق اہم فیصلے شامل ہوں گے۔ وزیر اعظم نے گذشتہ روز یعنی بجٹ سے ایک دن پہلے ہی قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق ہمارے پاس بہت سی معلومات ہیں، پاکستانیوں کے بینک اکاؤنٹس کی معلومات آرہی ہیں جو پہلے کبھی کسی حکومت کے پاس نہیں تھی۔

وزیراعظم نے کہا کہ عوام سے کہتا ہوں کہ جن کا پیسہ باہر پڑا ہوا ہے وہ 30 جون تک اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم میں شریک ہوں اور اس سے فائدہ اٹھائیں اس کے بعد انھیں موقع نہیں ملے گا۔

پاکستانی روپیہ

موجودہ مالی سال کے لیے کل قومی پیداوار میں اضافے کا ہدف چھ اعشاریہ تین فیصد مقرر کیا گیا مگر صرف تین اعشاریہ تین فیصد کا اضافہ ہی ہو سکا

واضح رہے کہ اس سکیم کے تحت چار فیصد ٹیکس دے کر بلیک منی کو وائٹ کیا جاسکتا ہے۔ مشیر خارجہ کے مطابق ان افراد کے علاوہ جو عوامی عہدہ رکھتے ہیں کوئی بھی پاکستانی 30 جون تک اس سکیم میں حصہ لے سکتا ہے۔ اس سکیم سے وہ افراد استفادہ حاصل نہیں کر سکتے جو عوامی عہدے رکھنے والوں کے زیر کفالت ہیں۔ حزب اختلاف اور ماہرین دونوں ہی اس سکیم کو ماضی میں لائی جانے والی ایمنسٹی سکیم جیسا ہی قرار دیتے رہے ہیں۔

حکومتی اور دفاعی بجٹ نہ بڑھانے کا فیصلہ

دوسری جانب فوج کی جانب سے یہ اعلان کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنے بجٹ میں اضافہ نہیں کر رہی ہے کو کئی حلقوں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر فوج کی جانب سے اپنے بجٹ میں رضاکارانہ کمی کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس بچت کے نتیجے میں میسر آنے والا سرمایہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع اور بلوچستان کی تعمیر و ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے دفاعی بجٹ میں رضاکارانہ طور پر کمی کے فیصلے کے بارے میں کہا کہ 'یہ اقدام قوم پر احسان نہیں کیوں کہ ہم ہر قسم کے حالات میں اکٹھے ہیں۔'

انھوں نے یہ بات عید کے موقعے پر لائن آف کنٹرول پر جوانوں سے خطاب میں کہی تھی۔

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ 'آنے والے مالی سال میں دفاعی بجٹ میں رضاکارانہ کٹوتی کا اثر ہر قسم کے خطرے کے خلاف دفاعی صلاحیت اور جوانوں کے معیارِ زندگی پر نہیں پڑے گا۔'

ان کا مزید کہنا تھا 'تنخواہوں میں اضافہ نہ لینے کے فیصلے کا اطلاق بھی صرف آفیسرز پر ہوگا اور اس کا جوانوں پر اطلاق نہیں ہو گا۔'

ٹینک

پاکستان میں دفاعی بجٹ سے متعلق ایک عمومی رائے یہ ہے کہ یہ کل بجٹ کا 70 سے 80 فیصد ہے

مسلح افواج کے بجٹ کا جائزہ

پاکستان میں دفاعی بجٹ سے متعلق ایک عمومی رائے یہ ہے کہ یہ کل بجٹ کا 70 سے 80 فیصد ہے، یہ ترقیاتی فنڈ کا بڑا حصہ کھا جاتا ہے، اور یہ کہ کئی سالوں سے مسلسل جی ڈی پی کا بڑا حصہ مسلح افواج کو جاتا ہے۔ یعنی اسی طرح فوج پر آنے والے یہ اخراجات دراصل ملکی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔

ہم نے گذشتہ چند سالوں کے بجٹ دستاویز کے اعداد و شمار میں پاکستان کی مسلح افواج کے بجٹ کا جائزہ لیا۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 13-2012 میں کل بجٹ کا 17.19 فیصد دفاع کے لیے مختص کیا گیا، 14-2013 میں 15.74 فیصد، جبکہ 16-2015 میں کل بجٹ کا 16.27 فیصد دفاع کے لیے مختص کیا گیا۔ 18-2017 میں اس میں سات فیصد اضافہ ہوا جبکہ مالی سال 19-2018 میں مسلم لیگ ن نے اس میں 18 فیصد اضافے کی تجویز دی تھی۔

خیال رہے کہ دفاعی بجٹ میں سے بڑا حصہ مسلح افواج کے فوجی و سول اہلکاروں کی تنخواہوں اور دیگر الاونسسز کے لیے مختص ہے، اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ راشن، علاج معالجے اور تربیتی امورکے ساتھ ساتھ اسلحہ، بارود و دیگر ایمونیشن کے لیے رقم مختص کی جاتی ہے۔ اس میں انفراسٹرکچر کی مرمت اور نئی عمارتوں کی تعمیر کے لیے بھی رقم شامل ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کو بجٹ منظوری کے لیے سادہ اکثریت کی ضرورت ہوگی، جو اسے ایوان کے 342 اراکین میں سے 172 کی حمایت سے حاصل ہو سکتی ہے۔ اگر پاکستان تحریک انصاف کی دو اہم اتحادی جماعتیں بجٹ منظوری کے سلسلے میں اس کا ساتھ نہیں دیں گی تو وفاقی حکومت کو بجٹ کی منظوری میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *