قرضے کی تحقیقات

کوئی جائے اور میرے ایماندار وزیراعظم کو بتائے ۔ دس سال کے قرضوں پر کمیشن بٹھانے کی بجائے محکمہ خزانہ اور ایف بی آر سے پچھلے ستر سالوں کے قرضوں اور امداد کا ڈیٹا نکلوا لے۔ اور دیکھ لے رقم کتنی آئی اور کہاں گئی۔ اس میں امریکی امداد کے 78 ارب ڈالر ( 1948 تا 2017 ) ، اس میں سرد جنگ کے 15 ارب ڈالر ، پہلی افغان جنگ کے 17 ارب ڈالر ، مشرف حکومت کو کولیشن سپورٹ کے تحت ملنے والے 33 ارب ڈالر ، کیری لوگر بل کے 7.5 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ضرب عضب ، آپریشن رد الفساد ، آپریشن راہ نجات ، آپریشن خیبر پر ہونے والے خرچے الگ سے ہیں۔ جو دفاعی بجٹ سے مبرا ہیں۔ یاد رہے۔ ہمارا ملک یہ دعوی کرتا ہے۔ کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اٹھنے والے 100 ارب ڈالر سے زائد کے خرچے کیے ہیں۔ جنگی طیارے ، آبدوزیں ، ٹینک اور ہر طرع کا اسلحہ خریدنے پر خرچے ، یہ خرچے بھی دفاعی بجٹ میں شامل نہیں ہوتے ، اور عمران حکومت کے نو ماہ میں لیے 3 کھرب کے قرضے۔
آپ دس سالوں میں 24 کھرب کے قرضوں کو لے کر بیٹھے ہیں۔ جس میں ن لیگ حکومت نے اپنے 5 سالوں میں 12 ہزار میگا واٹ بجلی میں اضافہ کیا۔ لوڈشیڈنگ ختم کی۔ موٹر ویز بنائیں ۔ گوادر بندرگاہ کو شروع کیا۔ اور بے شمار ترقیاتی پروجیکٹس مکمل کیے۔ ان ستر سالوں میں کئی ہزار کھرب خرچ ہو گئے۔ لینا ہے تو ان کا بھی حساب لیں۔ جن کی وجہ سے آج بھی 57 ارب تعلیم کے لیے اور 37 ارب صحت کے لیے بچتا ہے۔ جہاں 71 کھرب کے بجٹ میں 31 کھرب کا خسارہ ہے۔ جہاں پچھلے بجٹ کا ٹیکس ہدف پورا نہ ہو سکا۔ اور ساڑھے چار سو ملین کم رہا۔ اور موجودہ بجٹ میں آپ کا ٹیکس ہدف ساڑھے پچپن کھرب ہے۔ جو پچھلے ہدف سے 11 کھرب زیادہ ہے۔ وہ آپ کہاں سے مکمل کریں گے۔ جب افراط زر 9.5 کی شرح سے بڑھ رہا ہو۔ جب معاشی نمو کی شرح 5.8 سے تین فیصد پر گر گئی ہو۔ جب بنک سود کی شرح 8.5 سے 12.25 پر چلی گئی ہو۔ جب کرنسی کی گراوٹ 35 فیصد تک گر گئی ہو۔ جب سرمایہ کاری پچھہتر فیصد کم ہو گئی ہو۔ جب نئی نوکریاں نہ نکل رھی ہوں۔ جب نئے پروجیکٹس نہ لگ رہے ہوں۔ جب مہنگائی اور بچتیں نہ ہونے سے عام صارفین کی قوت خرید ختم ہو رہی ہو۔ جب تجارتی و صنعتی سرگرمیاں تقریبا رک چکی ہوں۔ جب زرمبادلہ کے ذخائر خشک ہو چکے ہوں ۔ جب مارکیٹ اپنا اعتماد کھو چکی ہو۔ جب سرمائے کی پرواز جاری ہو۔ اور جب آپ اس بگڑتی ہوئی صورتحال کو بریکیں لگانے کی بجائے اپنے سیاسی مخالفین کو ڈرا دھمکا رہے ہوں۔ جب آپ ترجیحات طے کرنے میں مکمل ناکام ہو چکے ہوں۔ جب آپ دس سال پر مشتمل کمیشن بنائیں۔ اور جنرل مشرف کے دور کو اگنور کر دیں۔ نہیں جناب ایسے نہیں۔ میں نے اوپر جو ستر سال کے قرضوں اور امداد کی فہرست مہیا کی ہے۔ یا تو اس پر عمل کریں۔ اور یا پھر تسلیم کریں۔ آپ کا احتساب محض آپ کا سیاسی انتقام ہے۔ جسے آپ اپنی انا اور اپنے فالوورز کی زہنی تسکین کے لیے عمل میں لا رہے ہیں۔ کم از کم یہی بتا دیں۔ ان دس ماہ میں آپ کی کامیابی کیا ہے۔ احتساب اور تفتیش تو عدالتوں اور ایجنسیوں کا کام ہے۔ آپ بتائیں آپ نے کیا کیا ہے۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں ہم پچھلے قرضے واپس کر رہے ہیں۔ چلیں یہی بتا دیں۔ کتنا قرض واپس کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک تو کہہ رہا ہے۔ قرضے بڑھ گئے ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *