فیس بک کا نئی ڈیجیٹل کرنسی ’لبرا‘ متعارف کرنے کا اعلان

فیس بک نے نئی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کا نام ’لبرا‘ ہو گا۔

اس منصوبے میں بتایا گیا ہے کہ فیس بک کے صارفین فیس بک کی ایپ یا پیغام دینے والے پلیٹ فارم ’وٹس ایپ‘ کے ذریعے اپنی ادائیگیاں کر سکیں گے۔

فیس بک کا کہنا ہے ’اُوبر‘ اور کریڈٹ کارڈ کمپنی ’ویزا‘ اس نظام کو قبول کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔

تاہم اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ صارفین کے ذاتی ڈیٹا کو کس طرح محفوظ بنایا جائے گا اور کرنسی کے بھاؤ میں اتار چڑھاؤ سے ان کو کس طرح محفوظ رکھا جا سکے گا۔

فیس بک کا دعویٰ ہے کہ ’لِبرا‘ کو آزادانہ طریقے سے چلایا جائے گا اور اس کی پشت پر حقیقی اور ٹھوس اثاثے موجود ہوں گے۔ اس کے علاوہ اس کرنسی میں ادائیگیاں اتنی ہی آسان ہوں گی جتنی کہ ٹیکسٹ بھیجنے میں آسانی ہوتی ہے۔

گوگل پے، ایپل پے اور سیم سنگ پے کے بعد ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے ادائیگیوں کے میدان میں ٹیکنالوجی کی ایک بڑی کمپنی کا یہ ایک نیا دھاوا ہے لیکن ان ادائیگیوں کے کسی بھی نظام کا ’کریپٹو کرنسی‘ پر انحصار نہیں ہے۔

فیس بک کیلبرا کرنسی لبرا

اس کا فیس بک کے صارفین کے لیے کیا مطلب ہوگا؟

فیس بک کے مطابق، اگلے برس سے آپ لبرا کرنسی اس کے تقرر شدہ ’پلیٹ فارمز‘ سے خرید سکیں گے اور انھیں اپنے ’ڈیجیٹل‘ بٹوے ’کیلِبرا‘ میں محفوظ رکھ سکیں گے۔

’آپ دوسرے صارفین کو لبرا اتنی ہی آسانی سے بھیج سکیں گے جتنی آسانی سے آپ ایک ٹیکسٹ میسیج بھیج سکتے ہیں۔‘

’وقت کے ساتھ ساتھ ہم عام صارفین اور کاروباری اداروں کو اضافی خدمات بھی فراہم کر سکیں گے جن میں ایک کلک کے ذریعے بلوں کی ادائیگیاں، سکین کوڈ کے ذریعے چائے کے ایک کپ کی قیمت کی ادائیگی یا کیش یا ٹریول پاس کے بغیر اپنی مقامی سفری سہولت کے استعمال کا کرایا دینا بھی شامل ہو گا۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ یہ ادائیگیاں بہت کم قیمت پر کی جاسکیں گیں، البتہ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے کی جانے والی ادائیگیوں میں سے تھوڑا کمیشن بھی کاٹے گی۔

ٹیکنالوجی کے نامہ نگار روری سیلن جونز کا تجزیہ

یہ بہت ہی بڑا منصوبہ ہے اور شاید کچھ لوگ اسے عالمی کرنسی کے اجرا کا عظیم خبط بھی کہیں۔

لیکن پیغام واضح ہے کہ مینلو پارک میں ایک بڑی کمپنی کے ہیڈ کوارٹر کے پہلو میں کوئی چھوٹا سا کام نہیں ہے جو شاید اس منصوبے پر کچھ ماہ کے لیے طبع آزمائی کرے اور پھر بعد میں کسی اور منصوبے کی طرف بڑھ جائے۔

یہ فیس بک کا اور کرنسی کا مستقبل ہے، اس کوشش میں ’پے پال‘ اور ’ویزا‘ جیسی ادائیگیاں کرنے والی کئی بڑی بڑی کمپنیاں، کاروبار کرنے والی ’اوبر‘ اور ’لِفٹ‘ جیسی کمپنیاں اور سرمایہ کاری کرنے والے فنڈز کے ساتھ اتحاد بن رہا ہے۔

تاہم ابھی تک ’فیس کوئن‘ یا لبرا کے بارے میں ایسے کئی سوالات ہیں جن کے جوابات نہیں دیے جا سکے ہیں۔ اور سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ ایسی کرنسی کی صرورت ہی کیوں ہے؟

’لِبرا‘ کن کن کے لیے قابلِ قبول ہوگا؟

فیس بک کا اصرار ہے کہ اس کرنسی کو چند کمپنیوں اور خیراتی اداروں کا ایک گروپ آزادانہ طریقے سے چلائے گا جس میں فیس بک بھی شامل ہو گا۔ یہ گروپ ’لِبرا ایسوسی ایشن‘ کہلائے گا۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ بالآخر لبرا اس گروپ کی تمام رکن کمپنیوں کے لیے قابلِ قبول کرنسی بن جائے گی۔ اس گروپ میں شامل کمپنیاں یہ ہیں:

  • پے پال اور ماسٹر ویزا جیسی ادائیگیوں کی کمپنیاں
  • ای بے، سپوٹی فائی اور اوبر جیسی ڈیجیٹل کاروبار کرنے والی کمپنیاں
  • ووڈ افون جیسی ٹیلی کام کمپنیاں
  • اور مائیکرو فائنانسنگ کرنے والے ویمن ورلڈ بینکنگ جیسے خیراتی ادارے

فیس بک کا یہ بھی کہنا مستقبل میں لبرا کی خرید و فروخت دوسری کرنسیوں کی طرح کھلی منڈیوں میں ہوگی۔

فیس بک کیلبرا کرنسی لبرا

فیس بک ایسا کر ہی کیوں رہا ہے؟

فیس بک کا کہنا ہے کہ لبرا کا اصل ہدف دنیا کے وہ پونے دو ارب افراد ہیں جن کے اپنے بینک اکاؤنٹ نہیں ہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ بینک کے نظام کا حصہ نہ ہونے کے مسئلے سے ترقی پذیر ممالک کے لوگ اور خاص کر خواتین غیر متناسب حد تک دو چار ہیں۔

اگرچہ فیس بک کا کہنا ہے کہ لبرا کرنسی عالمی سطح پر استعمال ہو گی لیکن ایپس اور وہ کمپنیاں جو اس کرنسی کو استعمال کریں گیں انھیں مقامی منڈیوں کے اصول و ضوابط کے مطابق کام کرنا ہو گا۔

اس کرنسی کے امریکہ میں آغاز کے لیے حالات سازگار ہیں لیکن دیکھنا ہے کہ انڈیا جیسے ممالک اس کے بارے میں کیا گنجائش پیدا کرتے ہیں۔ انڈیا نے پہلے ہی ڈیجیٹل کرنسیوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

گذشتہ ماہ شائع ہونے والی خبروں کے مطابق صرف 12 ممالک کی منڈیاں ہیں جو لبرا کے آغاز کے وقت اس کے لیے سازگار ہوں گی۔

تشویش کس بات کی ہے؟

فیس بک کو امریکی سیاستدانوں کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں خاص طور پر یہ کہ یہ کرنسی کس طرح استعمال ہو گی؟ صارفیں کا تحفظ کس طرح کیا جائے گا؟ اور صارفین کا ڈیٹا کس طرح محفوظ رکھا جا سکے گا؟

انٹرنیٹ کی دوسری کرنسیاں، مثلاً بِٹ کوئن کی قدر اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے اور اسے منی لانڈرنگ کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔

اسی دوران فیس بک پر صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ بنانے میں ناکامی پر بھی ماضی میں اسے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

فیس بک کا خیال ہے کہ وہ لبرا کی قدر کو اچانک اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے اس کو برطانوی پاؤنڈ، امریکی ڈالر، جاپانی ین اور یورو جیسی مستحکم کرنسیوں کی ایک مجموعی قدر کے ساتھ جوڑ کے رکھے گا۔

فیس بک کیلبرا کرنسی لبرا

فیس بک کا دعویٰ ہے کہ کیلِبرا کے ادائیگیوں کے نظام میں صارفین کی دولت اور ذاتی معلومات کو محفوظ بنانے کا نظام بنایا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کیلیبرا وہ حفاظتی نظام استعمال کرے گا جو کہ اس وقت بینک استعمال کر رہے ہیں، فراڈ کو روکنے کا بھی وہی نظام استعمال کرے گا جو کہ بینک استعمال کر رہے ہیں اور کسی کے ساتھ دھوکہ دہی کی صورت میں اس کی چوری شدہ رقم اسے واپس کر دی جائے گا۔

کیا پہلے بھی ایسا ہی نہیں ہوتا رہا ہے؟

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ فیس بک نے کرنسی کے کام میں ہاتھ ڈالا ہے۔ ایک دہائی پہلے فیس بک نے ’فیس بک کریڈٹ‘ کا آعاز کیا تھا جو کہ انٹرنیٹ پر ایک ’ورچؤل کرنسی‘ تھی۔ اس کے استعمال سے فیس بک کے صارفین سوشل نیٹ ورک سائٹس پر مختلف ایپس کے ذریعے خرید و فروخت کرتے تھے۔

تاہم فیس بک نے دو برس بعد ہی اس کام کو اس لیے بند کردیا تھا کیونکہ وہ صارفین کو راغب کرنے میں ناکام رہا تھا۔

فیس بک کا اصل امتحان اس وقت آئے گا جب صارفین اس پر اتنا اعتماد کریں کہ اپنا کیش دے کر اس کی کرنسی کو خریدیں۔

اس نظام میں صارفین کا اعتماد پیدا کرنے کے لیے فیس بک حکومتوں سے، مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں سے، ریگیولیٹرز سے اور امریکہ کے محکمۂ خزانہ اور بینک آف انگلینڈ کے اعلیٰ اہلکاروں سے رابطے کرتا رہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *