نواز،مودی تعلقات.... ساڑھے تین سال بعدایک ”انکشاف“


نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

نواز،مودی تعلقات
ساڑھے تین سال بعدایک ”انکشاف“

خامہ بدست کے قلم سے
روز نامہ 92نیوز میں جناب عارف نظامی ”بھارت سے تعلقات کی توقعات“ کے زیرِ عنوان لکھتے ہیں: حکمرانوں کو واثق امید تھی کہ بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کی سائڈ لائن پر وزیر اعظم عمران خان کی نریندر مودی کے ساتھ غیر رسمی ملاقات ہو جائے گی لیکن یہ توقعات نقش بر آب ثابت ہوئیں۔ نہ جانے کیوں خان صاحب اور ان کی جماعت جو نواز شریف کے خلاف یہ نعرے لگاتے نہیں تھکتی تھی کہ ”مودی کا جو یار ہے وہ غدار ہے“ لیکن اقتدار میں آتے ہی ان کا پینترا بدل گیا۔ نہ جانے کیوں خان صاحب بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں وہی غلطیاں دہرا رہے ہیں جو ان کے پیشرو میاں نواز شریف نے کی تھیں۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے میاں نواز شریف کا رویہ یہ رہا کہ وہ پاکستان سمیت خطے کی تعمیر و ترقی کے لیے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے خواہاں تھے، لیکن اس کے لیے پاکستان کے کسی معمولی سے قومی مفادکو بھی نظر انداز کرنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوئے۔ مسئلہ کشمیر پر وہ ہمیشہ پاکستان کے اصولی مؤقف پر اصرار کرتے رہے۔ تیسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد ستمبر 2013میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کشمیر کے حوالے سے بھارت کی بے اصولیوں کا کھل کر ذکر کیا۔ انہوں نے کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالی کا بھی ذکر کیا اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد کے لیے عالمی برادری کو اسکی ذمہ داریوں کی طرف بھی متوجہ کیا۔ جس پر بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ وزیر اعظم پاکستان کی اگلے روز چائے پر ملاقات خطرے میں پڑ گئی۔ اس سے قبل اپنے دوسرے دور میں انہوں نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں دھماکے کرنے سے گریز نہ کیا اور اس حوالے سے کسی قسم کے دباؤ کو خاطر میں نہ لائے۔ عارف نظامی لکھتے ہیں،

یہ بھی پڑھیے

چیئر مین نیب اور صحافتی اخلاقیات

مگر ارشاد صاحب کو یہ عارفانہ بات کس نے بتائی؟

عبدالقادر حسن اور۔۔۔’’دونوں بھائی‘‘

حیرت ہے، فارن آفس میں ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں!!

دوکالموں پر ایک نظر

ذوالفقار علی بھٹو ،عمران خان ،نوازشریف اور عثمان بزدار

نریندر مودی نے مئی 2014میں میاں نواز شریف کو بڑے طمطراق سے اپنی تقریب حلف وفاداری میں شرکت کی دعوت دی جس پر میاں صاحب بھاگم بھاگ نئی دہلی پہنچے۔مودی نے دنیا کو اپنی امن پسندی کا تاثر دینے کے لیے سارک تنظیم کے تمام سربراہوں کو دعوت دی تھی، تو کیا وزیر اعظم پاکستان کو منہ بسور کر گھر بیٹھے رہنا چاہیے؟ جبکہ تمام دیگر ممالک کے سربراہ اس میں شریک ہونے جا رہے تھے۔ یہ ”بھاگم بھاگ“ والی بات بھی دلچسپ ہے، فاضل کالم نگار کے خیال میں میاں صاحب کو کس رفتار کے ساتھ لاہور سے دہلی کا سفر کرنا چاہئے تھا کہ یہ ”بھاگم بھاگ“ نہ ہوتا۔ فاضل کالم نگار مزید لکھتے ہیں: میاں نواز شریف کہاں نچلے بیٹھنے والے تھے۔ اپنی نواسی مہرالنساء کی شادی کے موقع پر 25دسمبر 2015کو جوان کی سالگرہ کا دن بھی ہے، کابل میں موجود نریندر مودی کو سٹیل ٹائیکون سجن جندل کی وساطت سے فون کھڑکا دیا کہ وہ نئی دہلی واپس جاتے ہوئے لاہور سے ہوتے جائیں۔ اس واقعہ کو ابھی صرف ساڑھے تین سال ہوئے ہیں۔ اس وقت خود فاضل کالم نگار کے اپنے اخبار سمیت سارے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں جو خبریں شائع ہوئیں، ان کے مطابق کابل سے دہلی جاتے ہوئے مودی کا لاہو ر میں سٹاپ اووراور جاتی امرا جا کر مہر النسا کی شادی (اور میاں صاحب کی سالگرہ) میں شرکت مودی کا اپنا فیصلہ تھا۔ ”میزبانوں“کے لیے بھی یہ ایک ”سرپرائز“ تھا جس پر خود انڈین میڈیا نے بھی اپنے وزیر اعظم کے خوب لتے لیے کہ اس نے دعوت کے بغیر لاہور میں رک کر اور وزیر اعظم پاکستان کی نجی تقریب میں شرکت کر کے انڈیا کو بے وقار کیا ہے۔ فاضل کالم نگار کے بقول نریندر مودی نے یہ انکشاف اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کیا ہے کہ ان کی لاہور جانے کی کوئی نیت نہیں تھی اور نہ ہی اسکی تیاری لیکن وہ پھر بھی نوز شریف کی دعوت قبول کرتے ہوئے چند گھنٹوں کے لیے لاہور پہنچ گئے۔سوال یہ ہے کہ مودی نے یہ انکشاف ساڑھے تین سال بعد کیوں کیا؟یہ بات انہوں نے اس وقت کیوں نہ کی جب انڈین میڈیا اپنے وزیر اعظم پر لعنت ملامت کر رہا تھا کہ اس نے دعوت کے بغیر لاہور میں وزیر اعظم پاکستان کی تقریب میں شرکت کر کے انڈیا کی ناک کٹوا دی ہے۔ اور یہ بھی کہ نواز شریف کا کابل میں موجود مودی کو فون کرنا اور جاتی امرا کی تقریب میں شرکت کی دعوت دینا، اتنی بڑی ”خبر“ تھی، جو دنیا بھر کے میڈیا پر بریکنگ نیوز ہوتی۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہ تھا۔

یہ بھی پڑھیے

”شریفوں کی سیاسی باتیں“

جائز تعریف کے حوالے سے، تنگدلی اور ایسی تنگدلی؟

”صحت“پر ”صحافت“۔ اور ایسی صحافت؟

بے پناہ نفر ت اور بے حساب حسرت اُبل رہی ہے

لیکن یہ نظامی صاحب کا نوائے وقت نہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *