تجزیہ : جسٹس فائز عیٰسی کے خلاف ریفرنس واپس لیا جائے

قانون سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے جسٹس فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کو ایک آزاد خیال اور انصاف پسند جج کے خلاف سازش قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ یہ ریفرنس فوری واپس لیا جائے۔ جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ ہر شخص قانون کو جواب دہ ہے  اور اس ریفرنس کے میرٹ کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل کے ججز کریں گے۔ اس سے تقریبا ہر کوئی مطمئن ہو جانا چاہیے لیکن  اس میں رکاوٹ کیا ہے؟

پہلی وجہ سپریم کورٹ کے ججز اور سپریم جوڈیشل کونسل  پر عدم اعتماد کا اظہار ہے ۔ امان اللہ کنرانی جو سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر ہیں  نے حال ہی میں عدلیہ  کی طرف سے اپنے ہی ججز کو انصاف فراہم کرنے کی قابلیت پر سوال اٹھا دیے ہیں۔

ایک مشہور شخصیت بلزاک کا کہنا ہے کہ عدلیہ پر عدم اعتماد  معاشرے کی موت کی طرف پہلا قدم ہے۔ ایک انصاف پسند اور غیر جانبدار عدلیہ پر بھروسہ  ایک اچھے معاشرے کی  کے قیام کے لیے ضروری ہے۔ فاشسٹ حکومتیں بھی  اس چیز کی ضرورت کا اعتراف کرتی ہیں۔ اقتدار  پر مکمل قبضہ ہوتے ہوئے بھی نازی ایس ایس نے جوڈیشری پر کنٹرول کے معاملے کو بہت خفیہ رکھا  کیونکہ ان کے مطابق عوام ایک خود مختار اور آزاد جج چاہتے تھے۔ اگر  عوام کو یہ شک ہو جائے کہ ججز کو فیصلے کرنے پر کسی طرح سے مجبور کیا جا رہا ہے تو انتطامیہ اور ریاست کی قانونی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن آج  کے دور میں بہت کم لوگ ہماری عدلیہ کو آزاد سمجھتے ہیں۔ انہیں یہ بھی یقین نہیں کہ عدلیہ تمام کیسز کا فیصلہ قانون کے مطابق اور ہر شخص کو برابر سمجھ کر کرتی ہے۔  جیسے جیسے کوئی عدلیہ کے قریب ہوتا  جاتا ہے اس کا یقین ختم ہوتا جاتا ہے۔

چیف جسٹس کی حیثیت سے 2 سال کےد وران  ثاقب نثار نے بہت سے لوگوں کا عدلیہ سے بھروسہ ختم کر دیا جو پہلے عدلیہ پر مکمل بھروسہ رکھتے تھے۔ وہ جب بھی کورٹ میں بیٹھتے   اور وکلا کو ایسے لوگوں کی نمائندگی سے روکتے جو ان کو پسند نہ ہوں، بینچ  میں تبدیلی کا حکم جاری کرتے تا کہ نا پسندیدہ ججز کو ہٹایا جا سکے، ڈیم پراجیکٹ کے لیے   پارٹیوں سے پیسے اینٹھتے،   نتائج کو کاروائی پر ترجیح دیتے، تو سماعت سے قبل ہی اپنا ایجنڈا ظاہر کر دیتے ، اور عدلیہ کی انصاف پسندی اور غیر جانبداری پر بھروسہ کو نقصان پہنچاتے۔ وہ پہلے ایسے چیف جسٹس نہیں تھے جن پر اپنی دھونس جمانے کے الزامات لگائے جاتے رہے۔لیکن وہ پہلے تھے جنہوں نے ترجیحات کو زیادہ اہمیت دینے میں کھل کر اپنے عزائم ظاہر کیے۔  ان کے علاوہ کون ایسا کر سکتا تھا کہ معمولی سی کاروائی کے بعد گولن کے پاک ٹرک سکول کے خلاف فیصلہ دے دیتا  اور اس کی مینیجمنٹ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیتا اور پھر فوری طور پر ترکی کا دورہ کر کے اردگان کے ساتھ تصویر کھنچواتا؟

حقیقت یہ ہے کہ آصف سعید کھوسہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت عدلیہ کا اعتماد بحال کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنے سے قبل چیف جسٹس کے طریقے چھوڑ کر عدلیہ میں اصلاحات اور کیسز میں التوا کے معاملے پر توجہ دینے کو ترجیح دی ہے۔ یہ بھولنا آسان نہیں ہے کہ بینچ میں موجود ججز نے جسٹس ثاقب نثار کی زیادتیوں کو خاموش رہ کر نظر انداز کیے رکھا۔ عدلیہ میں اعتماد بحال کرنے کے  لیے بہت وقت اور محنت کی ضرورت پڑے گی۔ سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایسے افراد کے لیے لڑنے کی ہے جنہوں نے برے وقتوں میں عدلیہ کی آزادی کے لیے اپنی ریپوٹیشن قربان کر دی۔

دوسری وجہ ریفرنس کے بیک گراونڈ سے تعلق رکھتی ہے۔ پچھلے سال 46 سالہ تاریخ میں پہلی بار عدلیہ نے ایک جج کو مس کنڈکٹ کے لیے نوکری سے برخواست کیا ہے۔ جج کو برطرف کرپشن یا نا اہلی پر نہیں  کیا گیا بلکہ آئی ایس آئی پر عدلیہ پر اثر انداز ہونے کے الزام پر کیا گیا۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک طرف چیف جسٹس نے آئی ایس آئی پر سر عام الزام لگانے کو مس کنڈکٹ قرار دیا  تو دوسری طرف انہوں نے واقعہ کی تحقیقات   کرنے سے انکار کر دیا۔

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جسٹس فائز عیسی کا گناہ بھی اسی طرز کا ہے۔ فیض آباد دھرنا کیسے کے فیصلے میں  آرمی اور خفیہ ایجنسیوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ تحقیقات کر کے پتا چلائیں کہ ان کے افسران نے سیاست میں مداخلت کر کے  اور مظاہرین کو پیسے بانٹ کر اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں ۔ اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی اور اتحادیوں نے ججز پر کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے۔ دوسری طرف ججز پر راء کے بیانیہ کو پروموٹ کرنے کا الزام بھی لگایا گیا۔

اس تناظر میں جب حکومت کسی خفیہ ریفرنس کی تفاصیل لیک کرتی ہے اور پھر نتیجہ کے طور پر جسٹس فائز عیسی کے خلاف پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر مہم چلائی جاتی ہے تو اس سے حکومت کا بغض بھی ظاہر ہوتا ہے۔ تیسری وجہ اس ریفرنس کا بے وقعت ہونا ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ الزام یہ ہے کہ جسٹس فائزعیسی نے اپنی ویلتھ سٹیٹمنٹ جو انہوں نے ٹیکس اتھارٹیز کو جمع کروائی ہے اس میں اپنی بیوی اور بچوں کے نام پر غیر ممالک میں موجود جائیدادیں ڈیکلئر نہیں کی ہیں قانون کے مطابق کیا وہ اس کے پابند بھی ہیں یا نہیں؟ حکومتی ترجمان غلطی سے اس کیس کو اپنے فیملی ممبران کی جائیداد ڈیکلئیر نہ کرنے  پر نا اہل قرار پانے والے پارلیمنٹیرین کے کیس سے موازنہ کرتے ہیں۔ الیکشن قوانین میں خاص طور پر یہ لکھا ہے کہ پارلیمنٹیرینز کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کی جائیدادیں اپنی جائیدادوں کے ساتھ ڈیکلیئر کریں۔ انکم ٹیکس آرڈیننس میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے۔

آرڈیننس کی شق 116 کے مطابق ویلتھ سٹیٹمنٹ کی فائلنگ  ضروری ہے۔ اس کے دو حصے ہیں۔ دوسرا حصہ تمام رہائشی ٹیکس دہندگان پر لازمی ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنے اثاثوں اور واجبات کی ویلتھ سٹیٹمنٹ فائل کریں۔ لیکن پہلے حصلے میں لکھا ہے کہ اگر ٹیکس کمشنر  اس معاملے میں ٹیکس دہندہ کو نوٹس بھیجے تو ٹیکس پیئر  کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی، ،چھوٹے بچوں اور دوسرے زیر کفالت افراد کے اثاثے بھی اپنی جائیداد کے ساتھ ظاہر کرے۔ دیکھنے میں اس طرح کا کوئی نوٹس جسٹس فائز عیسی کو نہیں بھیجا گیا۔ اس نوٹس کے نہ بھیجے جانے کی بنیاد پر انہیں اپنے بیوی بچوں کے اثاثے ڈیکلیئر کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

حکومت کا موقف ہے کہ جسٹس عیسی کی بیوی اور بچوں کے نام پر موجود جائیدادیں جسٹس عیسی کی تصور کی جائیں۔ لیکن قانون کا موقف اس کے بر عکس ہے۔ قانون یہ کہتا ہے کہ موجودہ صورتحال کو اس وقت تک حقیقی مانا جائے جب تک اس کو غلط ثابت نہیں کر دیا جاتا۔ کسی بھی شخص کو  کسی ظاہر نہ کی جانے والی جائیداد کا مالک قرار دینے کی ذمہ داری الزام لگانے والے پر ہوتی ہے۔ نیب قانون کے بر عکس یہاں ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری  جائیداد کے مالک کی نہیں ہوتی۔

اسی طرح صدر بھی تبھی ریفرنس بھیج سکتا ہے جب اس کے پاس ایسے ناقابل تردید ثبوت موجود ہوں جن کی مدد سے یہ ثابت کیا جا سکے کہ جسٹس فائز عیسی کی بیوی اور بچوں کی جائیدادیں بے نامی ہیں  اور ان کے اصل مالک جسٹس عیسی ہی ہیں۔ چونکہ اس معاملے میں کوئی خاص لیکس میسر نہیں ہیں  اس لیے ایسا لگتا ہے کہ ایسا کچھ بھی حقیقت میں  موجود ہے ہی نہیں۔ اس طرح کے مواد کے بغیر  ریفرنس دائر کرنے کا عمل ہی غلط اور ناجائز ہے۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ  کیا جسٹس فائز کے بیوی اور بچے اپنی ایسی جائیدادوں کو ڈیکلئر کرنے کے پابند تھے؟ اس کا انحصار کچھ اہم حقیقی عوام پر ہے جن میں ان کی شہریت، رہائش، آمدنی کے ذرائع وغیرہ شامل ہیں جو اب تک معلوم نہیں ہیں۔ لیکن اگر ان کو اپنی جائیدادیں ڈیکلئیر کرنا چاہیے تھیں اور انہوں نے نہیں  کیں پھر بھی  ان کی قلعی انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت قانونی کاروائی کے دوران کھل جائے گی۔اس سے سپریم کورٹ کی طرف سے جسٹس فائز عیسی کے خلاف کاروائی کو پھر بھی جواز نہیں ملتا۔  اس لیے اس کاروائی کو فوری طور پر روک دیا جائے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *