عمران خان کی تقریر: پی ٹی وی اور مشیروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

سوشل میڈیا پر کسی نے قومی نشریاتی ادارے کی کارکردگی پر سوال اٹھائے تو کسی نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر کو سنسر کیا گیا ہے

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے منگل کی شب قوم سے خطاب میں ملکی قرضوں میں اضافے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا یہ خطاب پاکستان کے قومی نشریاتی ادارے پر نشر کیا گیا۔ اس خطاب کو نہ صرف تین بار وقت تبدیلی کے بعد رات گئے نشر کیا گیا بلکہ اس میں کئی تکنیکی مسائل بھی رہے۔ وزیراعظم کی تقریر کے دوران دو مرتبہ آڈیو غائب ہوئی اور سکرین بھی بلیک آؤٹ ہو گئی جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی۔

کسی نے قومی نشریاتی ادارے کی کارکردگی پر سوال اٹھائے تو کسی نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر کو سنسر کیا گیا ہے۔ جبکہ بڑی تعداد میں صحافیوں اور اینکرز نے وزیراعظم کے میڈیا مشیروں اور معاونین کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے۔

صحافی اور اینکر سلیم صافی نے ٹویٹ کی ’تین مرتبہ وقت بدلنے کے بعد قوم سے مبینہ وزیراعظم کے خطاب میں ریکارڈنگ اور ایڈیٹنگ کے درجنوں بلنڈرز۔ جو شخص ایک درجن میڈیا ایڈوائزر رکھ کر قوم تک اپنا خطاب صحیح طریقے سے نہیں پہنچا سکتا، وہ ملک کیسے چلارہے ہوں گے؟خود ہی اندازہ لگا لیجیے۔ ویسے تبدیلی پسند آئی؟‘

عادل شاہ زیب نے بھی یہی بات کی کہ ’تین گھنٹے انتظار کے بعد پھر آڈیو غائب، لو کوالٹی فلمنگ اینڈ ایڈیٹنگ۔ اتنے ترجمانوں میں سے کسی میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ خطاب کو بھی ٹھیک سے مینیج کر پاتے؟‘

سابق وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے ٹویٹ کی کہ ’عمران جس پی ٹی وی پر حملہ کیا تھا آج اس نے بھی بدلہ لے لیا۔‘

صحافی اور تجزیہ کار مبشر زیدی نے ٹوئٹر پر قومی نشریاتی ادارے کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’یار خدا کا خوف کرو پی ٹی وی والو۔ کیا ایک غلطی کافی نہیں تھی۔ وہ وزیراعظم ہیں۔‘

اینکر منصور علی خان نے ٹویٹ کی کہ ’نیا پاکستان بننے ہی والا تھا کہ آواز چلی گئی۔‘

حماد آر خانزادہ نامی صارف نے لکھا ’ مجھے یقین ہے کہ وزیر اعظم کی تقریر کو پی ٹی وی کی کسی ٹیم نے ریکارڈ نہیں کیا۔ میں نے پی ٹی وی کے ساتھ کام کیا ہے اور خاص طور پر پیغام کی ریکارڈنگ میں ان کی فریمنگ، ریکارڈنگ اور ایڈٹنگ میں بہت احتیاط برتی جاتی ہے۔ وہ بہت پروفیشنل ہیں۔‘

کاشف کنگ نامی صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا ’ پی ٹی وی کو اس کا کام بتانے کے لیے پہلے ہائی پاور کمیشن بنایا جائے۔‘

ایک صارف نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا ’پی ٹی وی سونامی کا شکار ہوگیا۔‘

پی ٹی وی

سعید علی شاہ نے مزاحیہ انداز میں ٹویٹ کیا ’ پی ٹی وی میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔‘

راجہ فیصل نے اس غلطی پر پی ٹی وی کے تمام ملازمین کو فارغ کرنے کا مشورہ دیا۔

ذیشان سعید نے قومی نشریاتی ادارے کی کارکردگی کے بارے میں لکھا ’یہ حال ہے ہمارے ’ریاستی چینل‘ کا۔‘

ایک نجی ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر نیوز محمد عثمان نے اپنے فیس بک پر لکھا ’لگتا وزیراعظم صاحب کی تقریر پیمرا کی ہدایت کے مطابق ڈیلے میکانزم لگا کر سرکاری ٹی وی پر نشر کی گئی ہے۔ اس بات کی تحقیق ہونی چاہیے کہ وزیراعظم کی تقریر کے کون سےجملوں کی آڈیو بند کی گئی۔‘

فیس بک

حسن کمال نے بھی کچھ ایسا ہی لکھا ’وزیراعظم کی تقریر کو سنسر کیا گیا ہے۔‘

بی بی سی نے جب اس معاملے پر وزیر اعظم عمران خان کے میڈیا ایڈوائزر اور پی ٹی وی کے سابق ایم ڈی یوسف بیگ مرزا سے رابطہ کیا تو انھوں نے یہ کہتے ہوئے بات کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی ذمہ داری تھی۔

تاہم وزرات اطلاعات کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعظم کی تقریر ایک نجی کمپنی سے ریکارڈ کروائی گئی تھی۔ جس کے پاس ہائی ڈیفنینیشن (ایچ ڈی) کیمرے تھے تاہم اس کے ساتھ پی ٹی وی کے عملے کو بھی وہاں طلب کیا گیا تھا۔

اہلکار کے مطابق وزیر اعظم کی تقریر کی ریکارڈنگ کرنے کے بعد اس کی کاٹ چھانٹ کر کے کارڈ پی ٹی وی کے عملے کو دے دیا گیا۔ وزیر اعظم کی تقریر چونکہ پہلے ریکارڈ ہو چکی تھی اس لیے تکنیکی وجوہات کی بنا پر عمران خان کی تقریر کا وقت تبدیل کیا جاتا رہا۔

وزارت اطلاعات کے اہلکار کے مطابق پی ٹی وی کے پاس ایچ ڈی کیمرے کی سہولت نہیں ہے اور وزیر اعظم کے خطاب کے دوران پی ٹی وی پر ان کی آواز بند ہوتی رہی۔

دوسری جانب وزارت اطلاعات کے حکام نے پی ٹی وی کے اس عملے کو طلب کیا ہے جو وزیر اعظم کی تقریر کے دوران ڈیوٹی پر تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *