بجٹ کی سیاسی معیشت

پی ٹی آئی حکومت نے ایک سخت بجٹ پیش کر دی ہے۔ ایف بی آر نے اگلے 12 سال میں جی ڈی پی گروتھ کی 3.3 فیصد سے 2.4 فیصد تک کمی کے باوجود 40 فیصد اضافی ٹیکس جمع کرنے کاعزم ظاہر کیا ہے ۔ ہر معروف ماہر معیشت کا ماننا ہے کہ یہ ایک غیر حقیقی بجٹ ہے  اور ہمیں سال کے دوران کئی بار منی بجٹ کا  بھی سامنا ہو گا جب حکومت آئی ایم ایف کے طے کردہ اہداف کے  حصول میں ناکام ہو گی  اور اسے عوام کو مزید ایسی ہی (ٹیکس میں اضافہ کی)گولیاں کھلانا پڑیں گی۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کیسے ممکن ہے کہ معیشت کو استحکام بخشا جا سکے جب مالی خسارہ  ٹارگٹ میں 7.2 فیصد ہو لیکن ریوینیو ٹارگٹ حاصل نہ ہونے کی صورت میں  اس میں 9 فیصد تک پہنچ رہا ہو ؟

فنانس منسٹر حفیظ شیخ نے دعوی کیا ہے کہ نیا بجٹ امیروں کے خلاف اور غریبوں کی حمایت میں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امیروں کے لیے اس بجٹ میں اچکنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ نان ٹیکس فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے مختلف طریقے اپنائے جائیں گے ۔ پراپرٹی  میں پیسہ لگانے والے کیپیٹل گینز ٹیکس ادا کریں گے ۔ پراپرٹی کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر پر ٹیکس کی رقم میں اضافہ کیا جائے گا  اور انکم ٹیکس میں بھی واضح اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ رینٹل انکم ٹیکس دوسرے ذرائع آمدن کے مقابلے میں زیادہ ہو گا۔ 5 ملین سے زیادہ غیر ملک سے آنے والی آمدنی پر سوال و جواب ہو گا ۔ جو لوگ غیر ملکی اثاثے ڈیکلیر نہیں کریں گے انہیں سات سال تک جیل بھگتنی پڑے گی اور بڑے بڑے جرمانے بھی ادا کرنا ہوں گے۔ خاندان کے علاوہ افراد سے تحائف کو بھی انکم قرار دے کر اس پر ٹیکس لگے گا۔  ٹیکس بچانے کے لیے غیر ملک میں رہائش کی شرائط   میں شامل عرصہ بھی 6 ماہ سے 9 ماہ کر دیا گیا ہے۔ سپر امیر لوگوں کو اپنی انکم سے 35 فیصد ٹیکسز کی صورت میں ادا کرنا ہو گا، وغیرہ وغیرہ۔ اس سب کچھ میں سے ایک چیز جو غائب ہے وہ ڈیتھ ڈیوٹی اور وراثت پر ٹیکس کا معاملہ ہے۔ یہ دونوں چیزیں  امیر ممالک میں دولت کی تقسیم کے اہم فیکٹرز ہیں لیکن پاکستان میں انہیں اہمیت نہیں دی جاتی۔ اسی طرح کارپوریٹ ٹیکس ریٹ بھی کم رکھے گئے ہیں  2015 کے 33 فیصد کے مقابلے میں پچھلے سال اور اب 29 فیصد تک آ گئے ہیں۔

لیکن اس چھڑی کا سب سے تیز وار صرف غریبوں پر پڑا ہے۔ انکم ٹیکس سٹرکچر کا بوجھ سیلری پر کام کرنے والے لوئر مڈل کلاس والے لوگوں پر پڑا ہے جیسا کہ تمام معروف معاشی ماہرین نے اعتراف کیا ہے۔ 30 ہزار سے 50 ہزار تنخواہ والے لوگوں کو سال میں 2 تنخواہوں کے برابر قسم ٹیکس کی صورت میں دینا ہو گی ۔ حال ہی میں ہونے والی 25 فیصد ڈیویلیوایشن   اور  کھانے کے تیل، دال، چائے اور دوسری گھر میں استعمال ہونے والی اشیا پر بڑھتی ہوئی امپورٹ ڈیوٹیز  ، اور مہنگائی میں 15 فیصد اضافہ  امیر طبقہ سے زیادہ غریب طبقہ کو متاثر کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ 2400 سے زائد ٹیرف لائنز میں اضافہ کیا جا رہ اہے  جن میں سے کچھ نچلی اور مڈل کلاس فیملیز پر اپنا اثر چھوڑیں گے۔ اسی طرح سیمنٹ، چینی، جوس، پانی وغیرہ جیسی اشیا پر ٹیکس میں اضافہ  بھی مڈل کلاس پر بہت بری طرح اثر انداز ہو گا۔ ہر چیز پر ریٹیل پرائس میں بھی ٹیکس بڑھا دئیے گئے ہیں۔

دوسرے معاملات میں بھی کئی چیزیں  تکلیف دہ ہیں۔ پی ایس ڈی پی فریز ہو چکی ہے اور سی پیک کے لیے بجٹ میں شامل  اشیا میں 40 فیصد  کمی کی گئی ہے۔ یہ دونوں چیزیں روزگار اور معاشی ترقی کے لیے  بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ حکومت کو 2 بڑے مسائل کا سامنا ہے  ایک ڈیبٹ سروسنگ اور دوسرا دفاعی بجٹ۔ اول الذکر ٹوٹل ریونیو کا 50 فیصد مانگتا ہے جب کہ دوسرے پر 34 فیصد ریونیو  ثانی الذکر پر لگے گا۔ ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ ڈیفنس بجٹ میں کمی لائی جا رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسمیں 11 فیصد اضافہ تجویز کر کے پچھلے سال کے 1694 ٹریلین کے مقابلے میں رواں سال 1882 ارب کر دیا گیا ہے۔ لیکن اس کی ایک وجہ پچھلے سال بھارت کے ساتھ ٹینشن کے دوران زیادہ اخراجات ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت اعتماد نہیں دے پا رہی۔ اس نے آخری بارہ مہینوں میں اہم اہداف مس کر دیے۔25 فیصد ڈی ویلیو ایشن کے باوجود، برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے.بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کا 6.8 فیصد تک اضافے کا ہدف مقرر تھا لیکن یہ 2.9 فیصد تک گر گیا؛ زرعی ترقی میں 3.8 فیصد اضافہ مقرر تھا لیکن گر کر 0.8 فیصد پر پہنچ گیا۔ آئی ایم ایف پروگرام بھی نو مہینوں سے تاخیر کا شکار تھے۔ ایک سال تک ایمنسٹی سکیم کو برا بھلا کہہ کر اس پر یوٹرن لیا گیا اور وزیر اعظم عمران خان کی بار ہا ترغیب کے باوجود اس سے کچھ زیادہ حاصل نہیں ہوا۔

  ‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏حال ہی میں آدھی رات کو عمران خان نے تقریر میں پچھلے 10 سال میں قرضے بڑھانے والوں کے پیچھے جانے کا  دبنگ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسی ٹاسک فورس بنانے جا رہے ہیں  جو ان قرضوں کے بارے میں پالیسی سازوں کا تعین کرے۔لیکن معاشی اور مالی ماہرین کے بر عکس اس ٹاسک فورس  میں سول ملٹری انٹیلیجنس  اور کریمنل انویسٹی گیشن ایجنسیوں کے علاوہ ٹیکس وصولی کرنے والے اداروں کے حکام شریک ہوں گے۔ ان کی نیت واضح ہے۔ وہ پی پی اور ن لیگ حکومتوں  پر شکنجہ سخت کر کے پی ٹی آئی حکومتوں کے  اپنے مسائل  سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔

ملی ٹیبلشمنٹ کی سیاسی معاشی ماڈل  میں ریاستی جبر، میڈیا پر پابندیاں، عدالتی مداخلت، زبردستی  رقوم کے حصول اور جائیداد چھین لینے جیسے عوامل شامل ہیں جیسا کہ ترکی اور مصر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان دونوں ممالک میں آٹو کریٹک حکومتیں ہیں  جنہیں غیر ملکی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس کے باوجود ان ممالک میں سیاسی عدم اطمینان اور مہنگائی  کی بھر مار ہے۔ لیکن پاکستان میں عدم مساوات، گروہ بندی، علاقائی تنازعات، غیر ممالک سے تناو، مزاحمتی سیاسی سٹرکچر اور سول ڈیموکریٹک ٹراڈیشنز جیسے مسائل درپیش ہیں اس لیے  یہ ماڈل یہاں کسی طرح بھی سود مند ثابت نہیں ہو گا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *