عدالتی تعطیلات: کیا ججوں کا گرمیوں کی چھٹیوں پر جانا پاکستانی عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات میں اضافے کا باعث ہے؟

گرمیوں کی چھٹیوں کا سن کر ذہن میں فوراً تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما میں ہونے والی تعطیلات یاد آتی ہیں اور ان چھٹیوں کے قریب آتے ہی بچے خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔

طالب علموں کے علاوہ پاکستان میں ایک اور طبقہ، عدالتیں، ان سے منسلک جج صاحبان اور عملہ، بھی ان چھٹیوں سے ملنے والی خوشی کو بخوبی سمجھ سکتا ہے کیونکہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران لاکھوں مقدمات کے بوجھ تلے دبی پاکستانی عدلیہ کے ججز بھی رخصت پر چلے جاتے ہیں۔

پاکستان میں لگ بھگ ڈھائی ماہ تک چھوٹی بڑی تمام عدالتیں گرمیوں کی چھٹیوں کے باعث بند پڑی رہتی ہیں۔ عدالتوں سے منسلک سرکاری ملازمین کو حاصل یہ ’سہولت‘ ملک میں کسی دوسرے سرکاری ادارے کو حاصل نہیں ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی لاکھوں کیسز سالہا سال سے فیصلے کے منتظر ہیں وہاں ججوں کے تعطیلات پر ہونے کی وجہ ہزاروں سائلین کو مزید پریشانی اٹھانا پڑتی ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ مقدمات کا فیصلہ ’99 سال‘ بعد تو دیگر مقدمات میں انصاف کی خواہش لیے سائلین زندگی کی بازی ہی ہار جاتے ہیں اور مقدمات نسل در نسل منتقل ہوتے جاتے ہیں۔

کتنی چھٹیاں ہیں، کب سے کب تک؟

ایڈووکیٹ یاسر لطیف ہمدانی کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں عدلیہ کی ڈھائی ماہ چھٹیاں ہوتی ہیں اور اس دوران اگر عدالتوں میں انتہائی ضروری نوعیت کے کیسز آئیں تو چھٹیوں میں مقدمات ڈیوٹی ججز سنتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عدالتیں اپنی آسانی کو مدِنظر رکھ کرتاریخوں کا تعین کر لیتی ہیں۔

یاسر ہمدانی عدلیہ میں ہونے والی گرمیوں کی ان چھٹیوں کو ’غلامانہ ذہنیت کا عکاس‘ قرار دیتے ہیں۔

انگریز

عمومی طور پر انگریز جج موسمِ گرما میں برصغیر سے واپس برطانیہ چلے جاتے تھے یا پھر کسی پرفزا پہاڑی مقام پر اپنا ڈیرہ لگاتے

چھٹیوں کی ابتدا کیسے ہوئی؟

عدالتی چھٹیوں کی روایت کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قیام سے قبل یہاں موجود برطانوی حکام نے اس خطے میں گرم ترین مہینوں میں موسم کی سختی سے بچنے اور اپنی سہولت کے لیے گرمیوں کی چھٹیوں کا شیڈول بنایا تھا۔

عمومی طور پر انگریز جج موسمِ گرما میں برصغیر سے واپس برطانیہ چلے جاتے تھے یا پھر کسی پرفزا پہاڑی مقام پر اپنا ڈیرہ لگاتے۔

گورے جج تو چلے گئے مگر اپنی یہ روایت پاکستانی عدلیہ کے لیے ترکے میں چھوڑ گئے۔ ان کے جانے کے تقریباً 70 سال بعد بھی برصغیر کے دونوں بڑے ممالک انڈیا اور پاکستان آج بھی اس روایت پر عمل پیرا ہیں۔

ان دونوں ممالک کی عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک میں روایت کیا ہے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لندن میں مقیم ایک وکیل مزمل مختار کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں سرکاری عام تعطیلات کے علاوہ چھٹیوں (یا گرمی کی چھٹیوں) کا کوئی تصور سرے سے موجود نہیں ہے۔

’ہر سرکاری ملازم کی طرح جج کی بھی سالانہ چھٹیاں ضرور ہوتی ہیں لیکن عدلیہ کا پورا ادارہ مخصوص دنوں یا مہینوں کے لیے چھٹیوں پر نہیں جاتا۔ عام تعطیلات کے دنوں میں ڈیوٹی ججز دستیاب ہوتے ہیں۔ گرمیوں یا سردیوں کے موسم میں ججوں کے چھٹیوں پر چلے جانے کی روایت پورے یورپ میں کہیں بھی دیکھنے کو نہیں ملتی۔'

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں عدالتیں آٹھ گھنٹے کام کرتی ہیں جبکہ رات کے اوقات میں بھی ڈیوٹی ججز دستیاب ہوتے ہیں۔

ایڈووکیٹ یاسر لطیف ہمدانی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی عدلیہ میں بھی اس طرح کی کوئی روایت نہیں ہے۔

یاسر ہمدانی کہتے ہیں کہ ’یہ روایت صرف برصغیر تک ہی محدود ہے۔‘

چھٹیاں کتنی ضروری ہیں؟

سالانہ چھٹیوں کی حمایت کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید کا کہنا تھا ججوں کا کام بہت سٹریس والا ہوتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ناصرہ جاوید نے کہا ہے کہ ہر محکمے میں سالانہ چھٹیاں ملتی ہیں تو پھر جج کسی دوسرے سیارے سے تو نہیں آئے۔

انھوں نے بتایا کہ ججوں کے لیے آج بھی پرفزا مقامات پر ریسٹ ہاوسز قائم ہیں جہاں جا کر وہ گرمیوں کی چھٹیاں گزار سکتے ہیں۔

پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر لاہور ہائی کورٹ میں جج کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے اور اس بوجھ کو سمیٹنے کے لیے اب عدالتوں کو 24 گھنٹے کام کرنا چاہیے۔

ب

عرفان قادر کہتے ہیں کہ عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے اور اس بوجھ کو سمیٹنے کے لیے اب عدالتوں کو 24 گھنٹے کام کرنا چاہیے

ان کا کہنا تھا کہ ’ججز کی تعداد بڑھا کر شام کو بھی عدالتیں لگائی جانی چائیں۔‘

ناصرہ جاوید کے خیال میں زیر التوا مقدمات کا ججز کی چھٹیوں سے کوئی تعلق نہیں۔

’ہمارا عدالتی نظام حریفانہ بنیادوں پر کام کرتا ہے، ججز پرطرح طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں، انھیں بہت تنقید کا سامنا ہوتا ہے۔ اب ججز کے پاس بھی سمارٹ فونز ہوتے ہیں وہ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔‘

عرفان قادر کا کہنا ہے کہ انگریز دور میں جب ججز گرمیوں کی چھٹیاں کرتے تھے تو اس وقت زیرِ التوا مقدمات کی اس قدر بھرمار بھی نہیں تھی۔

’جج چھٹیاں ضرور کریں مگر زیرِ التوا مقدمات پر بھی کوئی حکمتِ عملی بننی چاہیے۔'

ناصرہ جاوید اس موقف سے اختلاف کرتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جج اہم مقدمات کی نوعیت کو مدِنظر رکھتے ہیں اور چھٹیاں اس ترتیب سے کی جاتی ہیں کہ آدھی عدالت ہرصورت دستیاب رہے۔

عرفان قادر کہتے ہیں کہ انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے حوالے سے پارلیمنٹ میں بھی سنجیدہ نوعیت کی قانون سازی نہیں ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور صرف کانفرنسز سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

عدلیہ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد

وزارتِ قانون کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کُل زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 18 لاکھ ہے۔

صرف سپریم کورٹ میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد تقریباً 40 ہزار ہے جبکہ ججوں کی کل تعداد 17 ہے۔

اس کے علاوہ ملک کی پانچ ہائی کورٹس کو ابھی تین لاکھ 45 ہزار سے زائد زیرِ التوا مقدمات کا پہاڑ سر کرنا ہے اور باقی پانچوں ہائی کورٹس میں ججز کی کل تعداد 111 بنتی ہے۔

ان عدالتوں میں سب سے زیادہ ججز پنجاب ہائی کورٹ میں ہیں جہاں ججز کی تعداد 46 بنتی ہے جبکہ کل زیر التوا مقدمات کی تعداد تقریبا 125000 بنتی ہے۔ یہاں پر بھی سپریم کورٹ کی طرح ہر جج کے حصے میں دو ہزار سے زائد مقدمات آتے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 83 ہزار بنتی ہے جبکہ ججز کی کل تعداد 36 ہے، اس طرح ہر جج کے حصے میں دو ہزار سے زائد مقدمات آتے ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ کو تقریبا 26 ہزار مقدمات نمٹانے ہیں جبکہ عدالت میں ججز کی کل تعداد 16 ہے، یوں ہرجج کے حصے میں 15 سو سے زائد مقدمات آتے ہیں۔

بلوچستان ہائی کورٹ میں ججز کی کل تعداد نو ہے جبکہ زیرِ التوا مقدمات کی تعداد تقریبا چھ ہزار بنتی ہے۔ یہاں ہر جج کے حصے میں تقریبا 700 مقدمات آتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چار ججز کو 15 ہزار کے قریب مقدمات نمٹانے ہیں، اس طرح ہر جج کے حصے میں تقریبا 4 ہزار مقدمات آتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *