امریکہ، ایران اور خلیج: آگے کیا ہو سکتا ہے؟

امریکہ کی طرف سے مبینہ طور پر یہ ثبوت مہیا کیے جانے کے بعد کہ جمعرات کو خلیجِ عمان میں تیل کے دو ٹینکروں پر حملوں کا ذمہ دار ایران ہے خلیج میں بحران مزید بڑھ گیا ہے۔

اگرچہ اس واقع کے متعلق ابھی بہت کچھ سامنے آنا باقی ہے، مگر جہاں تک ٹرمپ انتظامیہ کا ماننا ہے، ثبوت بالکل واضح ہے۔

اس سے یقیناً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب کیا ہو گا؟ امریکہ کا ردِ عمل کیا ہو گا؟ بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔

پینٹاگون کی طرف سے جاری کی گئی دانے دار یا مبہم سی ویڈیو میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک چھوٹی سی ایرانی کشتی اس ٹینکر کے ہل سے بارودی سرنگ اتار رہی ہے جو اس وقت تک نہیں پھٹی تھی۔ اس ٹینکر پر جمعرات کو حملہ کیا گیا تھا۔ ابھی تک ایران کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے حوالے سے یہ پہلا ٹھوس ثبوت ہے۔

تاہم سوشل میڈیا کے اس دور میں یہ کہنا مشکل ہے کہ حقیقت کیا اور فسانہ کیا۔

امریکہ اور ایران دو ٹینکروں پر ہونے والے حملوں پر پہلے ہی مکمل طور پر دو متنازع نقطہ نظر دے چکے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ان حملوں کا الزام مکمل طور پر ایران پر عائد کیا ہے۔

انھوں نے کہا ’اس نقطہ نظر کی بنیاد انٹیلیجنس معلومات، ان حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی قسم اور ان کو انجام دینے کے لیے مہارت، ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر حالیہ حملے اور یہ حقیقت کہ اس علاقے میں متحرک کسی پراکسی گروپ کو یہ وسائل دستیاب نہیں کہ وہ اس مہارت سے یہ کام سر انجام دے سکے۔‘

یہ بہت دو ٹوک بیان ہے۔ لیکن پھر بھی انٹیلیجنس معلومات کس نوعیت کی ہیں، ٹینکروں کو کتنا نقصان پہنچا ہے اور اس میں ملوث دوسرے جہازوں کی نقل و حمل کی سیٹلائٹ سے نگرانی کے حوالے سے بہت کم معلومات فراہم کی گئیں ہیں۔

نقشہ

خلیج عُمان میں ٹینکروں کا محل وقوع

کچھ لوگ شاید اس پر بحث کریں گے کہ فیصلے میں جلدی کرنے سے خطرہ ہو سکتا ہے۔

اور یہ واضح ہے کہ اگر امریکہ جواب دینے کا ارادہ رکھتا ہے، خاص طور پر فوج کے ذریعے، تو پھر بہت سے ممالک حتیٰ کہ دوست ممالک بھی ان انٹیلیجنس معلومات کی تفصیل جاننا چاہیں گے جن کی بنیاد پر امریکہ نے ایران کے ساتھ یہ محاذ کھڑا کر رکھا ہے۔

ایران نے جمعرات کو ہونے والے اس واقعے میں کسی بھی طور پر ملوث ہونے سے فوری انکار کیا ہے۔ ایک ایرانی اہلکار نے زور دیا کہ ’کوئی ایران اور بین الاقوامی برادری کے درمیان تعلقات کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔‘

اگر دیکھا جائے تو امریکی بحریہ کی ویڈیو قائل کرنے والی ہے۔ لیکن پھر بھی بہت سے سوالوں کے جواب دینا ضروری ہیں۔ یہ سب پہلے حملے کے بعد میں ریکارڈ کیا گیا۔ جب بقول امریکہ کے ایرانی ثبوت غائب کر رہے تھے۔

لیکن یہ حملے کس طرح ہوئے اس کے متعلق ابھی بہت زیادہ بتایا جانا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر کب یہ بارودی سرنگیں ٹینکروں کے ساتھ لگائی گئیں۔

علاقے میں امریکہ کے پاس معلومات حاصل کرنے کے بہت زیادہ وسائل ہیں اور اس خطے میں اس کی ایک بڑی بحری فوج موجود ہے۔ امریکہ ایک ماہ قبل ہونے والے ٹینکر حملوں کا الزام بھی ایران پر عائد کر چکا ہے۔

مائیک پومپیو نے تفصیلی دلائل دیتے ہوئے زور دیا کہ ’مکمل طور پر دیکھتے ہوئے، یہ بلا اشتعال حملے بین الاقوامی امن اور سیکورٹی کو واضح خطرہ، جہاز رانی پر ایک وحشیانہ حملہ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ناقابل قبول مہم ہیں۔‘

یہ بہت سخت الزامات ہیں اور سوال یہ ہے کہ امریکہ اس بارے میں کیا کرنے کو تیار ہے؟

مائیک پومپیو

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے خلیجِ عُمان میں تیل کے ٹینکروں پر ’بلا اشتعال حملوں‘ کا الزام ایران پر عائد کیا ہے

متفقہ سفارتی کارروائی کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے، بین الاقوامی مذمت اور معاشی پابندیاں لگا کر ایران کو مزید تنہا کیا جا سکتا ہے۔

لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ پابندیوں میں اضافے کی وجہ سے موجودہ صورتحال پیدا ہوئی اور ایران پر دباؤ میں اس قدر اضافہ ہوا کہ ملک میں کچھ عناصر جیسے کہ پاسدران انقلاب نے جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا۔

جس نے بھی ٹینکروں پر حملہ کیا، لیکن کشیدگی واضح طور پر بڑھتی نظر آرہی ہے۔

کیا امریکہ کسی سخت قسم کے فوجی ردعمل کا ارادہ رکھتا ہے؟ اس بارے میں امریکہ کے اتحادیوں کا کیا خیال ہو گا؟ اور فوجی کارروائی کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟

خطرناک دور

اس بات کا قوی خطرہ موجود ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ ہائبرڈ جنگ شروع کر سکتا ہے، یعنی کے براہ راست اور اپنے پراکسیز کے ذریعے۔ جہازوں پر بڑے پیمانے پر حملے ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں اور انشورنس پریئمیم میں اضافہ ہو گا اور شاید سخت جوابی کارروائی کا راستہ بھی ہموار ہو جائے۔

اس مسئلے سے وابستہ تمام فریقوں کے اس خطرے سے متاثر ہونے کا امکان ہے۔ کسی کا بھی یہ خیال نہیں کہ ایران یا امریکہ میں سے کوئی واقعی معاملات کو انتہا پر لے جا کر کھلی جنگ چاہتا ہے۔

فوجی طاقت کے باوجود امریکیوں کے لیے ایران سے جنگ ہر طرح کے خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تمام جنگی بیانات کے باوجود ابھی تک بیرون ملک کوئی بڑی فوجی کارروائی کے لیے رضامندی ظاہر نہیں کی۔ ان کے دور میں شام پر فضائی حملے زیادہ تر علامتی تھے۔

خطرہ یہ ہے کہ ایران صورتِ حال کو غلط طریقے سے سمجھ کر امریکی انتظامیہ میں جنگجو سوچ رکھنے والوں کو ایسی شے نہ دے دے کہ وہ کسی قسم کی کارروائی کا سوچیں۔

خطرہ یہی ہے کہ جنگ سوچ سمجھ کر نہیں بلکہ حادثاتی ہو۔

ایران کے نزدیک امریکہ کا سخت لہجہ اور اقدامات تہران کی حدود میں آ کر اسے ڈرانے کی کوشش ہے جو کہ اس کے لیے ناقابل قبول ہے۔

پاسدارانِ انقلاب

سنہ 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد پاسدارانِ انقلاب کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جس کا مقصد ملک میں اسلامی نظام کی حفاظت کرنا تھا

مثال کے طور پر فرض کریں کہ ایران کے پاسداران انقلاب امریکی کارروائیوں کو غلط سمجھ لیتے ہیں۔ فرض کریں وہ ایسے اقدامات اپنا حق سمجھ لیتے ہیں جو امریکیوں کے لیے ناقابل برداشت ہوں گے؟

دوسرے لفظوں میں وہ امریکی الزامات کو ایران کو جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ ان کو ایسے اقدامات کر کے گمراہ کیا جا رہا ہے جن کو امریکہ اور اس کے اتحادی نظر انداز نہیں کر سکتے۔

یہ بین الااقوامی یا کسی اور تنازعے کی ترکیب ہے۔ یہ خطرناک وقت ہیں۔

امریکہ کے بہت سے اتحادی جیسا کہ فرانس اور جرمنی پہلے ہی احتیاط برتنے پر زور دے رہے ہیں۔

برطانوی دفتر خارجہ کے ایک ترجمان نے بس اتنا کہا کہ برطانوی حکومت ’امریکی نقطہ نظر سے پوری طرح اتفاق کرتا ہے۔‘

ٹرمپ انتظامیہ کو اب مزید احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی اقدام کا گہرا اثر نہ صرف مشرقِ وسطیٰ پر ہو گا بلکہ بڑے پیمانے پر اس کا اثر امریکہ اور اس کے خلیج اور باقی دنیا میں اتحادیوں پر ہو گا جن میں سے اکثر کو اب بھی یہ یقین نہیں کہ امریکی صدر کے عجیب و منفرد سفارتی سٹائل کو کس طرح سمجھا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *