بجٹ 20-2019: کابینہ کی منظوری کے باوجود ہیلتھ ٹیکس نہ لگ سکا

اسلام آباد: صحت سے متعلق حساس افراد یہ جان کر حیران رہ گئے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے سگریٹ اور انرجی ڈرنکس پر ’ہیلتھ ٹیکس‘ لگانے کے فیصلے کے باوجود مالی سال 20-2019 کے مجوزہ بجٹ میں انہیں شامل نہیں کیا گیا۔

اس بارے میں ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ’مذکورہ ٹیکس وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منظور کرلیا گیا تھا'۔

تاہم منگل کے روز پارلیمانی سیشن سے قبل ہونے والے اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے آمدن بڑھانے کے لیے سگریٹ سے اس کے تیسرے درجے کا ٹیکس واپس لینے کی تجویز دی گئی۔

خیال رہے 3 جون کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سگریٹ کے فی پیکٹ پر 10 روپے جبکہ کاربونیٹڈ ڈرنکس (مشروبات) کی 250 ملی لیٹر کی بوتل پر ایک روپے ہیلتھ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

ڈان کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق ہیلتھ ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم صحت کے شعبے کی ترقی پر خرچ کی جانی تھی۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اس سے قبل سگریٹ پر 3 طرح کے ٹیکس تھے لیکن ایف بی آر کی تجویز پر سب سے کم درجے کا ٹیکس واپس لے لیا گیا جس سے تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونے والی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی یا ٹیکس میں 33 ارب روپے کا اضافہ ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ مالی سال 19-2018 کے لیے ریونیو کا تخمینہ ایک کھرب 14 ارب روپے لگایا گیا تھا لیکن سب سے کم درجے کا ٹیکس واپس لینے سے مالی سال 20-2019 کا ریونیو ہدف ایک کھرب 47 ارب روپے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مجھے اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کی اضافی رقم یعنی 33 ارب روپے صحت کے شعبے میں خرچ کیے جائیں گے۔

اس حوالے سے ڈان سے گفتگو کرتے عالمی ادارہ صحت کے نیشنل پروفیشنل افسر شہزاد عالم خان نے حکومت کی جانب سے ٹیکس کے تیسرے درجے کو ختم کرنے کے فیصلے کو سراہا کیوں کہ اس کا مطالبہ عالمی ادارہ صحت نے بھی کیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے گے کہ وفاق کے اس فیصلے پر عملدرآمد ہو‘۔

اس ضمن میں وزیراعظم کے ترجمان برائے انسدادِ پولیو اور تمباکو نوشی بابر بن عطا کا کہنا تھا کہ ان کا کام ہیلتھ ٹیکس لگانے کی حمایت کرنا تھا اور وہ اسے وفاقی کابینہ سے منظور کروانے میں کامیاب بھی ہوئے، اب یہ وزارت خزانہ کا کام ہے کہ اس فیصلے پر عمل کیا جاتا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *