آخری ستون

سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسی اس وقت کڑے وقت کا سامنا کر رہے ہیں۔ کیا اور کیوں ہو رہا ہے یہ سب سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔

جسٹس فائز عیسی نے تین گناہ کیے ہیں۔ وہ کوئٹہ کمیشن رپورٹ کے مصنف تھے جس کا کام 2016 کے کوئٹہ بم دھماکوں کی تحقیقات کرنا تھا۔ انہوں نے اس موقع پر دہشت گردوں اور جہادی تنظیموں کے خلاف نرمی پر سوال اٹھائے۔ پھر انہوں نے نومبر 2017 کے تحریک لبیک کے  فیض آباد دھرنا پر از خود نوٹس لیا  اور اس واقعہ میں خفیہ سول اور ملٹری ایجنسیوں کے کردار پر سخت تنقید کی ، الیکشن کمیشن کو ڈانٹ پلائی  اور پی ٹی آئی اور شیخ رشید اور اعجاز الحق جیسے سیاستدانوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔  پچھلے ماہ انہوں نے لاہور میں سول سوسائٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کیا جسمیں انہوں نے جمہوریت کی اصل حقیقت اور پاکستان کے 1973 کے آئین میں جمہوری نظام کو دئے گئے تحفظ پر بات کی اور بتایا کہ  آئین کے ان نکات کی کیسے بار ہا خلاف ورزی کی گئی ہے۔

ان تمام فیصلوں پر ناراض پارٹیوں نے سپریم کورٹ میں ریویو پٹیشن داخل کیں  اور مطالبہ کیا کہ فیصلہ میں سے جج کے سخت اور تلخ ریمارکس کو نکالا جائے۔ دوسری طرف ان کی شہرت کو نقصان پہنچانے اور انہیں سپریم کورٹ سے نکالنے کے لیے بھی سازشیں شروع کر دی گئیں۔ کچھ بھی ہو، ملی ٹیبلشمنٹ ایسے ججز کو معاف نہیں کرتی جو ان کی کشتی کو ڈگمگانے پر مجبور کر دیں۔ اس کیس میں بھی   معاملہ دو طرح سے سیاسی نوعیت کا لگتا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ  جسٹس فائز عیسی اگلے پانچ سال میں پاکستان کے چیف جسٹس بننے کے لیے لائن میں ہیں۔

لیکن اس معاملے میں کچھ دلچسپ چیزیں ایسی ہیں جو کسی طرح نظر انداز نہیں کی جا سکتیں۔ قاضی فائزعیسیٰ ہی وہ جج تھے جو میمو گیٹ کیس کی سماعت کر رہے تھے جس میں پیپلزپارٹی کے امریکہ میں تعینات سفیر ،حسین حقانی، کو ملی ٹیبلشمنٹ کی طرف سے انگاروں پرچلنے پر مجبور کیا گیا۔اس وقتقاضیفائز عیسی کومحب وطن تصور کیا جاتا تھا لیکن اب تخریبکارسمجھے جا رہے ہیں۔اسی لیے پاکستان کے صدر،عارف علوی نےوزیراعظم،عمرانخان کے مشورےپران کے خلاف مس کنڈکٹ کا ریفرنس دائر کیا ،دونوںکومناسبطریقےسےگائیڈ کیا گیا۔ یہ ریفرنس وزیراعظم کے دو اہم معاونین کی طرف سے تیار کیا گیا جو ایسے معاملات میں ہمیشہ وزیر اعظم کی مدد کرتے ہیں۔ ایک شہزاداکبرتھے جو ایسیٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ ہیں  اور دوسرے فروغ نسیم  جو ملی ٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ وکیل ہیں اور مشرف کے وکیل بھی رہ چکے ہیں۔ آپ کو یہیادہو گا کہ محترم علوی نے 2015 میں جسٹس عیسی کی تعریف میں ٹویٹ کیا تھا اور محترمہ شیرین مزاری نےججکےطورپرانکیآزادانہ اور انصاف پسندانہ سوچ کی تعریف کی تھی۔ ان دونوں شخصیات میں سے اول الذکر نے جسٹس عیسی کے خلاف ریفرنس پر دستخط کیا اور دوسری نے مکمل خاموشی اختیار کر لی۔

چاہے قاضی فائز عیسی کو قانون کے مطابق اپنے بیوی بچوں کے اثاثے ظاہر کرنے چاہیے تھے یا نہیں لیکن اس کے پیچھے جو سیاسی موٹیویشن ہے اس کے وجود کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعظم اور صدر کی طرف سے اس ریفرنس کے پیچھے ان کے ناپاک ارادے، بد نیتی اور مخاصمانہ رویہ ہے۔ صرف یہی حقیقت اس ٹرائیل پر ایک گہری پرچھائی کا باعث بن جائے گی۔ یہ کیس احتساب کے نام سے سپریم کورٹ کے ججوں کو کو ڈرانے اور سپریم کورٹ کو کمزور کرنے کا ایک ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے ہی ن لیگ کے رہنما نواز شریف کو اقامہ کی بنا پر سزا دے کر سپریم کورٹ لاکھوں پارٹی سپورٹرز کی نظر میں اپنا احترام کھو چکی ہے۔ یہ بات اور بھی زیادہ دلچسپ ہے کہ سپریم کورٹ میں ایک دہائی پہلے ایسے جج تھے جوجمہوریت کی بحالی کی تحریک  میں جوکہ فوجی مطلقالعنان  آمر کے خلاف تھیميں پیش پیش رہے۔ اگر وہ دوبارہ اسی طرح کے حلقوں کی طرف سے دباؤ پر جھک جاتے ہیں تو وہپاکستانکے لوگوںکیتاریخمیں اپنے ضمیر کی اجتماعی موت کے مسودے پر دستخطکریں گے۔ مرکزی دھارے میں شامل جماعتوں کے محاصرے اور میڈیا کے مالکان کو دبا لینے کے بعد، سپریم کورٹ ہی واحد جمہوری ستون بچا ہے۔ اس وقت تک یہ چہ مہگوئیاں سنی جا سکتی ہیں کہ اگلے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد بھی انہی قوتوں کی ہاوسنگ سوسائیٹیز کے خلاف جارحانہ بیانات دینے پر نشانے پر آ چکے ہیں۔

سپریم کورٹ کے باہر احتجاجی تحریک کو اس لیے کمزور نہیں سمجھا جا سکتا کہ دو مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں، پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ اپنے قائدین کی اسیری کی وجہ سے مشکل میں ہیں۔

سول سوسا‏‏ئٹی اور وکلاء ملک بھر میں ذاتی طور پر قاضی فائز عیسی  سے یکجہتی کے لیے، عدلیہ کی آزادی اور ملی ٹیبلشمنٹ کے سیاست میں مداخلت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ کراچی میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے احتجاجا استعفی دے دیا ہے؛قومی اور صوبائی بار ایسوسی ایشنز نے اس طرح کی سازشوں کی مزاحمت کے لئے عزم کا اظہار کیا ہے؛ممتاز وکلاء، ریٹائرڈ ججوں اور آزاد میڈیا بھی بول رہے ہیں۔ سینسرشیپ اور بلیک میلنگ کی دھمکیوں کے باوجود ہلکی پھلکیمزاحمت ہر جگہ ہے-

پیمرا  سختی سے کوشش کر رہا ہے کہ میڈیا کو مخالف آراء اور حقائق نشر کرنے سے باز رکھے۔ چاہے کچھ بھی ہو جاۓسچ باہر آئے گا اور عدلیہ پر یہ حملہ ناکام ہو جائے گا۔ کٹھ پتلی بناے والے اور ان کی سلیکٹڈ حکومت اس دن پچھتائیں گے جب ان کی ہٹ دھرمی اور خود پسندی ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی  جیسا کہ جنرل مشرف کو بلآخر پچھتانا پڑا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *