ہمارے ہسپتالوں کی حالتِ زار

" ظریف  بلوچ "
یہ منظر اس خاندان پر کسی اذیت سے کم نہیں ہوگا جب ہسپتال کے بیڈ نما فرش پر پڑا معصوم بچہ تڑپ تڑپ کر آخری سانسیں لے رہا ہو اور جان بچانے کے لیے کوئی امید تک میسر نہ ہو۔ جہاں لاشوں کو ایمبولینس کی بجائے عام گاڑیوں میں ڈال کر لے جایا جا رہا ہو۔ جہاں کسی کی جانب سے عطیہ کیا گیا جرنیٹر محض اس وجہ سے چل نہیں رہا ہو کہ ایمرجنسی کے لیے بھی فیول تک میسر نہیں ہے۔ جہاں آکسیجن کے چند سلینڈر اس لیے دستیاب نہ ہوں کہ بجٹ نہیں ہے اور ہسپتال انتظامیہ اسی انتظار میں بیٹھی ہو کہ کوئی مسیحا آ کر آکسیجن کے چند سلینڈر عطیہ کرے۔ جہاں رات کے آخری پہر ہسپتال کا رخ کرنے والے مریضوں کے لیے ڈسپرین اور درد کا انجکشن دستیاب نہ ہو۔ جہاں دوپہر کے بعد بخار اور کھانسی کا علاج یہ کہہ کر نہیں ہوتا ہے کہ شام کو صرف ایمرجسنی کے گیٹ کا دروازہ کھلا ہوتا ہے۔ تب یہ خیال ضرور آتا ہے کہ کون سی ایمرجسنی؟۔ ایمرجسنی میں وہ مریض آتے ہیں جو زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہوتے ہیں اور یہاں ان کو بچانے کے لیے آکسیجن تک میسر نہیں۔
کسی خوبصورت بلڈنگ میں شعبہ حادثات کا بورڈ آویزاں دیکھ کر مجھے بعض اوقات شہر خموشاں کی وہ قبریں یاد آتے ہیں، جنہیں پانچ صدی پہلے اس طرح خوبصورتی کے ساتھ نقش و نگار کر کے بنایا گیا تھا۔ جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پانچ صدی پہلے جب یہاں تہذیب و تمدن اور مُردوں کا عزت دینے کا رواج تھا۔ اور آج اکیسیویں صدی میں  ہسپتال کے فرش پر تڑپ تڑپ کر مریض آخری ہچکی لے کر اس دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔
ایک سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اسی ہسپتال کو میڈیسن اور طبی آلات کا جو کوٹہ ملتا ہے، وہ کہاں ہے؟۔ محمکہ صحت کے ذمہ داران آکسیجن کے چند سلینڈر فراہم کرنے سے کیوں قاصر ہیں؟۔ جرنیٹر کے لیے فیول کا انتظام اور ایمبولینس کا بروقت موجود نہ ہونا کس کی غفلت و لاپرواہی ہے؟۔
ویسے اس بات پر ہمیں کوئی گلہ نہیں کہ پسنی کے واحد رورل ہیلتھ سینٹر میں ملیریا اور بلڈ کے عام ٹیست تک نہیں ہوتے ہیں۔ یہ بھی جانتے ہیں کہ تشخیص کے بغیر علاج ممکن نہیں۔ پھر مریضوں کا رش دیکھ کر ایک اور سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے؟۔
حادثات ہوتے رہتے ہیں، ماؤں کے لخت جگر تڑپ تڑپ کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ عورتیں بیوہ ہو جاتی ہیں۔ ہم سانحات کو حادثات سمجھ کر اپنی زندگی میں دوبارہ ایسے مشغول ہو جاتے ہیں کہ پھر کوئی اور سانحہ ہمیں خوابِ خرگوش سے جگاتا ہے۔ پھر وہی سوالات ہوتے ہیں جن کا جواب تلاش کیے بغیر کسی کو موردِ الزام ٹھہرا کر سکھ کا سانس لے کر پھر نیند کی آغوش میں ایسے چلے جاتے ہیں کہ جیسے کچھ ہوا نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *