انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی اب پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کریں گے

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستانی فضائی حدود کے استعمال کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔

پاکستان نے بالاکوٹ کے واقع کے بعد اپنی فضائی حدود تجارتی طیاروں کے لیے بند کر دی تھی۔ خبروں کے مطابق مودی کی پرواز کے لیے انڈیا نے پاکستان کی فصائی حدود سے پرواز کی اجازت مانگی تھی لیکن اب وزیر اعظم مودی پاکستان کی حدود کے بجائے ایک لمبے راستے سے کرغزستان جائیں گے۔

انڈین وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے دونوں آپشنز کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔

البتہ اس سے پہلے پاکستان میں دفتر خارجہ کے ایک اہلکار نے انڈیا کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی کے لیے فضائی حدود کھولنے کی درخواست کی تصدیق کی تھی۔ اہلکار کے مطابق پاکستان میں یہ درخواست فی الحال ’زیرِ غور‘ ہے اور اس پر حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

واضح رہے کہ انڈین حکومت نے پاکستان سے درخواست کی تھی کہ وہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے جہاز کو 13 جون کو پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دے۔ اس ضمن میں ملک میں انڈین ہائی کمیشن نے باضابطہ درخواست بھیجی تھی۔

تاہم انڈین ہائی کمیشن کے ایک اہلکار نے اس سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ آپریشنل معلومات ہیں جو وہ شیئر نہیں کرسکتے۔‘

انڈین وزیراعظم مودی آئندہ ہفتے کرغستان کے شہر بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان بھی اس اہم اجلاس میں شریک ہوں گے تاہم دونوں سربراہان کے درمیان باضابطہ ملاقات تاحال طے نہیں ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان نے اس سے قبل رواں برس مئی میں انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج کے طیارے کے لیے اس وقت فضائی حدود کھولی تھی جب وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک جا رہی تھیں۔

پاکستان میں دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس وقت انڈیا کی جانب سے طویل مسافت سے بچنے کے لیے پاکستان سے اس کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ فروری میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں انڈیا کے نیم فوجی دستے پر خودکش حملے، بالاکوٹ میں انڈین طیاروں کی بمباری اور پھر پاکستان کی جانب سے انڈین جنگی طیارہ گرائے جانے کے واقعات کے بعد دونوں ملکوں میں کشیدگی کے باعث پاکستان کی فضائی حدود تمام کمرشل اور نجی پروازوں کے لیے بند کر دی گئی تھی۔

اس کے کچھ عرصے بعد ملک کی دیگر فضائی حدود تو آپریشنل کر دی گئی تاہم انڈین سرحد کے ساتھ یعنی مشرقی فضائی حدود تاحال ایئر ٹریفک کے لیے بند ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ پاکستان کی مشرقی فضائی حدود 14 جون تک بند رہے گی۔

اس پابندی سے سب سے زیادہ متاثر یورپ سے جنوب مشرقی ایشیا کی جانب آنے والی وہ عالمی پروازیں ہوئی ہیں جو انڈین ایئر سپیس استعمال کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں جہاں فضائی کمپنیوں کے اخراجات بڑھ گئے ہیں وہیں پروازوں کا دورانیہ بھی بڑھا ہے اور کئی پروازیں جو نان سٹاپ تھیں اب انھیں ایندھن کے لیے رکنا پڑتا ہے جس کے مزید اخراجات ہیں۔

اس بندش سے سب سے زیادہ متاثر پاکستان کے ہمسایہ ممالک ہو رہے ہیں جن کی مختصر دورانیے کی پروازوں کو اب ایک طویل راستے سے گزر کر جانا ہوتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *