جعلی اکاؤنٹس کیس: فریال تالپور 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جعلی بینک اکاؤنٹ کیس میں گرفتار پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما فریال تالپور کو 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے کردیا

نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار فریال تالپور کو احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کے روبرو پیش کیا تھا اور پی پی پی کی رہنما کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔

نیب کے پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا تھا کہ فریال تالپور زرداری گروپ کی ڈائریکٹر ہیں، ہائیکورٹ سے ضمانت مسترد ہونے پر نیب نے فریال تالپور کو گذشتہ روز گرفتار کیا۔

فریال تالپور کو احتساب عدالت منتقل کیا جارہا ہے

فریال تالپور کو احتساب عدالت منتقل کیا جارہا ہے 

انہوں نے مزید بتایا کہ فریال تالپور کو ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کیا گیا تھا، جعلی اکاؤنٹس ریفرنس میں فریال تالپور کا مرکزی کردار ہے۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ زرداری گروپ کے اکاؤنٹ سے 3 کروڑ روپے کی رقم اویس مظفر کے اکاؤنٹ میں بھی منتقل ہوئی اور یہ رقم فریال تالپور کے دستخط سے اویس مظفر کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی تھی۔

انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزمہ فریال تالپور پر کرپشن کا الزام ہے، عدالت ان کا ریمانڈ منظور کرے۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ فریال تالپور نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر غیرقانونی رقم کو لانڈر کیا، ملزمہ فریال تالپور پر کرپشن کا الزام ہے، جس پر عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ فریال تالپور کسی عوامی عہدے پر بھی ہیں؟

ملزمہ کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ فریال تالپور موجودہ رکن صوبائی اسمبلی، سابق رکن قومی اسمبلی اور میئر رہی ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ زرداری گروپ کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز ہوئیں جبکہ گروپ کا اکاؤنٹ فریال تالپور آپریٹ کرتی ہیں، انہوں ںے بتایا کہ زرداری گروپ کے اکاؤنٹ میں جعلی بینک اکاؤنٹس سے رقوم آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کے تفتیشی افسر کے ساتھ 2 خاتون افسران کو ان کے گھر پر تعینات کیا گیا ہے، جسے گذشتہ روز سب جیل قرار دیا گیا تھا، خاتون افسران میں ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب ارفع بی بی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ارشم بشارت شامل ہیں۔

ملزمہ کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے فریال تالپور کو آن کے گھر میں نظر بند کیا ہے، عدالت حکم دے کہ نیب تفتیش کے لیے پہلے اس عدالت سے اجازت لے۔

اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے سب جیل میں نیب افسران کا ڈیوٹی روسٹر عدالت میں پیش کیا، عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمان کو ریفرنس کی کاپیاں فراہم کر دی گئی ہیں، جس پر تفتشی افسر نے بتایا کہ جی ریفرنس کی کاپیاں جمع کروا دی ہیں۔

ملزمہ کے وکیل نے بتایا کہ انہیں تاحال ریفرنس کی کاپیاں نہیں ملیں جبکہ تفتیشی افسر نے بتایا کہ کاپیاں رجسٹرار آفس میں جمع کروائی ہیں۔

جس پر عدالت نے حکم دیا کہ پیر کے روز ہر صورت ریفرنس کی کاپیاں ان کی میز پر ہونی چاہیے۔

بعد ازاں عدالت نے نیب کی جانب سے فریال تالپور کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے پی پی پی کی رہنما کو 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا، انہیں 24 جون کو عدالت میں دوبارہ پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ اس موقع پر احتساب عدالت کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

فریال تالپور کو احتساب عدالت لے جانے کے لیے خصوصی سیکیورٹی اسکواڈ ان کی رہائش گاہ، جسے گذشتہ روز سب جیل قرار دیا گیا تھا، پہنچا تھا۔

اس سے قبل پیپلز پارٹی کے رہنما، فریال تالپور کی رہائش گاہ کے باہر پہنچے تھے، جن میں شگفتہ جمانی، مہرین بھٹو، سینیٹر کرشنا، رمیش لعل، فرحت اللہ بابر اور دیگر شامل تھے۔

سیکیورٹی اسکواڈ میں بکتر بند گاڑی بھی شامل تھی، فریال تالپور کو سخت سیکیورٹی میں احتساب عدالت منتقل کیا گیا تھا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پی پی پی کی رہنما فریال تالپور کا کہنا تھا کہ نیب کی گرفتاریاں سیاسی ہیں، میں نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردیا ہے۔

فریال تالپور کی گرفتاری

گذشتہ روز نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار شریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) آصف علی زرداری کی بہن اور رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور کو بھی گرفتار کرلیا تھا۔

ترجمان نیب کے مطابق بیورو نے گذشتہ روز ہی فریال تالپور کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

ذرائع کے مطابق فریال تالپور کو ان ایف ایٹ سیکٹر میں قائم زرداری ہاؤس میں ہی نظر بند رکھا گیا جبکہ اسے ذیلی جیل بھی قرار دے دیا گیا۔

اس حوالے سے نیب کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بھی ان کو گھر میں نظر بند کرنے کی منظوری دے دی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق نیب کی 5 رکنی ٹیم جس میں ایک خاتون رکن بھی شامل تھی، اسلام آباد میں فریال تالپور کے گھر پہنچی اور انہیں باقاعدہ حراست میں لینے کے بعد انہیں ان کے گھر میں ہی نظر بند کردیا۔

نیب کی خواتین اہلکار ان سے جعلی اکاؤنٹس کیس میں تفتیش کریں گی جبکہ کہا جارہا ہے کہ اس کیس میں ایسے شواہد موجود ہیں جن کا براہ راست تعلق ان ہی سے ہے۔

واضح رہے کہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں نیب نے درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد آصف علی زرداری کو 10 جون کو گرفتار کرلیا تھا۔

فریال تالپور بھی اسی کیس میں نامزد تھیں، تاہم ان کے وارنٹ گرفتاری جاری نہ ہونے کی وجہ سے انہیں گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔

کیس کا پس منظر

2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔

اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔

بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔

تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔

بعدازاں نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سیکریٹری آفتاب میمن، شبیر بمباٹ، حسن میمن اور جبار میمن کو گرفتار کر کے 14 روزہ ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا، ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ان ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا۔

اس سلسلے میں 20 مارچ کو آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے پارک لین اسٹیٹ کرپشن کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیانات قلم بند کرائے تھے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے۔

15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی اور ساتھ ہی آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور و دیگر ملزمان کی ضمانتیں واپس لیتے ہوئے زر ضمانت خارج کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

جس کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے اس کیس میں نامزد آٹھوں ملزمان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 8 اپریل تک ملتوی کی تھی اور 9 اپریل کو احتساب عدالت نے باقاعدہ طور پر جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کا آغاز کیا۔

احتساب عدالت کے رجسڑار نے بینکنگ کورٹ سے منتقل کئے جانے والے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد اسے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کی عدالت میں منتقل کیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *