”ثاقب نثار کی ججی“.... اور کالم نگار کا تصورِ انصاف؟

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )



”ثاقب نثار کی ججی“
اور کالم نگار کا تصورِ انصاف؟

خامہ بدست کے قلم سے
”دنیا“میں جناب ایاز امیر کا کالم زیر نظر ہے۔ ”ثاقب نثار کی ججی“کی سرخی کے ساتھ یہ جج صاحب کے اس کردار پر تبصرہ ہے جو موصوف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر ادا کیا۔ ایاز امیر کے سیاسی فکر و نظر سے اختلاف کے باوجود ایک ترقی پسند اور روشن خیال دانشور کے طورپر ہمارے دل میں ان کے لیے ہمیشہ احترام کا خاص جذبہ رہا ہے۔ انہوں نے جس طرح سیاسی وفاداریاں بدلیں، یہ ان کا اور ان کے حلقے کے عوام کا معاملہ ہے۔ لیکن زیر نظر کالم میں انہوں نے سابق چیف جسٹس کے ”طرزِ انصاف“ کی جس طرح تحسین کی ہے، اس نے ان کی دانشوری اور ترقی پسند ی کے حوالے سے کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑا۔ فرماتے ہیں: ”کل تک بلاشرکت غیرے طاقتور ترین چیف جسٹس تھے، جو جی میں آتا کر ڈالتے۔“ لیکن مذہب معاشرہ (اور مہذب لوگ) تو توقع کرتے ہیں کہ کوئی جونئیر جج بھی، آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرے گا اور ثاقب نثار تو ملک میں انصاف کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز تھے۔ خود ان کے حلف کا بھی تقاضا تھا کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کریں۔ اسمیں جو ”جی میں آئے، کر ڈالنے“ کی رتی برابر گنجائش نہیں۔ حیرت ہے، ہمارا ترقی پسند اور روشن خیال دانشور اس رویے کی تعریف کر رہا ہے، جس کی مذمت کی جانی چائیے۔چیف جسٹس صاحب کی تعریف میں مزید فرمایا، ”ثاقب نثار جج کم اور تھانیدار زیادہ تھے“ لیکن کیا ایک جج کو اور وہ بھی ملک کے سب سے بڑے جج کو، جج کم اور تھانیدار زیادہ ہونا چاہیے؟ پھر پوچھتے ہیں: ”بدنام زمانہ راؤ انوار کی گرفتاری کیسے ممکن ہوئی؟ ان کے پشت پناہ طاقتور لوگ تھے لیکن جج ثاقب نثار کا پریشر اتنا تھا کہ راؤ انوار کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونا پڑا۔“ نہیں! میرے روشن خیال دوست، یہاں آپ کے حافظے نے درست کام نہیں کیا۔ راؤ انوار کراچی میں جعلی پولیس مقابلوں میں دو، اڑھائی سو بے گناہوں کے قتل کا ملز م تھا۔ قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود اور اس کے چند دوست اس کا آخری شکار تھے، جس کے بعد قدرت نے اس کی رسی کھینچ لی۔ اسلام آباد ایئر پورٹ سے بیرونِ ملک فرار ہونے کی اس کی کوشش ناکام رہی تو یہ رو پوش ہو گیا۔ ادھر اسکی گرفتاری کے لیے قبائلی جر گے کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ زیادہ دیر روپوش رہنا ممکن نہ رہا تو اس نے چیف جسٹس کو خط لکھا کہ وہ خود کو سپریم کورٹ کے سپرد کرنا چاہتا ہے۔ پھر وہ جس کروفرکے ساتھ چیف جسٹس کے کمرے میں آیا، وہ بھی ”قابلِ رشک“ تھا۔ اس کی گاڑی اس خاص رستے سے سپریم کورٹ کے احاطے میں آئی جو جج صاحبان کی آمدورفت کے لیے مخصوص ہے۔ ادھر چیف صاحب بار بار پوچھ رہے تھے کہ راؤ صاحب ابھی تشریف نہیں لائے؟ایک بدنامِ زمانہ کے لیے ادب و احترام کا یہ رویہ اس چیف جسٹس کی طرف سے تھا، جو اپنی عدالت میں معزز ین کی توہین کر کے نفسیاتی تسکین حاصل کرتا تھا، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی خاتون وائس چانسلر سے لیکر بزرگ صحافی حسین نقی تک کی عزت جس کی زبان سے محفوظ نہ تھی۔ چیف صاحب کی طرف سے راؤ انوار کو کراچی تک ”حفاظتی ضمانت“ مل گئی۔ جہاں ملیر کینٹ میں، اس کے بنگلے کے ایک حصے کو ”سب جیل“ قرار دے دیا گیا۔ اور دہشت گردی کا ملزم کسی ہیرو کی مانند عدالت میں پیش ہوتا۔ وہ ریٹائرڈ ہو چکا لیکن اس کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات ابھی زیر سماعت ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

چیئر مین نیب اور صحافتی اخلاقیات

مگر ارشاد صاحب کو یہ عارفانہ بات کس نے بتائی؟

عبدالقادر حسن اور۔۔۔’’دونوں بھائی‘‘

حیرت ہے، فارن آفس میں ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں!!

دوکالموں پر ایک نظر

ذوالفقار علی بھٹو ،عمران خان ،نوازشریف اور عثمان بزدار

فاضل کام نگار جس بات پر ثاقب نثار کی تحسین فرما رہے ہیں، وہی بات تو قابلِ مذمت ہے۔ کیا یہ بات کسی جج کے لیے قابلِ فخر ہو سکتی ہے کہ وہ جج کم اور تھانیدار زیادہ ہے؟ دنیا میں انصاف کا مسلمہ اصول ہے کہ کوئی مجرم عدالتی کاروائی میں بچ نکلے، یہ اس سے بہتر کہ کسی بے گناہ کو سزا مل جائے اور یہ بھی کہ ہر شخص معصوم ہے جب تک کہ اس کا گنہ گار ہونا ثابت نہ ہو جائے، لیکن ثاقب نثار کا تصور انصاف تو اس کے بر عکس تھا چنانچہ اس نے سپریم کورٹ کو پاکستانی نیب بنا دیا جہاں ہر شخص مجرم ہے، اس وقت تک کہ وہ اپنا بے گناہ ہونا ثابت نہ کردے۔
حقیقت یہ ہے کہ موصوف نے اپنے رویّوں سے ملک کے سب سے بڑے عدالتی منصب کو بے وقار کیا۔ کیا کسی جج (اور وہ بھی چیف جج) کے شایانِ شان تھا کہ وہ راولپنڈی میں شیخ رشید کے حلقے میں ہسپتالوں کا دورہ کرتا پھرے اور شیخ رشید اس کے پہلو میں ہو۔ وہ اپنے بیٹے کی کنووکیشن کے لیے انگلینڈ جائے اور وہاں ایک سیاسی جماعت کے بینر ز کے نیچے اور اسکے کارکنوں کے شانہ بشانہ چندہ مہم چلائے اور کیا یہ قدرت کا انتقام نہیں کہ موصوف کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس کے جانشین چیف جسٹس نے آتے ہی، اسکے سوؤ موٹو اقدامات ختم کر دیئے۔ ان میں رائیونڈ کے کھوکھر برادران کے خلاف موصوف کے سوؤ موٹو بھی تھے اور پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (PKLI)کے معاملات بھی۔ چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ کے حکم پر کھوکھروں کو تو ریلیف مل گیا، لیکن PKLIتباہی سے نہیں بچ سکا۔۔۔

یہ بھی پڑھیے

”شریفوں کی سیاسی باتیں“

جائز تعریف کے حوالے سے، تنگدلی اور ایسی تنگدلی؟

”صحت“پر ”صحافت“۔ اور ایسی صحافت؟

بے پناہ نفر ت اور بے حساب حسرت اُبل رہی ہے

لیکن یہ نظامی صاحب کا نوائے وقت نہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *