اخلاقی دیوالیہ پن

M tahirمحمد طاہر

اعلیٰ اخلاقی معیار کا مالک کون ہے؟ کوئی بھی نہیں۔ وہ تو بالکل نہیں جو جعلسازی کے مرتکب ہوئے۔ مگر وہ بھی نہیں جو ایگزیکٹ کے خلاف انکشافات کو ایک بہت بڑا بحران باور کرارہے ہیں۔ بآلاخر سب تھک جائیں گے اور سب ہار بھی جائیں گے۔ قانونِ قدرت سرکار دو عالمﷺ کے ارشادِ مبارک میں ڈھل کر سامنے آ گیا۔ فرمایا:اللہ کسی آدمی کو اُس وقت تک مارتا نہیں جب تک وہ جیسا ہے، دنیا پر ظاہر نہ کر دے۔‘‘قانونِ قدرت حرکت میں ہے۔ سب کو بے نقاب ہو جانا ہے۔یہ پاکستان کے قوانین نہیں، نہ ہی یہ ہمارے ملک کی طرح کی حکومت ہے۔عالم کے پروردگار نے کل کائنات کو اپنے ایک حکم سے تھام رکھا ہے اور اُچھل کود کرنے والی اس مینڈک نما مخلوق کی تو کوئی وقعت ہی نہیں ، تمام کے تمام انسانوں کے بارے میں ارشاد تو یہ ہے کہ اُنہیں اُن کے ماتھوں سے پکڑکر رکھا گیا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ بھی کہ کائنات کا رب انسانوں سے اُن کی شہ رگوں سے بھی زیادہ قریب ہے۔ سو ستاّرالعیوب کے ہاں پردہ پوشی اور پردہ دری کے آفاقی اصول غیر مبدل ہیں۔ وہ اپنی سنت کبھی تبدیل نہیں کرتا۔ کائنات کے رب نے اپنی قدرت کو اپنی قدرت سے ہی ایک معیار پر ناقابل تغیر حالت میں پسند فرمایا۔اب سوال یہ ہے کہ بچے گا کون؟ یہاں اعلیٰ اخلاقی معیار کا مالک آخر کون ہے؟
طلعت حسین نے جتنے سوال کامران خان سے پوچھے، کچھ اُتنے ہی سوالات طلعت حسین پر بھی بنتے ہیں۔ مگر اُن سے کیپٹل ٹی وی میں وہ سوال پوچھے نہیں گئے۔ دوسرے کو سہولت دینے والے اور دوسرے کو مشکل میں ڈالنے والے سوالات پہلے سے ہی ذہن میں مرتب ہوتے ہیں۔ طلعت حسین بلاشبہ پاکستانی صحافت کے اُن چند آبرومند صحافیوں میں سے ہیں جو اپنے کام کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر وہ کمال کی ادارتی صلاحیت سے بہرہ مند ہیں ۔ اُن میں سوال اُٹھانے کا زبردست ملکہ ہے۔ سوال ہی تو علم کی کنجی ہے۔ درست سوال اُٹھانا ہی ایک صحافی کو ممتاز رکھتا ہے۔ مگر ایک مسئلہ ہے۔ فلسفے اور صحافت میں سوال کی نوعیت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ فلسفے کے میدان میں سوال کو پہاڑ کی چوٹیوں کے مثل سمجھا جاتا ہے۔ جو ہمیشہ یکساں ہوتی ہیں۔ پہاڑوں میں فرق پہاڑوں کے دامن کا فرق ہے۔ چوٹیوں کا نہیں۔ چناچہ فلسفے کاسوال ماحول اور بسا اوقات اپنے تناظر سے بھی ہٹ کر دائم ایک سوال رہتا ہے۔ مگر صحافت میں بابا، نوعیت کا بے پناہ فرق ہے۔ ہر سوال ایک ماحول اور تناظر کے ساتھ مربوط ہوتا ہے۔ جائز سوال بھی اپنے ماحول سے ہٹ کر ناجائز لگ سکتا ہے او راپنے تناظر سے کٹ کر ناواجب کہلایا جاسکتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ذرائع ابلاغ کو اِسی کھیل کے آلۂ کار کے طور پر ہی پروان چڑھایا گیا۔اور وہ آج تک یہی خدمت انجام دے رہا ہے۔ گستاخی معاف ایگزیکٹ کے معاملے میں بھی یہی کچھ دیکھنے میں آرہا ہے۔یہاں سرمائے کی باہم لڑائی ریاستی ہنر کو برتنے کا تاریخی تجربہ اور مقتدر قوتوں کا کھیل باہم مل کر تنہا سرمائے کو شکست دینے کے لئے سرمائے کے بل پر ہی نبرد آزما ہے۔ صحافیوں کے سوالات کی پوری صلاحیت اِسی کھیل میں کام آرہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ صلاحیت کسی بڑے اور جوہری معاملے کی طرف متوجہ ہونے میں ناکام کیوں ہے؟بڑے سوال کی بحث جاری رہے گی۔ پہلے ذرا اس چھوٹے سے معاملے کی اسا س پرغور کر لیجئے! جو کامران خان اور طلعت حسین کے سوال وجواب سے موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔
کامران خان کون ہیں؟ سب ہی جانتے ہیں۔ کامران خان کاصحافتی عرصہ بہت سے الزامات میں پہلے سے ہی لتھڑا ہوا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک انٹلیجنس کے معروف افسرنے وقت ٹی وی پر مطیع اللہ جان کے ایک پروگرام میں اُن پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ اُن سے ماہانہ رقم لیا کرتے تھے۔ کامران خان نے ٹی وی پرچلنے والے اس انٹرویو پر چپ سادھے رکھی۔کراچی میں فعال صحافت کا حصہ رہنے والے باخبر صحافی اس سے بھی کچھ زیادہ جانتے ہیں۔کامران خان کی تحقیقی صحافت بھی دراصل اُسی کھیل کی پیداوار تھی۔ اگرچہ اس نے ملک میں اپنا سکہ خوب جمایا۔ اور یہ تحقیقی صحافت اقتدار کے کھیل میں جس کے بھی جنبشِ ابرو سے حرکت میں آتی ہو اور اختیار کے جس بھی مدار کے تحت گھومتی ہو ، بلاشبہ اس نے صحافت کی ایک خاص منہج کی تشکیل میں حصہ لیا ہے۔ مگر اس کھلے اعتراف کے باوجود کامران خان کبھی بھی صحافتی دنیا میں اُس اخلاقی سبقت کونہیں پاسکے تھے کہ اُنہیں صحافت کی آبرو سمجھ کر اُن کے اقدامات کو ذرائع ابلاغ کی ساکھ سے وابستہ کر لیا جاتا۔ طلعت حسین نے اپنے تمام سوالات کو اس نکتے پر مرتکز رکھ کر کامران خان کو کھدیرا ہے۔یہ نکتہ اپنی اصل میں درست نہیں۔
طلعت حسین نے کامران خان کو سوالات کی سان پر کسنے کے لئے ایک اور حوالے کو بھی جواز بنایا ہے کہ کامران خان بول کے وسیع وعریض نیٹ ورک کا ایک بنیادی ستون تھے اور سب کچھ اُن کے گرد ہی گھومتا تھا۔ بول ابھی تک صحافت کے افق پر طلوع ہی نہیں ہوا وہ صحافت کے کسی بھی معیار پرتب ہی پرکھا جا سکتا تھا جب وہ منظرعام پر آجاتا۔ بول کی ساری سرگرمیاں صحافتی منڈی میں محض بھاری تنخواہوں اور بڑے ناموں کی تلاش تک تھی ۔ خود طلعت حسین جس پروگرام کا حوالہ دیتے ہیں اُس میں ہی اینکر نے بول کے بڑے نیٹ ورک کا اسی نکتے پر مزاق اڑایا تھا۔ اور طلعت حسین نے اپنی تائیدی مسکراہٹ بکھیری تھی۔سوال یہ ہے کہ جب بول ایک بڑے نیٹ ورک کے طور پر ابھی کسی صحافتی آزمائش پر اُترا ہی نہیں تھا۔ اور بول خود ابھی براہِ راست دنیائے صحافت میں قدم رنجہ ہو ہی نہیں سکا تھا تو پھر اُس کی ’’منڈی‘‘ کی سرگرمیوں کو صحافت سے نتھی کرکے یہ نتیجہ ہی کیوں اخذ کیا جارہا ہے کہ اس سے پاکستان کے ذرائع ابلاغ کی صنعت پر بڑے سوالات اُٹھ گئے ہیں۔ اِن حرکتوں نے ذرائع ابلاغ کی صنعت کو اُس سے کہیں زیادہ چھوٹا ضرور ثابت کیا ہے جتنی کہ وہ فی الواقع ہے۔کامران خان سے یہ سوال ہی غلط ہے کہ وہ بول سے کمائی گئی رقم کا کیا کریں گے؟ مسئلہ یہ ہے کہ صحافتی صنعت میں جو رقم دوسرے اداروں سے بھی حاصل کی جارہی ہے اُس کے تمام ذرائع بھی کیا شک وشبہے سے مکمل بالاتر ہیں؟ غلط رقم کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جعلی اسناد سے کمائی گئی رقم دیگر غلط ذرائع سے کمائی گئی رقم کے مقابلے میں زیادہ غلط ہے۔پھر کامران خان نے کبھی یہ دعویٰ تو نہیں کیا کہ وہ رقم کی ایمانداری پر کوئی یقین رکھتے ہیں۔ کامران خان کا یہ نہایت ذاتی معاملہ ہے کہ وہ اس معاملے میں کیا قدم اُٹھاتے ہیں؟یہ بالکل ایک ایسا ہی معاملہ ہے جیسے حکومت اسلام آباد میں صحافیوں کو ایک مراعات یافتہ طبقے کے طور پر قیمتی پلاٹ دے رہی تھی۔ تب کچھ صحافیوں نے یہ پلاٹ لینے سے انکار کر دیا اور کچھ دیگر صحافیوں سے یہ درخواست کی کہ وہ بھی اپنے پلاٹ لینے سے انکار کر دیں۔ تب اُنہوں نے کہا تھا کہ جنہیںیہ پلاٹ نہیں لینے وہ اپنا فیصلہ خود کریں اور ہمیں اپنا فیصلہ خود کرنے دیں۔ کامران خان کو بھی اپنے فیصلے خود کرنے دیں۔دراصل کامران خان کے استعفے کو صحافتی صنعت پر اُٹھنے والے بڑے سوالات کے ساتھ جوڑنا اور پھر اُن کی کمائی گئی رقم کو کسی بڑے اخلاقی بحران سے منسلک کرنا ، سننے میں بڑا سنسنی خیز اور بھلا سا لگتا ہے مگر یہ سرے سے کوئی متعلقہ معاملات ہی نہیں۔ اور نہ ہی یہ صحافتی صنعت کو کسی اخلاقی عظمت سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی صحافتی صنعت کے رخ ورخسار اور نقش ونگار ہی کچھ اور طرح کے ہیں جس میں ساری گنجائشیں حد سے زیادہ موجود ہیں۔ اب طلعت حسین کے معاملے پر ہی غور کرلیجئے! وہ خود ہی یہ بتاتے ہیں کہ وہ بول کے ساتھ بات چیت کا حصہ رہے۔ اور اُن کی طرف سے پیش کیا گیا معاہدہ اب بھی ان کے پاس موجود ہے۔ مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ بڑے اینکرز کرتے کیا ہیں؟ وہ مختلف اداروں کے ساتھ بیک وقت رابطوں میں رہتے ہیں جس کے مختلف مقاصد ہوتے ہیں۔ پاکستان میں کوئی بھی اینکرکبھی بھی کسی بھی ادارے سے اچانک فارغ کر دیا جاتا ہے۔ لہذا وہ اپنے اگلے ٹھکانے کے بارے میں کچھ اسباب پہلے سے ہی تیار رکھتا ہے۔ یہاں ایسے بھی لوگ ہیں جو ایک ادارے میں رہتے ہوئے دوسرے ادارے سے تنخواہیں لیتے ہیں۔ اُن کی رقم جائز اور ناجائزرقم کی بحث سے مکمل خارج ہے۔طلعت حسین نے خود کو بھی منڈی کے اس بہاؤ سے باہر نہیں رکھا۔چناچہ وہ بول کے ساتھ بات چیت کا حصہ رہے اور اس بات چیت کو وہاں تک لے کر گئے جو کسی بڑی تنخواہ کے ساتھ معاہدے کی شکل اختیار کر سکتی ۔پھر معاہدے کے کاغذ کو اپنے گھر کی زینت بنایا اور معذرت کر لی۔ منڈی کے بہاؤ میں صحافت کی جو شکل بنی ہے یہ اُسی کی آئینہ دار روش ہے۔ طلعت حسین نے ایک بڑی پیشکش کے باوجود خود کو تھامے رکھا ۔ یہ اُن کا کمال ہے کیونکہ بہت سے صحافی یہ نہیں کر پائے۔ خود کامران خان کا معاملہ بھی یہی ہے۔ مگر یہ سارا عمل منڈی کی نفسیات کے عین مطابق ہے۔ اس میں کہیں بھی کوئی اخلاقی برتری کسی کو حاصل نہیں ہوتی۔
کامران خان کے استعفے کو موقع بنا کر جو ذرائع ابلاغ اِسے اپنے پرانے زخموں کو بدلہ چکانے کا موقع بنا رہے ہیں وہ بھی ہدف سے بچ نہ پائیں گے۔ یہ رسوائیوں کا بازار ہے۔ یہاں خرید وفروخت کی یکساں جنس بھی یہی ایک ہے۔سب کو بآلاخر بے نقاب ہونا ہے۔قانونِ قدرت بھی یہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *