ہاتھ کنگن کو آرسی کیا

اقبال ؒ نے والدہ مرحومہ کی یاد میں ''دعائے نیم شب‘‘ کی بات کی تھی، خورشید ندیم نے وزیر اعظم کی منگل اور بدھ کی درمیانی رات والی نشری تقریر کو ''خطابِ نیم شب‘‘ کا کیا اعلیٰ ادبی عنوان دیا ہے! Contents سے قطع نظر ٹائمنگ اور ٹیکنیکل معاملات بھی ایسے تھے کہ جناب وزیر اعظم کے مداح بھی اس کی وکالت اور وضاحت تو کجا، اس پر اظہار حیرتِ و ناپسندیدگی کئے بغیر نہیں رہے۔ ہمارے شاہ صاحب کا کہنا تھا، تقریر بروقت نہ ہو پائی تھی تو رات بارہ بجے جب اسّی نوے فیصد لوگ خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے تھے، تقریر کرنے کی کیا مجبوری تھی، پھر دوران تقریر تین بار تسلسل کا ٹوٹنا، یوں لگا جیسے وزیر اعظم کی تقریر سنسرشپ کا شکار ہے۔ عمران خان صاحب کے دیرینہ سپورٹر، ایک اور دانشور دوست بھی حیران ہیں کہ تقریر میں ایسا کیا تھا‘ جسے اگلے دن نہیں کہا جا سکتا تھا۔ وہ اپنے چھوٹے صاحبزادے عبداللہ کی مثال دیتے ہیں، جسے رات کے نو بجکر پچپن منٹ پر خیال آجائے کہ سکول کی کلرنگ بک میں رنگ بھرنے ہیں تو وہ دس بمشکل بجنے دے گا، لاکھ سمجھائیں ‘اس کا ذہن مگر اپنی ''تخلیقی آمد‘‘ کے حوالے سے بڑا حساس ہے اور دس میں سے نو مواقع پر وہ ٹھیک دس بجے ڈرائنگ کرتا نظر آئے گا۔ ہمارے دانشور دوست کے بقول، عبداللہ تو صرف ساڑھے پانچ سال کا ہے، کسی بھی بڑے خاص طور پر کسی سیاستدان اور پھر اس سے بھی اگلی سطح پر وزیر اعظم کو اتنا جلد باز نہیں ہونا چاہیے۔
ہمیں ''ٹائمنگ ‘‘ اور ''ٹیکنیکل مسائل‘‘ کے حوالے سے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی دو تقاریر یاد آئیں۔ ان میں سے ایک وہ ''لائیو‘‘ تقریر تھی، جو وزیر اعظم ''ٹیلی پرامپٹر‘‘ پر پڑھ رہے تھے لیکن یہاں صفحات کی ترتیب درست نہیں تھی، اس الٹ پلٹ کی وجہ سے وزیر اعظم کو پریشانی اور ناظرین و سامعین کو حیرانی کا سامنا تھا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نئے نئے پی ٹی وی کے چیئرمین بنے تھے اور پی ٹی وی کے ایک اور افسرِ اعلیٰ، جو پارٹی کیلئے اپنی دیرینہ خدمات کے باعث، چیئرمین شپ کے امیدوار تھے، اپنی ''حق تلفی‘‘ پر خوش نہیں تھے؛ چنانچہ نشری تقریر میں اس شرارت کو شاہد مسعود کے خلاف سازش بھی قرار دیا گیا۔ 
گیلانی صاحب کی ایک اور تقریر جو ''ٹائمنگ‘‘ کے حوالے سے حیرت کا باعث بنی، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے تھی۔ 24 جولائی 2010 کی شب وزیر اعظم ٹی وی سکرینوں پر نمودار ہوئے اور جنرل صاحب کی مدتِ ملازمت میں تین سال کی (فل ٹرم) توسیع کا اعلان کر دیا۔ شیڈول کے مطابق ان کی ریٹائرمنٹ 29 نومبر کو ہونا تھی‘ جس میں چار ماہ پانچ دن باقی تھے۔ لوگ حیران تھے کہ توسیع کے اس اعلان کی اچانک کیا ضرورت آن پڑی تھی کہ اپنی خوش لباسی کے حوالے سے معروف وزیر اعظم کو ''پراپر ڈریس‘‘ کی فرصت بھی نہ ملی اور وہ شلوار قمیض پر واسکٹ کے ساتھ کیمرے کے سامنے آن بیٹھے۔ گیلانی صاحب کی تقریر ساڑھے دس بجے کے قریب تھی (میاں محمد نواز شریف نے اس توسیع کی مخالفت میں باقاعدہ بیان جاری کیا اور کہا کہ فوجی سربراہوں کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی روایت ختم ہونی چاہیے) جنرل کیانی 29 نومبر 2013 تک آرمی چیف رہے۔ اس میں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے پونے چھ ماہ بھی تھے‘ جس میں دونوں کے درمیان بہت اچھی ورکنگ ریلیشن شپ رہی، ''ایکسٹینشن‘‘ کی مخالفت کو جنرل صاحب نے دل کا روگ نہیں بنایا تھا۔ کہا جاتا ہے، آپریشن ضرب عضب میں شاندار کارکردگی پر خود میاں صاحب کے بعض احباب کی طرف سے جنرل راحیل شریف کے لیے ایکسٹینشن کی تجویز آئی تو وزیر اعظم نواز شریف نے یاد دلایا کہ انہوں نے جنرل کیانی کی توسیع کی بھی مخالفت کی تھی۔
وزیر اعظم کے ''خطابِ نیم شب‘‘ میں کوئی خبر، کوئی نئی بات، اعلیٰ اختیارات کے حامل تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا اعلان تھا، جو گزشتہ دس سال میں حاصل کئے گئے قرضوں کا حساب کرے گا کہ کس نے کہاں کہاں، کیسے اور کتنی لوٹ مار کی۔ ان کا اعلان تھا کہ یہ کمیشن ان کے نیچے کام کرے گا۔ اس پر سوال اٹھاکہ آپ کے نیچے کوئی کمیشن، آپ کے سیاسی مخالفین کے خلاف تحقیقات کرے گا تو اس میں انصاف کے تقاضے کیسے پورے ہوں گے؟ تازہ اطلاع کے مطابق ڈاکٹر شعیب سڈل کو کمیشن کا سربراہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے (پولیس کے ریٹائرڈ اعلیٰ افسر، مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں بھی ان کا نام آتا رہا۔ افتخار محمد چودھری کے صاحبزادے ارسلان کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات بھی انہی کے سپرد ہوئی تھیں‘ شعیب سڈل وفاقی ٹیکس محتسب بھی رہے) کمیشن میں دو حساس اداروں کے نمائندے بھی ہوں گے۔ نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس میں عدالت کے حکم پر تشکیل کردہ جے آئی ٹی میں بھی حساس اداروں کے نمائندے شامل تھے۔ تب اس طرح کی خبریں آئی تھیں کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ چاہتے ہیں کہ حساس ادارے اس میں ''انوالو‘‘ نہ ہوں لیکن عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی پابندی لازم تھی۔ اب کی بار ایسی کوئی خبر نہیں آئی۔
ایک سوال یہ بھی کہ وزیر اعظم صاحب یہ کارِ عظیم کرنے چلے ہیں تو اس کا آغاز 1947 سے کیوں نہ ہو کہ یہ بھی معلوم ہو جائے کہ ناکام اور نکمے سیاستدانوں نے قیام پاکستان کے ابتدائی گیارہ برس، نہایت مشکلات کے باوجود بیرونی قرضوں کے بغیر کیسے گزارے بلکہ اس دوران سرپلس بجٹ بھی دیتے رہے۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کا آغاز... 1958 کے (پہلے) ایوبی دور سے ہوا تھا۔ تربیلہ اور منگلا، سندھ طاس معاہدے کا نتیجہ تھے، جس میں پاکستان تین دریائوں (راوی، بیاس اور ستلج) سے دستبرار ہو گیا تھا اور اس دوران ملنے والے اسلحے کا بیشتر حصہ بھی امریکہ بہادر کا عطیہ تھا (1965 کی جنگ میں امریکہ نے جس کے سپیئر پارٹس دینے سے انکار کر دیا تھا) پھر بھٹو صاحب کا عوامی دور تھا، کچھ حساب اس کا بھی ہو جائے۔ جہادِ افغانستان کے دنوں کا حساب کتاب کرنے میں بھی کوئی ہرج نہیں۔ اتنے لمبے چوڑے ادوار کا حساب مشکل ہو تو 1985ء سے شروع ہونے والے نئے سیاسی دور سے ابتدا کر لی جائے (زرداری+ گیلانی دور میں احتساب کے نئے نظام کی بات چلی تو مسلم لیگ (ن) کا موقف تھا کہ آغاز 2008 سے نہیں، 1985 یا 1988 سے ہونا چاہیے) مشرف دور میں ''نان نیٹو اتحادی‘‘ کے طور پر ہونے والی عنایات بھی تو کل کی بات ہے۔ اور یہ بھی کہ تحقیقات ان دس برسوں کی دو وفاقی حکومتوں کے حاصل کردہ قرضوں اور ان کے ا ستعمال کی ہوں گی یا صوبائی حکومتیں بھی اس کے دائرہ کار میں آئیں گی (خیبر پختونخوا میں 2013 سے 2018 تک پی ٹی آئی کی حکومت تھی)
جمعرات کی سہ پہر کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کے بعد شاہد خاقان عباسی سمیت مسلم لیگی رہنمائوں کے چہروں پر یک گونہ اعتماد اور طمانیت کی کیفیت تھی جب وہ وزیر اعظم کے اعلان کردہ تحقیقاتی کمیشن کا خیر مقدم کر رہے تھے۔ وہ خوش تھے کہ اس بہانے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا اور ''چوروں، ڈاکوئوں اور لٹیروں‘‘ پر جناب وزیر اعظم کے الزامات کی حقیقت سامنے آجائے گی۔ شاہد خاقان عباسی ایک ہی سانس میں نواز شریف کے تیسرے دور کے کتنے ہی منصوبوں کا ذکر کر گئے، صرف نیلم جہلم پر 500 ارب روپے، پھر کچھی کینال، تربیلا 4، گوادر پورٹ، بجلی کے کارخانے، گیس پائپ لائنیں، نئی موٹرویز، ضربِ عضب اور پاک افغان سرحد پر باڑ پر اٹھنے والے اخراجات اور اس سب کچھ کے ساتھ اربوں ڈالر قرضوں کی واپسی۔ ہمیں کچھ عرصہ قبل سینیٹ میں وقفۂ سوالات کی خبر یاد آئی۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چودھری تنویر کے سوال پر کہ 2008 کے بعد کس ملک سے کتنا قرض حاصل کیا گیا‘ اور کتنا واپس کیا گیا، وزیر خزانہ اسد عمر نے بتایا تھا کہ ان دس برسوں میں 69.174 بلین ڈالر قرضہ لیا گیا اور 47.8 بلین ڈالر واپس کیا گیا۔ ابھی چند ہفتے پہلے مسلم لیگ ہی کے ایک رکن کے سوال پر پی ٹی آئی کی حکومت کے جواب کے مطابق مسلم لیگ کے 5 برسوں میں تقریباً 30 بلین ڈالر قرضہ واپس کیا گیا۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ 20 سال کے اپنے گوشوارے ویب سائٹ پر ڈال دیئے ہیں، ہم نہیں سمجھتے کہ موجودہ اربابِ حکومت کو بھی اپنے گوشوارے آن لائن کرنے میں کوئی تردد ہو گا، ہاتھ کنگن کو آرسی کیا؟
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *