قومی اسمبلی: قائد حزب اختلاف نے تحریک انصاف حکومت کا بجٹ رد کردیا

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار سابق صدر آصف علی زرداری اور دیگر گرفتار اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا کہتے ہوئے اسمبلی میں ان کی موجودگی یقینی بنانے کا مطالبہ کردیا۔

ساتھ ہی بجٹ پر بحث کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے تحریک انصاف حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا وفاقی بجٹ کو مکمل طور پر رد کردیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں جاری ہے اور تقریباً 3 روز کی ہنگامہ آرائی کے بعد آج اسمبلی اجلاس کا ماحول بہتر رہا اور اپوزیشن اراکین نے اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔

اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا—اسکرین شاٹ

اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

اجلاس کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری اس ملک کے صدر رہے ہیں، انہوں نے 11 سال جیل میں گزارے لیکن وہ ہر کیس میں بری ہوئے اور ہم آج بھی ہر فورم پر لڑ رہے ہیں اور آصف زرداری بری ہوں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نوابشاہ، لاہور، جنوبی و شمالی وزیرستان کے عوام کو کیسے اس بجٹ عمل سے باہر رکھ سکتے ہیں، جو سب چل رہا ہے وہ جمہوریت اور اس ایوان کی توہین ہے، افسوس کے ساتھ یہ محسوس ہورہا ہے کہ اسپیکر کی کرسی سے جو وعدے کیے گئے ہیں وہ پورے نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ میں پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ ہمارا حق اور ایوان کی روایت پورا کرتے ہوئے آصف زرداری اور دیگر گرفتار اراکین قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کریں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کے اظہار خیال کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے طویل خطاب کیا اور ماضی کی کارکردگی اور موجودہ حکومت کے بجٹ پر گفتگو کی۔

اپنے خطاب کے آغاز میں انہوں نے کہا کہ خدا خدا کرکے یہ موقع آیا کہ ہم ایک دوسرے کی بات سنیں، گزشتہ دنوں میں ایوان کا جو وقت ضائع ہوا وہ اس ایوان کے منافی ہے۔

قومی اسمبلی میں شہباز شریف نے طویل خطاب کیا—اسکرین شاٹ

قومی اسمبلی میں شہباز شریف نے طویل خطاب کیا

شہباز شریف نے کہا کہ سابق صدر اور لاڑکانہ سے منتخب آصف زرداری، لاہور کے ایم این اے خواجہ سعد رفیق، محسن داوڑ اور دیگر گرفتار 4 رکن اسمبلی اس ایوان کے معزز رکن ہیں، لہٰذا ان کی ایوان میں موجودگی یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اراکین اپنے علاقوں سے لاکھوں ووٹ لے کر ان کی ترجمانی کے لیے ایوان میں آئے ہیں، بجٹ سیشن وہ موقع ہے کہ جب ان تمام اراکین کی موجودگی ضروری ہے اور یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ ان کی موجودگی یقینی بنائیں۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 2013 میں عوام کے اصلی ووٹوں سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت منتخب ہوئی تو پہلا چیلنج بجلی کی لوڈشیڈنگ تھی جو جنرل مشرف کے دور سے چلی آرہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے کچھ مشینیں رکھ کر فیتا کاٹ کر کہا کہ میں نے بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا جبکہ قوم جانتی تھی کہ سنگ بنیاد دور کی بات ہے بلکہ اس کی زمین کے لیے ایک دمڑی تک مہیا نہیں کی گئی تھی، صرف لوگوں کو ورغلانے اور دھوکے کے ساتھ اس ڈیم کا سنگ بنیاد رکھنے کی کوشش کی لیکن عوام نے انتخابات نے انہیں مسترد کردیا جبکہ اسی طرح پاکستان کے لیے ضروری منصوبوں پر بھی کوئی کام نہیں ہوا۔

شہباز شریف نے کہا کہ جب ہمیں ذمہ داری سونپی گئی تو بجلی کا بحران ایک چیلنج تھا اور میں نے جذبات میں آکر کہا کہ اللہ نے ہمیں موقع دیا تو ہم 6 ماہ میں بجلی کا مسئلہ ختم کردیں گے کیونکہ یہ میری خواہش تھی، تاہم اللہ نے ہماری مدد کی لیکن پی ٹی آئی کی اپوزیشن نے بدترین افراتفری اور سازش کا جال بنا، اس کی گواہی پوری قوم دے گی کہ کس طرح 7 مہینے ڈی چوک پر افراتفری کا ماحول رہا اور ملکی معیشت کو منفی ہتھکنڈوں سے تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ستمبر 2014 میں چینی صدر پاکستان آرہے تھے اور حکومت نے کوشش کی کہ ان کا دورہ ہوجائے اور پی ٹی آئی کی اپوزیشن کے تمام سازشوں، افراتفری، منفی ہتھکنڈوں کے باوجود درخواست کی گئی کہ 3 دن کے لیے ڈی چوک سے اٹھ جائیں لیکن بات نہیں مانی گئی اور چینی صدر کا دورہ ملتوی ہوگیا۔

قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ چینی صدر کے دورے کو ملتوی کروانے کا پی ٹی آئی کا فیصلہ ملک دشمنی کے مترادف تھا یہ وہ وجوہات تھیں جس کی وجہ سے ہمیں یہ چیلنجز قبول کرنے پڑے اور پھر چینی صدر کا دورہ 7 ماہ کی تاخٰیر سے ہوا۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا میں پاکستان کے چند دوست ہیں، سعودی عرب، ترکی، چین ہمارے بہترین دوستوں میں شامل ہوتے ہیں لیکن اس دور میں جب دہشت گردی، افراتفری اور بجلی کے بحران نے پنجے گاڑ رکھے تھے اس وقت چین ہماری مدد کو آیا اور نواز شریف کے ساتھ مل کر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا معاہدہ کیا اور اس کے ذریعے 60 ارب ڈالر پاکستان کے حوالے کیے اور ملک میں منصوبے بنائے گئے۔

اسمبلی اجلاس سے خطاب میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ عوام کے لیے مایوسی، انہیں اندھیرے میں ڈالنے کا پیغام، روزگار چھینے، بیواؤں کا رزق چھینے، مریضوں کی دوائی چھینے، طالبعلموں کا حق چھیننے آیا ہے، ہم اس عوام اور پاکستان دشمن بجٹ کو فی الفور رد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ ظلم کی تلوار ہے جو معاشی طور پر عام آدمی کی گردن کاٹنے کے لیے آیا ہے، یہ کسان کی روٹی اس سے چھیننا چاہتا ہے، اگر عوام کی خیر خواہی کے لیے بجٹ بنانا ہوتا تو یہ 5 شعبوں پر توجہ لازمی ہونی چاہیے تھی، جس میں سب سے پہلے نوجوانوں کے لیے ملازمت کو دیکھتے، مہنگائی کو اور کم کرتے، جی ڈی پی کو بڑھاتے، کاروبار اور برآمدات کو بڑھاتے اور سماجی اور معاشی انصاف کو دیکھنا چاہئے تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں یہ 5 اہم شعبے غائب ہیں اور یہ بجٹ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشاورت سے نہیں بنا بلکہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے بنایا ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پے رول پر پاکستان کے اہم اداروں میں بٹھائے گئے لوگوں کو کیا پتہ کہ یتیم بچہ یا بیوہ کس طرح زندگی بسر کر رہے ہیں، انہیں کیا معلوم کے ہسپتالوں میں ادویات مل رہیں یا نہیں، یہاں کہ تعلیمی ضروریات کا انہیں کیا پتہ جبکہ انہیں بیروزگاری کے بارے میں کیا پتہ کیونکہ وہ تو صرف ایک بات جانتے ہیں کہ ترقیاتی رقوم کو کم کرنا، پریمیئم ریٹ بڑھانا ہے چاہے اس سے غریب آدمی کی چیخیں نکل جائیں۔

انہوں نے کہا اُن لوگوں کو غریب آدمی کی پرواہ نہیں، انہیں صرف اپنے مقررہ پیٹرن کی پیروی کرنا ہے، جس کی مثال مصر اور وینیزویلا ہے، آئی ایم نے وینیزویلا کی معیشت کا بھتہ بھٹا دیا، یہ بجٹ عوام کی موم بتی کے چراغ کو گل کرنے اور ان کی امیدوں کو قتل کرنے آیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *